فلسطینی مزاحمت دراصل ایک دینی، قومی اور انسانی تحریک ہے جو اسرائیلی قبضے، ظلم و جبر اور نسل کشی کے خلاف جاری ہے۔ اس مزاحمت کی دو اہم اقسام ہیں:
• سیاسی مزاحمت
• مسلح مزاحمت
اسلامی تناظر میں مزاحمت کی شرعی حیثیت:
قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ: "وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ" (البقرہ: 190)
• ظلم کے خلاف جہاد نہ صرف جائز بلکہ فرض عین بن جاتا ہے جب دشمن سرزمین پر قابض ہو۔
• فلسطینی مزاحمت منظم، دینی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہے۔
• حماس اور جہاد اسلامی کی صورت میں امت کو قربانی، جذبہ اور حوصلے کی شاندار مثالیں ملی ہیں۔
• امت مسلمہ کو ان کی اخلاقی، مالی، سفارتی اور ابلاغی مدد کرنی چاہیے۔
عالمِ اسلام کی ذمہ داریاں — بیداری، مزاحمت اور عملی اقدامات
1. امت مسلمہ کی اجتماعی غفلت:
ابراہیم معاہدہ اور ڈیل آف دی سینچری جیسے منصوبے عالم اسلام کی اجتماعی کمزوری اور قیادت کے زوال کا نتیجہ ہیں۔
کیونکہ سیاسی رہنماؤں کی اکثریت:
• مغرب کی خوشنودی کے لیے کام کرتی ہے
• امریکہ و اسرائیل سے خوف زدہ ہے
• عوامی دباؤ یا شعور سے بے نیاز ہے
2. امت کی فکری بیداری کی ضرورت:
(1) علمی و فکری جہاد:
• تعلیمی ادارے، دینی مدارس اور جامعات:
• امت کے اصل دشمن کی شناخت کرائیں
• فلسطین، اقصیٰ اور اسلامی وحدت پر کورسز متعارف کروائیں
• اسرائیل کی اصل فطرت کو اجاگر کریں
(2) میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار:
• جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ ضروری ہے
• نوجوان نسل کو گمراہی سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر مزاحمتی مواد تیار ہو
• حق گو صحافیوں اور اسکالرز کی سرپرستی کی جائے
3. عملی مزاحمت کے میدان:
(1) سیاسی مزاحمت:
عوام اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کریں کہ:
• اسرائیل سے تعلقات ختم کیے جائیں
• ابراہیم معاہدے جیسے اقدامات کی مخالفت ہو
• او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز کو فعال کیا جائے
(2) معاشی مزاحمت:
• بائیکاٹ کی مہمات کو فروغ دیا جائے:
• اسرائیلی مصنوعات، کمپنیوں اور سپورٹرز کا بائیکاٹ
• متبادل اسلامی معیشت کو فروغ
(3) سفارتی مزاحمت:
• مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم نہ کریں
• فلسطینی ریاست کی بین الاقوامی حمایت بڑھائی جائے
• اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر فلسطینی حقوق کے لیے متحدہ آواز ہو
4. دینی طبقے کی ذمہ داریاں:
علمائے کرام:
• منبروں پر فلسطین اور اقصیٰ کے مسئلے کو زندہ رکھیں
• امت کو گمراہی سے بچائیں، اور ولاء و براء کا صحیح مفہوم واضح کریں
تصوف، دعوت، تبلیغی جماعت:
• فلسطین کو صرف سیاسی مسئلہ نہ سمجھیں، بلکہ عقیدے کا مسئلہ بنائیں
• عالم اسلام کی وحدت اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا شعور پیدا کریں
5. مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں:
• اپنے دین، قبلہ اول، اور مظلوم امت کے ساتھ جڑت پیدا کریں
• جدید علوم، میڈیا اور ٹیکنالوجی کو مزاحمت کے لیے استعمال کریں
• احتجاج، آگاہی، بائیکاٹ، اور جدوجہد کا ہراول دستہ بنیں
امت مسلمہ اگر غفلت چھوڑ دے، بیدار ہو جائے، اور متحد ہو جائے، تو نہ ڈیل آف دی سینچری کامیاب ہو سکتی ہے، نہ ابراہیم معاہدہ جیسا کوئی منصوبہ۔یادرکھیں !مسئلہ فلسطین، امت مسلمہ کی غیرت، عقیدے اور بقا کا مسئلہ ہے — اور اس کے تحفظ کی جدوجہد، ہر مسلمان پر فرض ہے۔