(+92) 319 4080233
پاکســـتانی ہیـــرے

ایک عجمی کا خطاط المسجد النبوی ﷺ پانا ایک معجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں۔ آج حرم مکی کے امام، حرم مدنی کے خطاط سے ملنے میں سعادت اور فخر سمجھتے ہیں۔

-ایک قاری کاانتخاب

63
بال بوائے سے انٹرنیشنل پلیئرتک

ہاشم خان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدا کتنی چھوٹی ہے، یہ اہم نہیں ۔۔۔ انسان اپنی محنت سے کہاں پہنچتا ہے؟ اصل کہانی وہ ہوتی ہے۔اسکواش چیمپئین ہاشم خان کی کہانی

عبیداللہ صدیقی

53
جاحظ کی زندگی پرایک نظر

وہ تنہا اپنی اس کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری کی طرف بڑھے جہاں کتابوں کے ڈھیر ہر طرف جمع تھے۔ اچانک کتابوں کی بھاری جلدیں ان پر آ گریں اور وہ انہی کتابوں کے نیچے دب کر دنیا سے رخصت ہو گئے.

حنظلہ خلیق

78
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ

وہ صحابیؓ جو مدینہ سے چلے… اور بیت المقدس کی مٹی سے اپنا رشتہ جوڑ گئے!

مولانامختارالمصطفیٰ

93
دریائے سندھ کے کنارے مدفون بزرگ

یہ بزرگ متبع سنت تھے ، خدا کرے کہ ان سے محبت رکھنے والوں کو بھی یہ ذوق نصیب ہو ، اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کی زندگی سے سیکھنے کے جو اصل اسباق ہیں ، ان کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جنید اشفاق اٹکی

65
وہ مسجدِ نبوی ﷺ میں صرف عمرہ کرنے آیا تھا

نام دنیا میں کتنا مشہور ہوا، یہ اہم نہیں…اصل سوال یہ ہے کہ ہماری صلاحیت اللہ کے ہاں کتنی مقبول ہوئی؟ اگر اللہ نے آپ کو بھی کوئی ہنر، علم یا صلاحیت عطا کی ہے تو آپ اسے اپنی ذات کے لیے استعمال کر رہے ہیں… یا اللہ کی مخلو

-ایک قاری کاانتخاب

50
ایک سایہ شفقت اٹھ گیا

روئیے دل کھول کر روئیے کہ ان کی مفارقت کا غم ایمان کی علامت ہے۔ مگر اس غم کو مایوسی نہ بننے دیجیے۔ ان اکابرین کا رب آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اٹھائیے اپنے ہاتھ، اور اپنے آنسوؤں کو ان کے درجات کی بلندی کا ذریع

مولاناانس انور بدخشانی

92
دو نسلیں، ایک شمع

اس نام کی آبرو رکھنا اور اپنی زندگی کے 60 قیمتی سالوں کو 'خدمت' کا مجسمہ بنا دینا استاد جی خادم حسین صاحب کا اپنا انتخاب تھا۔اللہ رب العزت استاد جی خادم حسین صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

139
غزالیِ سرحد، شیخ المشائخ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المنان

حضرت شیخ کی پوری زندگی اتباعِ سنت، اکرامِ مسلم، مہمان نوازی اور حسنِ اخلاق کے ایسے بے شمار واقعات سے عبارت ہے کہ اگر انہیں قلم بند کرنے بیٹھا جائے تو بڑے بڑے دفتر بھی کم پڑ جائیں۔

محمدعارف بلوچ

131
امام ابوحنیفہؒ کے والدین کیسے تھے؟

یں تمہیں معاف کروں گا، لیکن ایک شرط پر! کہ تم میری بیٹی سے شادی کرو! لیکن وہ اندھی، گونگی، بہری اور بیٹھی ہوئی ہے، چل نہیں سکتی۔ اگر تم مان جاؤ تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔

غلام غفور

151
علامہ سید سلیمان ندویؒ اور پاکستان

علامہ جیسی ہستیاں ہمیشہ پیدا نہیں ہوتیں، پاکستان میں حضرت علامہؒ کا احترام و اکرام ہر طبقہ نے اس پہلو سے تو بہت کیا، جس کے نہ وہ آرزومند تھے اور نہ جس سے ان کی عظمت میں اضافہ ہوسکتا تھا، مگر افسوس کہ ان کی گہری فکری رہبر

طارق علی عباسی

143
واقعی، کیسے عجیب لوگ تھے

انہیں معلوم تھا کہ کسی کی گم شدہ رقم پر نظر ڈالنا بھی خیانت ہے، خواہ مالک کا سات سال تک کوئی پتا ہی کیوں نہ ہو.

محمد غزالی خان

122
دوبزرگوں کا ایمان افروزتذکرہ

واقعی اللہ والوں کی تلاش ، ان سے عقیدت ومحبت کا تعلق بہت سے فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے

مولانا محمد طفیل کوہاٹی

111
نیہا بورا کون ہیں؟

حالیہ احتجاج نے انہیں قومی سطح پر ایک نمایاں طلبہ رہنما کے طور پر مزید شہرت دلائی اور ان کی سرگرمیوں کو وسیع عوامی توجہ حاصل ہوئی.

حفظ الرحمٰن قاسمی

118
حضرت اویس قرنیؒ

امجدمحمود

183
مفتی محمد شفیع ؒ: تعارف، زندگی اور خدمات

مولانا مفتی محمد شفیع ؒ برصغیر کے نامور عالمِ دین، مفتی اعظمِ پاکستان، فقیہ، مفسر اور ممتاز ادبی و علمی مؤلف تھے،دینی خدمات کامختصر جائزہ۔

محمدآصف معاویہ

147
محدث تقی عثمانی

خطبے کے دوران حدیث اور محدثین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے امام بخاریؒ کے ساتھ پاکستان کے عظیم عالم شیخ الاسلام، محدث مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کا نام نہایت احترام سے لیا گیا۔

عمارخان یاسر

145
دیار غیر میں ہمارا سر فخر سے بلند ہوا

فرض نماز ختم ہونے کے بعد کوئی ایک ! جی ہاں محاورتا نہیں حقیقتا ! کوئی ایک نمازی بھی مصلی اٹھا کر باہر نہیں بھاگا۔ جیسے جماعت کے لئے صف تھی بالکل اسی طرح سب کھڑے ہو گئے اور بقیہ سنتیں پڑھنے لگے۔

مولانامحمد ارسلان سیال

120
بے ادبی، گستاخی اور اجتماعی زوال

آج المیہ یہ ہے کہ علماء کی توہین تو عام ہوگئی، اس سے بھی بڑھ کر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جن میں ازواجِ مطہرات اور اولادِ اطہار بھی شامل ہیں، ان کی شان میں ایسی ایسی باتیں کہی اور لکھی جاتی ہیں کہ انہیں پڑھنا یا سن

مفتی سفیان بلند

155
استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ

آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت ادارے کے لئے ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھی ،یقینا آپ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ،اس کی کمی مدت تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

مولانامحمد یاسر حبیب مختار

231
مولانا افتخار احمد اعظمیؒ کی یاد میں

مولانا افتخار اعظمی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں علم کی گہرائی عطا فرمائی، وہیں غیر معمولی قوتِ گویائی سے بھی نوازا تھا۔انتظامی امور میں بھی آپ کو غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔

مولانالطیف الرحمن لطف

222
سید سلمان حسینی ندوی . علمی خدمات، فکری انحراف

سید سلمان ندوی مرحوم کے آخری دور کے افکار، تعبیرات اور منہج کی ہم تائید نہیں کرتے۔ ان کی نسبت اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی طرف کرنا درست نہیں ۔

مفتی سفیان بلند

248
حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ

وہ محض ایک فقیہ، محدث، مفسر یا صوفی نہ تھے، بلکہ ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی علمی وسعت، فکری اعتدال، تربیتی بصیرت اور اصلاحی حکمت عطا فرمائی تھی.

ڈاكٹر محمداكرم ندوى، آكسفورڈ

167
سب کی نگاہوں کامرکز

20 جون کی شام جب شیخ الحدیث مولانا مفتی محمدنعیم صاحب ہم سے جدا ہوئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری زندگیوں کی بھی شام ہوگئی ہے۔

مولانا رشیداحمدسواتی

174
امن و شجاعت کے پیکر سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما

سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور مقدس شخصیات ہیں جن کا ذکر آتے ہی محبت، عقیدت، احترام اور ادب کے جذبات دلوں میں موجزن ہو جاتے ہیں۔

نوید مسعود ہاشمی

171
وہ ادھیڑ عمر شخص

عبادالرحمان المعروف عابی مکنھوی

156
امام حسینؓ حق، صبر اور محبتِ رسول ﷺ کی روشن مثال

آپؓ کی پرورش براہِ راست نبوی ماحول میں ہوئی، اسی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی زندگی میں تقویٰ، شجاعت، صبر اور حق پسندی نمایاں نظر آتی ہے۔

نذرمحمدبلوچ

148
ایک وسیع النظرعالم

وہ صرف اپنے ادارے یا اپنے ماحول تک نہیں سوچتے تھے بلکہ ان کی نگاہ ہمیشہ اس سے آگے ہوتی تھی۔

مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ

186
محسن و مربی کی یاد میں

20 جون 2020ء کی وہ المناک گھڑی جب مفتی محمد نعیم ؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ،وہ حقیقت میں علم و عمل کے ایک عہد کا خاتمہ اور لاکھوں سروں سے شفقت کے سائے کا اٹھ جانا تھا۔

مولانامحمدنذیرناصر

183
میرے والدگرامیؒ:دوسری اورآخری قسط

20 جون 2020ء کو نمازمغرب کی ادائی کے بعدطبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دل کادورہ پڑااور انتقال کرگئے۔ ان کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائدافراد شریک ہوئے۔ جنازہ شیخ الاسلام مفتی محمد

مولانا نعمان نعیم

177