ایک عجمی کا خطاط المسجد النبوی ﷺ پانا ایک معجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں۔ آج حرم مکی کے امام، حرم مدنی کے خطاط سے ملنے میں سعادت اور فخر سمجھتے ہیں۔
-ایک قاری کاانتخاب
ہاشم خان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدا کتنی چھوٹی ہے، یہ اہم نہیں ۔۔۔ انسان اپنی محنت سے کہاں پہنچتا ہے؟ اصل کہانی وہ ہوتی ہے۔اسکواش چیمپئین ہاشم خان کی کہانی
عبیداللہ صدیقی
وہ تنہا اپنی اس کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری کی طرف بڑھے جہاں کتابوں کے ڈھیر ہر طرف جمع تھے۔ اچانک کتابوں کی بھاری جلدیں ان پر آ گریں اور وہ انہی کتابوں کے نیچے دب کر دنیا سے رخصت ہو گئے.
حنظلہ خلیق
وہ صحابیؓ جو مدینہ سے چلے… اور بیت المقدس کی مٹی سے اپنا رشتہ جوڑ گئے!
مولانامختارالمصطفیٰ
یہ بزرگ متبع سنت تھے ، خدا کرے کہ ان سے محبت رکھنے والوں کو بھی یہ ذوق نصیب ہو ، اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کی زندگی سے سیکھنے کے جو اصل اسباق ہیں ، ان کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جنید اشفاق اٹکی
نام دنیا میں کتنا مشہور ہوا، یہ اہم نہیں…اصل سوال یہ ہے کہ ہماری صلاحیت اللہ کے ہاں کتنی مقبول ہوئی؟ اگر اللہ نے آپ کو بھی کوئی ہنر، علم یا صلاحیت عطا کی ہے تو آپ اسے اپنی ذات کے لیے استعمال کر رہے ہیں… یا اللہ کی مخلو
-ایک قاری کاانتخاب
روئیے دل کھول کر روئیے کہ ان کی مفارقت کا غم ایمان کی علامت ہے۔ مگر اس غم کو مایوسی نہ بننے دیجیے۔ ان اکابرین کا رب آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اٹھائیے اپنے ہاتھ، اور اپنے آنسوؤں کو ان کے درجات کی بلندی کا ذریع
مولاناانس انور بدخشانی
اس نام کی آبرو رکھنا اور اپنی زندگی کے 60 قیمتی سالوں کو 'خدمت' کا مجسمہ بنا دینا استاد جی خادم حسین صاحب کا اپنا انتخاب تھا۔اللہ رب العزت استاد جی خادم حسین صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
حضرت شیخ کی پوری زندگی اتباعِ سنت، اکرامِ مسلم، مہمان نوازی اور حسنِ اخلاق کے ایسے بے شمار واقعات سے عبارت ہے کہ اگر انہیں قلم بند کرنے بیٹھا جائے تو بڑے بڑے دفتر بھی کم پڑ جائیں۔
محمدعارف بلوچ
یں تمہیں معاف کروں گا، لیکن ایک شرط پر! کہ تم میری بیٹی سے شادی کرو! لیکن وہ اندھی، گونگی، بہری اور بیٹھی ہوئی ہے، چل نہیں سکتی۔ اگر تم مان جاؤ تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔
غلام غفور
علامہ جیسی ہستیاں ہمیشہ پیدا نہیں ہوتیں، پاکستان میں حضرت علامہؒ کا احترام و اکرام ہر طبقہ نے اس پہلو سے تو بہت کیا، جس کے نہ وہ آرزومند تھے اور نہ جس سے ان کی عظمت میں اضافہ ہوسکتا تھا، مگر افسوس کہ ان کی گہری فکری رہبر
طارق علی عباسی
انہیں معلوم تھا کہ کسی کی گم شدہ رقم پر نظر ڈالنا بھی خیانت ہے، خواہ مالک کا سات سال تک کوئی پتا ہی کیوں نہ ہو.
محمد غزالی خان
واقعی اللہ والوں کی تلاش ، ان سے عقیدت ومحبت کا تعلق بہت سے فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے
مولانا محمد طفیل کوہاٹی
حالیہ احتجاج نے انہیں قومی سطح پر ایک نمایاں طلبہ رہنما کے طور پر مزید شہرت دلائی اور ان کی سرگرمیوں کو وسیع عوامی توجہ حاصل ہوئی.
حفظ الرحمٰن قاسمی
امجدمحمود
مولانا مفتی محمد شفیع ؒ برصغیر کے نامور عالمِ دین، مفتی اعظمِ پاکستان، فقیہ، مفسر اور ممتاز ادبی و علمی مؤلف تھے،دینی خدمات کامختصر جائزہ۔
محمدآصف معاویہ
خطبے کے دوران حدیث اور محدثین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے امام بخاریؒ کے ساتھ پاکستان کے عظیم عالم شیخ الاسلام، محدث مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کا نام نہایت احترام سے لیا گیا۔
عمارخان یاسر
فرض نماز ختم ہونے کے بعد کوئی ایک ! جی ہاں محاورتا نہیں حقیقتا ! کوئی ایک نمازی بھی مصلی اٹھا کر باہر نہیں بھاگا۔ جیسے جماعت کے لئے صف تھی بالکل اسی طرح سب کھڑے ہو گئے اور بقیہ سنتیں پڑھنے لگے۔
مولانامحمد ارسلان سیال
آج المیہ یہ ہے کہ علماء کی توہین تو عام ہوگئی، اس سے بھی بڑھ کر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جن میں ازواجِ مطہرات اور اولادِ اطہار بھی شامل ہیں، ان کی شان میں ایسی ایسی باتیں کہی اور لکھی جاتی ہیں کہ انہیں پڑھنا یا سن
مفتی سفیان بلند
آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت ادارے کے لئے ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھی ،یقینا آپ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ،اس کی کمی مدت تک محسوس کی جاتی رہے گی۔
مولانامحمد یاسر حبیب مختار
مولانا افتخار اعظمی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں علم کی گہرائی عطا فرمائی، وہیں غیر معمولی قوتِ گویائی سے بھی نوازا تھا۔انتظامی امور میں بھی آپ کو غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
مولانالطیف الرحمن لطف
سید سلمان ندوی مرحوم کے آخری دور کے افکار، تعبیرات اور منہج کی ہم تائید نہیں کرتے۔ ان کی نسبت اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی طرف کرنا درست نہیں ۔
مفتی سفیان بلند
وہ محض ایک فقیہ، محدث، مفسر یا صوفی نہ تھے، بلکہ ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی علمی وسعت، فکری اعتدال، تربیتی بصیرت اور اصلاحی حکمت عطا فرمائی تھی.
ڈاكٹر محمداكرم ندوى، آكسفورڈ
20 جون کی شام جب شیخ الحدیث مولانا مفتی محمدنعیم صاحب ہم سے جدا ہوئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری زندگیوں کی بھی شام ہوگئی ہے۔
مولانا رشیداحمدسواتی
سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور مقدس شخصیات ہیں جن کا ذکر آتے ہی محبت، عقیدت، احترام اور ادب کے جذبات دلوں میں موجزن ہو جاتے ہیں۔
نوید مسعود ہاشمی
عبادالرحمان المعروف عابی مکنھوی
آپؓ کی پرورش براہِ راست نبوی ماحول میں ہوئی، اسی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی زندگی میں تقویٰ، شجاعت، صبر اور حق پسندی نمایاں نظر آتی ہے۔
نذرمحمدبلوچ
وہ صرف اپنے ادارے یا اپنے ماحول تک نہیں سوچتے تھے بلکہ ان کی نگاہ ہمیشہ اس سے آگے ہوتی تھی۔
مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ
20 جون 2020ء کی وہ المناک گھڑی جب مفتی محمد نعیم ؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ،وہ حقیقت میں علم و عمل کے ایک عہد کا خاتمہ اور لاکھوں سروں سے شفقت کے سائے کا اٹھ جانا تھا۔
مولانامحمدنذیرناصر
20 جون 2020ء کو نمازمغرب کی ادائی کے بعدطبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دل کادورہ پڑااور انتقال کرگئے۔ ان کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائدافراد شریک ہوئے۔ جنازہ شیخ الاسلام مفتی محمد
مولانا نعمان نعیم