آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت ادارے کے لئے ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھی ،یقینا آپ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ،اس کی کمی مدت تک محسوس کی جاتی رہے گی۔
مولانامحمد یاسر حبیب مختار
مولانا افتخار اعظمی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں علم کی گہرائی عطا فرمائی، وہیں غیر معمولی قوتِ گویائی سے بھی نوازا تھا۔انتظامی امور میں بھی آپ کو غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
مولانالطیف الرحمن لطف
سید سلمان ندوی مرحوم کے آخری دور کے افکار، تعبیرات اور منہج کی ہم تائید نہیں کرتے۔ ان کی نسبت اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی طرف کرنا درست نہیں ۔
مفتی سفیان بلند
وہ محض ایک فقیہ، محدث، مفسر یا صوفی نہ تھے، بلکہ ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی علمی وسعت، فکری اعتدال، تربیتی بصیرت اور اصلاحی حکمت عطا فرمائی تھی.
ڈاكٹر محمداكرم ندوى، آكسفورڈ
20 جون کی شام جب شیخ الحدیث مولانا مفتی محمدنعیم صاحب ہم سے جدا ہوئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری زندگیوں کی بھی شام ہوگئی ہے۔
مولانا رشیداحمدسواتی
سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور مقدس شخصیات ہیں جن کا ذکر آتے ہی محبت، عقیدت، احترام اور ادب کے جذبات دلوں میں موجزن ہو جاتے ہیں۔
نوید مسعود ہاشمی
عبادالرحمان المعروف عابی مکنھوی
آپؓ کی پرورش براہِ راست نبوی ماحول میں ہوئی، اسی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی زندگی میں تقویٰ، شجاعت، صبر اور حق پسندی نمایاں نظر آتی ہے۔
نذرمحمدبلوچ
وہ صرف اپنے ادارے یا اپنے ماحول تک نہیں سوچتے تھے بلکہ ان کی نگاہ ہمیشہ اس سے آگے ہوتی تھی۔
مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ
20 جون 2020ء کی وہ المناک گھڑی جب مفتی محمد نعیم ؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ،وہ حقیقت میں علم و عمل کے ایک عہد کا خاتمہ اور لاکھوں سروں سے شفقت کے سائے کا اٹھ جانا تھا۔
مولانامحمدنذیرناصر
20 جون 2020ء کو نمازمغرب کی ادائی کے بعدطبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دل کادورہ پڑااور انتقال کرگئے۔ ان کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائدافراد شریک ہوئے۔ جنازہ شیخ الاسلام مفتی محمد
مولانا نعمان نعیم
خلق خدا کی رشد و ہدایت کے لیے تصنیف و تالیف، امامت و خطابت، عوام الناس کی مشکلات کے حل کے لیے جرگہ، دینی مدارس کی خدمت اور مختلف شرور سے ان کی حفاظت، روزانہ دس پاروں کی منزل، میڈیا میں دینی حلقوں کی توانا نمایندگی، اتحاد
مولانا نعمان نعیم
مفتی سیدعدنان کاکاخیل
حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات ایک فرد کی نہیں، ایک علمی روایت، ایک تہذیبی ذوق اور ایک ایسے خانوادے کے فرد کی وفات ہے ، جس نے برصغیر کی علمی روایت میں علم حدیث، اور تحقیق و تصنیف کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخ
مفتی محمد اکمل
194- محمد عثمان انصاری
حضرت والا حضرت حاجی محمد کلیم صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ مجاز تھے، اور حضرت مولانا مفتی محمد حسان کلیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے والدِ گرامی تھے۔
مولانامحمد
قاری عبد المجید صاحبؒ کی یاد میں(ایک تعزیتی و تاثراتی کالم)
ظفر اقبال
عبدالرزاق،کراچی
مجھے لگتا ہے کہ میں ایک پہاڑی موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سے ایک راستہ نیچے اترتا ہے۔ یہ سہولت والا راستہ ہے۔بس ذرا سنبھل کر اترناہے۔
سعودعثمانی
مفتی تقی عثمانی صاحب کی علمی وجاہت، حدیث کی شروحات، اور جدید فقہی مسائل پران کی عالمی گرفت انہیں اس دور میں اس لقب کا سچا مستحق بناتی ہے، چاہے وہ خود اپنی عاجزی کی وجہ سے اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔
مولانامحمدنذیرناصر
مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی شعلہ بیاں مقرر، باعمل عالم دین اور سینکڑوں ہزاروں علماء کے استاذ تھے.
-ایک قاری کاانتخاب
جامع القرآن سیدنا عثمان بن عفان ؓ کی سیرتِ طیبہ فضائل و مناقب کا ایک روشن باب ہے۔آپ کی پیدائش مکہ معظمہ میں ہوئی۔
مولانا نعمان نعیم
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، جامع القرآن، اور ذوالنورین (دو نوروں والے) کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں — حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی ال
مولانامحسن عزیز،فاضل جامعہ بنوریہ عالمیہ
اللہ تعالیٰ نے ذوالنورین کی شہادت طے فرما دی تھی اور مسلمانوں پہ فرض کردیا تھا کہ شہادتِ عثمان کا بدلہ لینا ہے. قربان جاؤں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پہ کہ انہوں نے بیعت رضوان کو پورا کیا اور قاتلینِ عثمان کو
شہنیلہ بیلگم والا
جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے قدیم فاضل ومتخصص مولانامحمد طیب کشمیریؒ (امام وخطیب سبیل والی مسجد کراچی)کی یاد میں
حافظ انوارالحسن
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد انکی چار بیویوں میں ہر ایک کے حصہ میں آٹھواں حصہ 340 کلو سونا بنا،
فیاض خان بیشامی
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا پروفیسر محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی قبرِ کو نور سے بھر دے، ان کی دینی، علمی اور سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ا
محمد عرفان اللہ اختر
الفاظ کے ہیر پھیر کی ضرورت نہیں، یہ کاروبار اقبال شکنی کا ہے۔ ایسا کیوں ہے، اس کی تفصیل دل چسپ بھی ہے اور عبرت خیز بھی۔
ڈاکٹرفاروق عادل
کیا آپ کبھی ان کورس بیچنے والوں کے ہاتھوں سکیم کا شکار ہوئے ہیں؟؟ سکیم اس وجہ سے کہا کہ ان میں سے ۹۹٪ سکیمرز (دھوکا دینے والے) ہی ہوتے ہیں ۔۔اور باقی ۱٪ وہ آپ کی اپنی اہلیت ہے کہ آپ ان کے پیچھے بھاگ دوڑ کر کچھ سیکھ لیں۔
مس عالیہ فاطمہ
استاد صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری اس قدر پذیرائی فرمائی کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہو۔ انہوں نے مجھے ڈھیروں دعاؤں، شکریہ اور حوصلہ افزائی سے نوازا
عابدمحمودعزام