(+92) 319 4080233
عورتیں گھر سے باہر کیوں سنورکرجاتی ہیں؟

ہمارے مذہب میں زمانہِ جاہلیت کی طرح تیار ہوکر باہر نکلنے سے منع فرمایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ تم اپنے گھروں میں بھی سجا سنورا نہ کرو بلکہ کہا گیا ہے کہ زیبائش شوہر کے لیے ہے۔

انتخاب:کامران آفریدی

35
کل کا بے تاج بادشاہ سڑک کنارے سبزی بیچنے پر مجبور

صرف عزت، دو وقت کا سکون اور اپنے بچوں کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔یہ ہر اس ماں باپ کے مستقبل کا سوال ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دیتا ہے۔

-ایک قاری کاانتخاب

27
نظام کی تباہی کا اعتراف ؟

مولانا فضل الرحمن طویل عرصے سے اس نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف یہ رہا ہے کہ غیر فطری سیاسی بندوبست نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کو بھی کمزور کرتا ہے۔

نوید مسعود ہاشمی

30
یہاں محنت اورکامیابی کی نہیں، موت کی گارنٹی ہے

ب خواب قتل ہونے لگیں تو قومیں صرف آبادی نہیں کھوتیں، اپنا مستقبل کھو دیتی ہیں۔‏اب اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نکلنا ہوگا۔

‏افشاں نوید

37
جب استاد کی عزت مرنے لگے

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم تعلیم کو تجارت بنائیں گے یا خدمت، استاد کو محض ملازم سمجھیں گے یا قوم کا معمار، اور اپنے تعلیمی اداروں کو خوف کی علامت بنائیں گے یا اعتماد کا مرکز۔

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

94
آئیڈیل خوب سے خوب تر کی تلاش ،مگر خوب تر کہاں؟

کاح کو سنت نہیں بلکہ بزنس ڈیلنگ بنا دیا گیا ہے دوسری کاسٹ کے لڑکے سے شادی نہیں کرنی۔ جس کا ذاتی گھر نہیں اس سے نہیں کرنی۔ جس کا بنک بیلنس نہیں اس سے نہیں کرنی۔ سٹی سے باہر نہیں کرنی۔ عمر میں فرق ہے نہیں کرنی۔ زبان میں ف

-ایک قاری کاانتخاب

76
بیٹوں کی اقسام اور والدین کی عظمت

اپنی زندگی میں والدین کی قدر کریں، ان کے جذبات کا احترام کریں، ان کی دعائیں حاصل کریں اور ہر ممکن طریقے سے ان کی خوشی کا سامان کریں۔ یہی حقیقی حسنِ سلوک ہے، یہی کامیاب زندگی کی علامت ہے اور یہی دنیا و آخرت کی بھلائی کا ر

نوید مسعود ہاشمی

42
سفید پوش گھرانوں کا المیہ

سفید پوش طبقہ… یا ورکنگ مڈل کلاس جن کے آباؤ اجداد ان کے لیے نہ کوئی جما جمایا کاروبار چھوڑ کر گئے، نہ جائیدادیں، نہ کرایوں پر چلنے والی دکانیں…ان کی پروگرامنگ میں کچھ چیزیں پیدائشی طور پر فٹ ہوتی ہیں۔ اعتدال پسندی… میانہ

سونیاکنول

61
یہ صرف ایک کھلونا نہیں

جس عمر میں معصوم بچیاں ان کھلونوں سے کھیلتی ہیں، کیا ان کا ذہن اس قابل ہے کہ وہ ان پیچیدہ، بالغ اور حساس چیزوں کو سمجھ سکیں؟ آخر ان ننھی بچیوں کے ذہنوں کو اتنی تیزی سے بالغ (Adult) اور میچور کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟

آفرین عاقب

13
تپتی گرمی، پگھلتی جیبیں

یا کراچی کا عام آدمی کبھی ایسا دن دیکھ پائے گا جب بجلی کا بل دیکھ کر اس کا دل ہولنے کے بجائے اسے سکون کا احساس ہو؟ شاید یہی وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو آج اس بے بس شہر کے ہر بند کمرے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے۔

محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

40
دل سے عزت اچھے انسان کی ہوتی ہےعہدے یا افسر کی نہیں

دبنگ افسر کی باتیں سن کر بہت دل چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ تیرے باپ نے تجھے کوٸی نصیحت کیوں نہیں کی؟ بتایا کیوں نہیں کہ یہ افسری آنی جانی چیز ہے ۔

بریگیڈیئر(ر)ڈاکتربشیرآرائیں

93
زبان سنبھال کر بات کریں

آپ کا دماغ آپ کی ہر سوچ کو سن رہا ہے۔ آج آپ جو بول رہے ہیں، وہی کل آپ کا دماغ بن رہا ہے۔ اپنی زبان سنبھالیں، اپنا دماغ بچائیں۔

ڈاکٹر سلیم خان مروت (ماہرِ نفسیات)

59
سائیکل سوارپرنسپل

ڈاکٹر عالیہ رحمان سنہ 2005 میں آسٹریا سے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ گئیں۔ سنہ 2008 میں ایم اے او کالج میں ملازمت شروع کی, ان کے پاس ذاتی گاڑی بھی تھی ۔

ادیب یوسفزئی

103
کم سن خانہ بدوش لڑکی

خربوزے بیچنے والی ایک کم سن خانہ بدوش لڑکی نے دو بھائیوں کے درمیان سالوں سے جاری جائیداد کا تنازعہ ختم کروا دیا ۔

ڈاکٹر طاہر قیوم ،وانا

82
شرطے کی انگلی

سعودیہ کی طاقت ور ترین چیزوں میں سے ایک شُرطے ( پولیس والے ) کی انگلی ہے جس کا اشارہ ہونے پر آپ نے وہ ہی کرنا ہے جس کا اشارہ شُرطے نے کیا ہے دوسری صورت میں فوری بھاری جرمانہ آپ کا منتظر ہوگا ۔

سید فیصل ندیم

102
کبھی بنیاد کے پتھروں سے مت چھیڑیں

ادارے ہوں یا محکمے، تنظیمیں ہوں یا جماعتیں، ہر نظام کی مضبوطی چند ایسے لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو انتہائی مخلص، باصلاحیت، صاحب وژن اور غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت اس عمارت کے بنیاد کے پتھر ہوتے

ڈاکٹرامیرجان حقانی

124
بلوچ روایات کی موت

دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے علی جمیل کو خون میں لت پت کردیا اور اس کی اہلیہ کو بھی زخمی کردیا علی جمیل جانبر نہ ہوسکا دم توڑ گیا۔

احسان کوہاٹی

114
تربیتِ اولاد کے پانچ اہم لمحات

قیقت یہ ہے کہ بچہ صرف ہمارے الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ ہمارے لہجے، ہمارے وقت اور ہمارے ردعمل سے بنتا ہے۔

توصیف اکرم نیازی

79
باپ کا دل نہیں بدلتا

جین زی کی بات چیت کا انداز ہم سے کچھ ایسا مختلف ہے کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اردو میں گفتگو کر رہے ہوں اور سامنے والا کسی Netflix سیریز کے ڈائیلاگ بول رہا ہو۔

یاسرعرفات لاشاری

176
منتہا،انتہانہیں ہے

خاکم بدہن!یادرکھیے!منتہاانتہانہیں ہے۔آج منتہا ہے، کل کسی اور گھر کا چراغ بجھ جائے گا، اور ہم ایک بار پھر افسوس کے چند جملے لکھ کر خاموش ہو جائیں گے۔

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

105
مشترکہ خاندانی نظام یا علیحدہ رہائش؟

اسلام نے نہ تو مشترکہ خاندانی نظام کو فرض قرار دیا ہے اور نہ علیحدہ رہائش کو لازمی بنایا ہے۔یہ بحث کہ مشترکہ خاندانی نظام بہتر ہے یا علیحدہ رہائش، اپنے آپ میں مکمل سوال نہیں۔

مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ

150
ایک خاموش طبقے کی صدا ئے بے نوا

اگر اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت ہوسکے تو معاشرے کے اس خاموش اور مظلوم طبقے کی مشکلات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ

107
درختوں کا خفیہ نیٹ ورک

جنگلات میں درخت اپنی جڑوں کے ذریعے ایک پیچیدہ اور منظم نیٹ ورک سے جڑے ہوتے ہیں، جسے سائنس دان "وُڈ وائڈ ویب" کا نام دیتے ہیں۔

عابدمحمودعزام

120
مصروف والدین کی خدمت میں

مصروف والدین بھی اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط اور خوشگوار تعلق قائم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے محدود وقت کو محبت، توجہ اور دلچسپی کے ساتھ استعمال کریں۔

نعیمہ امین

116
فلموں کی صنعت کاسراب

مسلسل فحش بینی دماغ میں ڈوپامائن کے اخراج کو غیر فطری حد تک بڑھا دیتی ہے، جس سے دماغ نارمل خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے.

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

99
گھرچھوڑناکتنامشکل کتناآسان؟

یہ تحریر نواں شہر ملتان والے اس گھر کی یاد میں لکھی گئی جو میرا پہلا گھر تھا اور بعد کے نو دس گھروں کی ایک آدھ یاد کہیں ٹانک دی گئی۔

حسنین جمال

203
جواد احمدکی جنیدجمشید شہیدؒ پر تنقید

یوسف سراج

174
انڈونیشیا کے وہ گاؤں جہاں مائیں نہیں ہوتیں

انڈونیشیا میں ان علاقوں کو "بغیر ماں کے گاؤں" کہا جاتا ہے۔ یہاں کی تقریباً تمام مائیں دوسرے ملکوں میں کام کر رہی ہیں. بی بی سی کی نامہ نگار ربیکا ہینسیک کی اس گاؤں میں بغیر ماں کے رہنے والے بچوں سے ملاقات کی روداد۔

اسلم ملک

142
امام کی بچیوں کی عید

ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے خود اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا ..نہ ان لوگوں کی تنخواہ پوری ہے نہ ہی آمدن کا ذریع

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

144
بچوں کے سامنے میاں بیوی کا لڑنا ایک طبی، نفسیاتی، سماجی اور اسلامی تجزیہ

بچے کے لیے ماں باپ کی لڑائی، زلزلے سے کم نہیں ہوتی۔ گھر میں سکون ہوگا تو بچہ صحت مند دماغ، مضبوط جسم اور بہتر کردار کے ساتھ بڑا ہوگا۔ یاد رکھیں: آپ کا غصہ 5 منٹ کا ہوتا ہے، لیکن بچے کے دل پر اس کا اثر 50 سال تک رہتا

ڈاکٹر طارق حسین، فیملی فزیشن، لاڑکانہ

164