مجھے پاروشنی یاد آتی ہے، وہ پاروشنی جو دریا کی بیٹی تھی جس نے آخری دم تک دریا کو نہ چھوڑا اگرچہ دریا کی ریت بھی اڑ کر آنکھوں میں گھسنے لگی اور جلد کی رنگت جلن سے بدلنے لگی۔ناول’’بہاؤ‘‘کے طرز پرایک ادبی تحریر
سدرہ ملک
المیہ یہ ہے کہ چراغوں کے زمانے میں جتنا لکھا گیا، بجلی کے زمانے میں اتنا پڑھا بھی نہیں جا رہا۔ایک فکرانگیز تحریر
ابوظبیان محمدمبشراکرم
سرزمین انبیا کے باون ایسے شہداء کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ایک منفرد تصنیف ، جنہوں نے اپنے ایمان، وطن اور آزادی کی خاطر جانوں کا نذرانه پیش کیا۔
محترمہ وریشہ فیضی،بھارت
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نے ہر فرد کے ہاتھ میں خبر دینے کی طاقت تو تھما دی ہے، لیکن ذمہ داری کا احساس نچلی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سنسنی خیزی، لائکس اور ویوز کی دوڑ میں بغیر حقیقت جانے خبری
محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
گزشتہ دنوں راقم الحروف کی ایک گفتگو کا ایک جملہ بلا سیاق و سباق سوشل میڈیا پر گردش میں رہا تو گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کسی نے بھی وہ سوال سننے کی زحمت نہ کی جس کے جواب میں یہ گفتگو کی گئی تھی۔
محترمہ نجیبہ عارف
ایک طرف تو انہوں نے کسی پر یہ راز افشا نہیں کیا کہ یہ مجموعے ان کا نتیجۂ فکر نہیں۔ دوسری طرف جب لینن انعام لے کر آۓ تو تمغہ اور آدھے روبل میرے سامنے ڈھیر کر دیۓ کہ اس کے اصل حق دار آپ ہیں۔
ابن انشاء
راستہ واضح ہو، رہنمائی مسلسل ہو، اور ہر مرحلے پر ساتھ دینے والے لوگ موجود ہوں تو وہ ادارہ بھی، جہاں کبھی عربی سنائی نہیں دیتی تھی، چند ہی مہینوں میں ایک نئی فضا اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے.
ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر
کچھہ غلطیاں اتنی پختہ ہو جاتی ہیں کہ ان کی اصلاح کرنے والا خود آزمائش میں پڑ جاتا ہے ۔کچھ زبان زد اشعار جن کو ان کے اصل شاعر کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتاہے۔
محمدآصف بھلی،اسلم ملک
مجھے مثبت طور پر نفرت ہے ان جرائد سے جو اسلام کو جدید زمانہ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔
مریم جمیلہ ؒ
انسان نے وقت، حالات اور حادثات سے سیکھا، اسے قلمبند کیا اور یوں آنے والی نسلوں کو وہ علم منتقل ہوا جس نے دنیا کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی یومِ کتاب صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے، علم
مولانا عمران مینگل
، رفاہی اداروں، ویئرن ٹرسٹوں اور دیی تعلیاء اداروں مںح تاور کئے جانے والے کھانوں کے معانر، ضرورت مندوں اور طلبہ کی طرف سے زہر مار کر چکنے کے بعد بچے ہوئے کھانوں کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے کہاں ٹھکانے لگایا جاتا
مولانا نعمان نعیم
اگر کوئی اس بھول میں ہے کہ انگریزی تراجم سے یا ابو گوگل سے کام چلا لے گا تو یہ احمقوں کی جنت کا باسی معلوم ہوتا ہے۔
ملک اسد حیات، کویت
بعض اوقات جب خدا کسی مصلحت کے تحت دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں ، اس کے وجود سے ہی منکر ہو جاتے ہیں۔
مولاناڈاکٹرشاہ محمودوزیری
حیٰوۃ الدناے نامی طرز ِ زندگی اختاقر کرنے سے پہلے انسانی حوالے سے ایک تسلمی شدہ حققتی پر غور کرلنا اور اختا ر کرنے کے بعد بھی اس پرغور کرتے رہنا کتنا ضروری ہے؟ انسان کا روزانہ کا مشاہد ہ ہے کہ اس کی طرح کے سنکڑتوں انسان
مولانا نعمان نعیم