ایرانی رکنِ پارلیمنٹ جناب ابراہیم رضائی کا یہ ارشاد کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ محض ایک کاغذی دستاویز ہے جو حقیقی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، علمی اور تجزیاتی نقطۂ نظر سے سنجیدہ غور و ف
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
تایا جارہا ہے کہ حکومت مظاہرین پر بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی عائد کر رہی ہے۔ مختلف ذرائع سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مستند معلومات اور غیرجانبدار تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔
عابدمحمودعزام
ہندوستان بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں کی تحریک نے کامیابی حاصل کی اور اسمیں بنگلہ دیشی نوجوانوں نے اپنے خون سے تحریک کو کامیاب کیا پاکستان میں نوجوان نکلے ضرور مگر یہاں جزوی کامیابی ملی۔
نقطہ نظر/فیض اللہ خان
ہڈرزفیلڈ ختمِ نبوت کانفرنس صرف ایک اجتماع نہیں، بلکہ برطانیہ میں جاری ایک اہم فکری اور دینی تبدیلی کی عکاس ہے۔ آنے والا وقت اس کانفرنس کی اہمیت اور اس کے اثرات کو مزید واضح کرے گاان شاء اللہ!
مولاناسہیل باوا،برطانیہ
کامیابی کا معیار صرف فائلوں کی نقل و حرکت یا اجلاسوں کی تعداد نہیں ،بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، محصولات میں اضافہ، مالی نظم و ضبط، شفافیت، عوامی اطمینان اور خدمات کے معیار میں بہتری ہے۔
کرنل (ر) ابرار اسماعیل
غزہ کے عوام نے جنگ، محاصرے، نقل مکانی اور تباہی کی ناقابلِ بیان قیمت ادا کی ہے۔ اب وہ صرف ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے نہیں بلکہ امن، استحکام، تعمیر نو اور باوقار زندگی کے منتظر ہیں۔
نوید مسعود ہاشمی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے علم کو، اختلاف کے بجائے اتحاد کو، نفرت کے بجائے خیر خواہی کو، اور رسموں کے بجائے سنت کو اپنائیں۔
194- محمد عثمان انصاری
مستقبل قریب میں واضح ہوسکے گاکہ ولایتِ فقیہ کانظام سرے سے ختم کردیاجاتاہے یابے روح وبے جان کردیاجاتاہے؟
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
امت مسلمہ اگر غفلت چھوڑ دے، بیدار ہو جائے، اور متحد ہو جائے، تو نہ ڈیل آف دی سینچری کامیاب ہو سکتی ہے، نہ ابراہیم معاہدہ جیسا کوئی منصوبہ۔یادرکھیں !مسئلہ فلسطین، امت مسلمہ کی غیرت، عقیدے اور بقا کا مسئلہ ہے ۔
مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ
چند افراد سے ایک عالمی تحریک بننے کی کہانی
صوفی محمد رمضان چھینہ،اسلام آباد
تقسیم سے پہلے ھم انگریز کی غلامی کرتے تھے1947 کے بعد ھم انگریزی کی غلامی کرتے چلے آ رہے ہیں. فرق اب صرف اتنا ہے کہ ھم جسمانی طور پر چاہے آذاد بھی ہو چکے ہوں ٫ مگر ذہنی طور پر اب بھی غلام ھی ہیں اور مان لیجیئے کہ یہی
مک ارسلان عباس، فرینکفرٹ