ضبط و نقل: عبدالسلام یوسفزئی
یہ جو مختلف پیشکشیں آرہی ہیں خدا کے لیے ادھر مت جاؤ۔۔۔ادھر ادھر مت جاؤ اس نسبت کا تحفظ کرتے رہوگے تو انشاء اللہ ثم انشاء اللہ کامیاب رہوگے کوئی دنیا کی طاقت تمہیں ہرگز نہیں مٹا سکے گی۔
ضبط و نقل: عبدالسلام یوسفزئی
محمدریاض،محمداکمل
ہمارے ہاں طلبہ کےلیے ماہانہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں ، جن میں علمی اور کبھی تربیتی موضوعات پر طلبہ سے اساتذہ کرام گفتگو کرتے ہیں، اس بار گفتگو کا عنوان تھا: طلبہ میں مطالعے کا ذوق کیسے پیدا کیا جائے ؟
محمد اکمل جمال
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
جب حسنِ بیان، اخلاصِ نیت اور آدابِ خطابت کا یہ جوہر باہم مل جاتے ہیں، تو الفاظ صرف آواز نہیں رہتے بلکہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جانے والا ایک مستقل پیغام بن جاتے ہیں۔
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
یونیورسٹی کی جانب سے اصل مراسلے کی تصدیق، پابندی کی واضح نوعیت اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق باضابطہ معلومات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کے دائرۂ کار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
دینی جامعات کا حقیقی طرۂ امتیاز اور بنیادی مقصد ایسے رجالِ کار اور ماہرینِ فن تیار کرنا ہے جو تحریر و تقریر، تدریس، علمی مناظرہ اور دعوت و ارشاد کے میدانوں میں دورِ حاضر کے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
اساتذہ کی طرف توجہ دیجیے جو واقعی مالی تنگی کا شکار ہیں، ان کی اعانت محض ایک فرد کی مدد نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کا سہارا بننا ہے جو دوسروں کی تعلیم و تربیت میں اپنا وقت اور صلاحیتیں صرف کر رہا ہے۔
مولاناسمیع اللہ عزیز
جس کنکھجورے کو ہم انسانی دماغ کا دشمن سمجھتے ہیں، وہ قدرتی ماحول میں دوسرے چھوٹے جانداروں کی آبادی کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اعزاز احمد ،سفیر حشرات
سوال شاید یہ نہیں کہ اتنے بھاری پتھر اٹھائے کیسے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ان معماروں نے ایک ایسی عظیم تعمیر کا پورا منصوبہ کس مہارت سے ترتیب دیا ہوگا؟
محمدعظیم حیات،لندن
گلگت بلتستان کے بچے بھی حق رکھتے ہیں کہ انہیں ملک کے بڑے اور معتبر دینی مراکز کے علمی ذوق، فکری تربیت، تحقیقی مزاج اور دینی بصیرت سے براہ راست استفادہ کرنے کا موقع ملے۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
اساتذہ کے بغیر تعلیم ادھوری ہے، اور تعلیم کے بغیر قوم کی ترقی ناممکن ہے۔جب استاد مضبوط ہوگا تو ادارہ مضبوط ہوگا، اور جب ادارہ مضبوط ہوگا تو قوم مضبوط ہوگی.
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
عربی زبان کا فروغ صرف ادارے بنانے سے نہیں، ایک دوسرے کو طاقت دینے سے ہوگا۔
مولاناسمیع اللہ عزیز
استاد کا منصب ایک عظیم امانت ہے۔ اس امانت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کے ساتھ عمل، تدریس کے ساتھ تربیت اور اپنے حقوق کے ساتھ فرائض کا بھی خیال رکھے۔
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
ہمارے ہاں اکثر ایک جملہ بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے:"نمبر معنی نہیں رکھتے"یہ بات آدھا سچ ہے،پورا سچ کیاہے؟جانیے اس تحریر میں
زیدالحسن
عبداللّٰہ بٹ اپنے زمانے میں ادبی و صحافتی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت تھے مگر نسبتاً کم عمر زندگی اور وقت کے فاصلے نے ان کا نام نئی نسل کے لیے اجنبی بنا دیا۔کتاب پر تبصرہ
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
ہمارا مقصد ہر بچے کو جابر بن حیان بنانا نہیں، بلکہ اسے اتنی مضبوط بنیاد دینا ہے کہ کل وہ اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق جابر بن حیان بننے کا راستہ خود تلاش کر سکے۔
ڈاکٹر مولانا عمران خان گنڈاپور
تحریر: مائیکل سیباسچن(ترجمہ:عرفان جاوید)
آج میں ان والدین سے مخاطب ہوں جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم (درس نظامی) دلوا رہے ہیں یا مستقبل میں دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ اس کو آرٹ آف پیرنٹنگ ہی سمجھیں۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
ایک اسکول چلانا صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے یا خوبصورت عمارت بنانے کا نام نہیں۔ ایک کامیاب اور مستحکم اسکول کے لیے مضبوط انتظامی نظام، بہتر مالی منصوبہ بندی، قابل اور ذمہ دار اسٹاف، واضح پالیسیز اور معیاری تعلیم بھی ضروری ہ
نعیمہ امین
اللہ تعالیٰ تمام اہلِ مدارس، مہتممین، مدرسین، منتظمین، طلبہ اور معاونین کو باہمی اتفاق و اتحاد، اخلاص اور حسنِ عمل نصیب فرمائے، دینی اداروں کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، ان کے ذریعے امتِ مسلمہ کو علومِ دین سے سی
مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
جامعہ کی تاریخ اور اس کے قیام اور کردار اور اس مادر علمی سے جڑے ہوئے مختلف اہم موضوعات اور عوامل پر قلم اٹھایا اور مختصر انداز اختیار کرتے ہوئے پوری ایک جامع کتاب ترتیب دے دی.
رضوان طاہرمبین
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
ذہن نشین کرایا جائے کہ اختلافات کتنے خوبصورت ہوا کرتے ہیں اور اختلافات رکھنے کے باوجود کیسے محبت،الفت اور احترام کے جذبات قائم رہتے ہیں۔
مولاناظہیرالدین بابر
انسان زمین کے اندر کھدائی کرکے کتنی گہرائی تک پہنچ سکا ہے، تو جواب ہے: 12 ہزار 262 میٹر۔ایک دلچسپ معلوماتی تحریر
ضیاء چترالی
اگر ہم نے ابھی سے نئے علما کی صحیح تربیت اور حوصلہ افزائی کا بندوبست نہ کیا، تو آنے والے وقت میں دین کا کام کون کرے گا؟ کون امت کو جوڑے گا؟
محمدعلی،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ