(+92) 319 4080233
کالم نگار

کرنل (ر) ابرار اسماعیل

کرنل (ر) ابرار اسماعیل

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
ادارہ جاتی توازن ۔ترقی کی ضمانت
اچھی حکمرانی کسی ایک فرد، ایک ادارے یا ایک محکمے کی کارکردگی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے متوازن نظام کا تقاضا کرتی ہے جس میں منتخب سیاسی قیادت، پیشہ ور بیوروکریسی، آزاد عدلیہ، مؤثر بلدیاتی ادارے اور مضبوط احتسابی نظام اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے کام کریں۔ جب ریاستی اداروں کے درمیان یہ توازن برقرار رہتا ہے تو پالیسی سازی مؤثر ہوتی ہے، عوامی وسائل بہتر انداز میں استعمال ہوتے ہیں، احتساب مضبوط ہوتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بڑھتا ہے۔ لیکن جب کسی ایک ادارے کا کردار اپنی آئینی حدود سے بڑھ جائے تو فیصلہ سازی کا توازن متاثر ہوتا ہے، جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے اور ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

گلگت بلتستان آج اسی نوعیت کے ایک اہم ادارہ جاتی چیلنج سے دوچار ہے۔ بے پناہ قدرتی وسائل، غیر معمولی سیاحتی امکانات، وسیع پن بجلی کی صلاحیت، معدنی ذخائر اور پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کو ملانے والی اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کے باوجود یہ خطہ اپنی حقیقی معاشی استعداد سے بہت کم فائدہ اٹھا سکا ہے۔ اس کی وجوہات میں آئینی پیچیدگیوں اور محدود مالی وسائل کے ساتھ ساتھ حکمرانی کے نظام میں پیدا ہونے والا ادارہ جاتی عدم توازن بھی شامل ہے، جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم کو متاثر کیا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک باصلاحیت، غیر جانبدار اور پیشہ ور سول سروس ہر ریاست کا ناگزیر ستون ہوتی ہے، لیکن جب انتظامی مشینری پالیسی سازی، ترجیحات کے تعین اور حکومتی فیصلوں پر حاوی ہو جائے تو جمہوری احتساب کمزور پڑ جاتا ہے، منتخب قیادت کا کردار محدود ہو جاتا ہے اور حکمرانی اپنی حقیقی روح سے محروم ہو جاتی ہے۔

جمہوری نظام میں عوام اپنے منتخب نمائندوں کو اس لیے اختیار دیتے ہیں کہ وہ عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق پالیسیاں مرتب کریں، ترجیحات کا تعین کریں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ بیوروکریسی کا بنیادی کردار ان پالیسیوں کو قانون، قواعد اور پیشہ ورانہ مہارت کے مطابق نافذ کرنا ہے، نہ کہ خود فیصلہ سازی کا مرکز بن جانا۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں برسوں سے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، مالیاتی فیصلے، تقرریاں و تبادلے، خریداری کے نظام اور انتظامی اختیارات کا بڑا حصہ عملاً سرکاری مشینری کے گرد گھومتا رہا ہے۔ نتیجتاً منتخب حکومتیں عوامی قیادت کے بجائے محض فائلوں کی نگرانی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس ادارہ جاتی عدم توازن کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

فیصلے غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، ترقیاتی منصوبے برسوں تک ادھورے رہتے ہیں، وسائل کا مؤثر استعمال ممکن نہیں رہتا اور احتساب کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ کامیابی کی صورت میں کریڈٹ اجتماعی ہو جاتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عوام کو پہنچتا ہے، جو بہتر تعلیم، معیاری صحت، بلاتعطل بجلی، محفوظ سڑکوں اور باوقار روزگار کے حق دار ہیں۔ آج گلگت بلتستان بے روزگاری، محدود مالی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی آبادی اور عوامی توقعات میں مسلسل اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان مسائل کا مؤثر حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاستی ادارے تیز رفتار، مؤثر، شفاف اور مکمل طور پر جواب دہ ہوں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بیوروکریسی کو کمزور کیا جائے یا انتظامیہ کو سیاسی مداخلت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اصل ضرورت اداروں کے درمیان آئینی اور انتظامی توازن کی بحالی ہے۔ سیاسی قیادت عوامی امنگوں کے مطابق پالیسیاں وضع کرے، ترجیحات کا تعین کرے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو، جبکہ سول سروس غیر جانبداری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ان پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنائے۔ یہی اصول دنیا کی کامیاب جمہوریتوں کی بنیاد ہے۔

اسی طرح کابینہ کے اجتماعی نظام کو حقیقی معنوں میں فعال بنانا ہوگا۔ اہم فیصلے صرف دفتری سفارشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ منتخب وزراء کی اجتماعی دانش، عوامی ضروریات اور طویل المدتی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جانے چاہئیں۔ وزراء کو اپنے محکموں پر مؤثر نگرانی اور پالیسی سازی کا اختیار حاصل ہو، جبکہ سینئر سرکاری افسران اپنی فنی مہارت کے ذریعے فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کریں۔

کارکردگی جانچنے کے پیمانے بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کا معیار صرف فائلوں کی نقل و حرکت یا اجلاسوں کی تعداد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، محصولات میں اضافہ، مالی نظم و ضبط، شفافیت، عوامی اطمینان اور خدمات کے معیار میں بہتری کو اصل پیمانہ بنایا جانا چاہیے۔

ڈیجیٹل گورننس اس تبدیلی کا ایک اہم ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ ای پروکیورمنٹ، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ، ای ٹیکس نظام، مربوط مالیاتی انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن عوامی نگرانی نہ صرف شفافیت کو فروغ دیں گے بلکہ غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں، اختیارات کے ارتکاز اور بدعنوانی کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر کم کریں گے۔

بلدیاتی اداروں کی بحالی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ پائیدار ترقی کی بنیاد مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔ مالی اور انتظامی خودمختاری رکھنے والی منتخب بلدیاتی حکومتیں عوامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہیں اور خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور جوابدہ بنا سکتی ہیں۔

اسی طرح سرکاری کارپوریشنز اور خودمختار اداروں میں بھی میرٹ، پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی پر مبنی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے بورڈز میں اہل، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کو شامل کیا جائے، اور ان کی کامیابی کا معیار سیاسی وابستگی کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج اور عوامی مفاد ہونا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا مستقبل صرف ترقیاتی بجٹ یا اضافی فنڈز سے وابستہ نہیں، بلکہ مضبوط، شفاف اور جوابدہ اداروں کی تشکیل سے جڑا ہوا ہے۔ پائیدار ترقی کا انحصار وسائل کی فراوانی سے زیادہ ایسے نظامِ حکمرانی پر ہوتا ہے جو میرٹ، قانون کی بالادستی، شفافیت اور عوامی خدمت کو اپنی بنیاد بنائے۔

اچھی حکمرانی کا اصل معیار یہ نہیں کہ کتنی فائلیں نمٹائی گئیں یا کتنے اجلاس منعقد ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ آیا دور افتادہ دیہات تک بجلی پہنچی، معیاری سڑکیں تعمیر ہوئیں، سرکاری تعلیمی اداروں سے باصلاحیت نوجوان نکلے، ہسپتالوں میں معیاری علاج میسر آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، سیاحت کو فروغ ملا اور عوام کا ریاست پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔

گلگت بلتستان ایسے اداروں کا مستحق ہے جو اختیارات کی کشمکش کے بجائے قومی مفاد کے لیے باہمی تعاون، ہم آہنگی اور مشترکہ ذمہ داری کے اصول پر کام کریں۔ بیوروکریسی ریاست کا ایک مضبوط اور ناگزیر ستون ضرور ہے، مگر کوئی بھی ستون پوری عمارت پر غالب نہیں ہو سکتا۔ مضبوط ریاستیں ادارہ جاتی توازن، آئینی حدود، قانون کی حکمرانی اور مشترکہ ذمہ داریوں پر استوار ہوتی ہیں۔

گلگت بلتستان کو آج ایسے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں نہ بیوروکریسی کمزور ہو اور نہ ہی منتخب سیاسی قیادت بے اختیار۔ ترقی کا راستہ اختیارات کی کشمکش سے نہیں بلکہ آئینی حدود، ادارہ جاتی توازن، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایک مضبوط اور غیر جانبدار سول سروس، بااختیار اور جوابدہ سیاسی قیادت، فعال کابینہ، مؤثر بلدیاتی نظام اور آزاد احتسابی ادارے ہی وہ ستون ہیں جن پر جدید اور کامیاب ریاستیں استوار ہوتی ہیں۔

گلگت بلتستان کی اصل دولت صرف اس کے پہاڑ، دریا، معدنی ذخائر یا سیاحتی مقامات نہیں، بلکہ اس کے باصلاحیت، محنتی اور باوقار لوگ ہیں۔ اگر ریاستی ادارے ان کی امنگوں کے مطابق کام کریں، فیصلے بروقت ہوں، وسائل دیانت داری سے استعمال ہوں اور میرٹ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے تو یہ خطہ نہ صرف مالی خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ایک مضبوط انجن بھی بن سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اداروں کو مضبوط کریں، اختیارات کے ارتکاز کے بجائے ادارہ جاتی توازن کو فروغ دیں، اور انتظامی غلبے کے بجائے آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ یہی اچھی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے، یہی جمہوریت کی روح ہے، اور یہی گلگت بلتستان کے پائیدار، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بھی۔

مأخَذ

کالم نگارسابق وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی، گلگت بلتستان ہیں اور تمغۂ امتیاز ملٹری کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔

کالم نگار : کرنل (ر) ابرار اسماعیل
| | |
23