(+92) 319 4080233
کالم نگار

عابدمحمودعزام

عابدمحمودعزام

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
کشمیر: طاقت مسئلے کا حل نہیں
آزاد کشمیر کے حالیہ واقعات نے ہر حساس دل کو بے چین کر دیا ہے۔ راولاکوٹ میں کئی کشمیری شہری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لوگ زخمی ہوئے ہیں، گرفتاریاں ہوئی ہیں اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ الیکٹرانک میڈیا خاموش ہے یا مظاہرین کے خلاف کھڑا ہے۔ معلومات واضح طور پر سامنے نہیں آ رہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی فائرنگ، احتجاج اور زخمیوں سے متعلق ویڈیوز تو گردش کر رہی ہیں، مگر اصل تنازع اور اس کے تمام پہلو پوری طرح واضح نہیں کیے جا رہے۔ مختلف سوشل میڈیا ایکٹوسٹس بھی زیادہ تر یکطرفہ مؤقف پیش کر رہے ہیں، جس سے حقیقت تک پہنچنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ بعض رپورٹ کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں بیرونی نشستوں کا خاتمہ، بعض تنظیموں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور قتل و اقدامِ قتل جیسی ایف آئی آرز واپس لینے جیسے مطالبات شامل ہیں، حکومت ان معاملات پر فوری پیش رفت سے گریزاں ہے۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ حکومت مظاہرین پر بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی عائد کر رہی ہے۔ مختلف ذرائع سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مستند معلومات اور غیرجانبدار تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔

البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آزاد کشمیر میں کئی روز سے بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم کشمیر کے مسائل کو نہیں سمجھ سکتے، لیکن اتنی وسیع عوامی بے چینی یقیناً کسی حقیقی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد بلاوجہ اپنی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالتے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، متعلقہ فریقوں سے مکالمہ کرے اور جہاں ممکن ہو منصفانہ حل تلاش کرے۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں اس سے پیچھے ہٹ گئی۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ اعتماد سازی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے حالات اس قدر کشیدہ ہیں تو صرف انتخابی عمل پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں۔ ایسے ماحول میں انتخابات کی اہمیت اور شفافیت دونوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر عوام ہی خود کو مطمئن محسوس نہ کریں تو انتخابات اپنے بنیادی مقصد سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کا مقصد مفادات کے حصول کے سوا کچھ نہیں۔

ریاست یقیناً طاقت رکھتی ہے، لیکن وہ اپنے شہریوں کے لیے ماں کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ اس کی اصل قوت صرف اختیار میں نہیں، بلکہ انصاف، برداشت اور مکالمے میں ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے تنازعات کا پائیدار حل بالآخر بات چیت سے ہی نکلا ہے۔ اگر امریکا اور افغان طا۔ لبان برسوں کی جنگ کے بعد مذاکرات کر سکتے ہیں اور اگر امریکا اور ایران جیسے سخت مخالف ممالک بھی گفت و شنید کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں تو اپنے ہی شہریوں سے مکالمہ کیوں ممکن نہیں؟ کشمیری اپنے ہی لوگ ہیں۔ ان کے تحفظات کو سننا اور انہیں اعتماد میں لینا ہی مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انسانی جان کا نقصان کسی بھی سیاسی یا انتظامی اختلاف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے اگر کسی بے گناہ کی جان گئی ہے یا کسی کے حقوق پامال ہوئے ہیں تو آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داری کا تعین حقائق کی بنیاد پر ہو سکے۔

حکومت، عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر متعلقہ فریق اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہے ہیں، ضروری ہے کہ معاملے کو جذبات کے بجائے قانون، شواہد اور غیرجانبدار تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جائے۔ احتجاج کرنے والوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو پُرامن رکھیں، سرکاری و نجی املاک اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کریں۔

کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں دل جیتنے کی ضرورت ہے، دل توڑنے کی نہیں۔ سخت اقدامات وقتی طور پر حالات کو قابو میں لا سکتے ہیں، لیکن پائیدار امن صرف انصاف، اعتماد سازی اور سیاسی مکالمے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں کوئی آئینی یا انتظامی پہلو موجود ہے تو انہیں سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے اور اگر کسی مطالبے پر قانونی یا آئینی رکاوٹ ہے تو حکومت کو دلیل، شفافیت اور وضاحت کے ساتھ عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اسی طرح اگر مذاکرات یا کسی معاہدے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کی حقیقت اور اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ اشتعال انگیز زبان، غداری کے الزامات اور نفرت انگیز بیانیے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دینا کسی بھی معاشرے کے مفاد میں نہیں۔ کشمیر کے عوام ہوں یا ریاستی اداروں کے اہلکار، دونوں اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور دونوں کی جان، عزت اور حقوق یکساں قابلِ احترام ہیں۔ ہر وہ خون جو بہتا ہے، پورے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوقوں کی آواز خاموش ہو، مذاکرات کی میز آباد ہو، حقائق غیرجانبدار تحقیقات کے ذریعے سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے اور ایسا سیاسی حل تلاش کیا جائے جو انصاف، آئین اور عوامی اعتماد پر مبنی ہو۔ یہی راستہ کشمیر کے امن، پاکستان کے استحکام اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

کالم نگار : عابدمحمودعزام
| | |
52