پٹاخوں کی گونج ابھی تھمی نہیں۔ جس جنگ کے خاتمے کا اعلان کئی ماہ پہلے کیا جا چکا تھا، اس کی حقیقی چوٹ اب کہیں زیادہ گہرائی سے محسوس ہو رہی ہے.صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ تیل کے ٹینکروں، پٹرول پمپوں کی قطاروں اور خالی خزانوں میں۔ اسلام آباد میں دستخط ہونے والا امن معاہدہ کاغذ پر جتنا شاندار تھا، عملی میدان میں اتنا ہی کمزور ثابت ہوا، اور اس کمزوری کی سب سے بڑی وجہ خود وہ فریق بنا جسے اس معاہدے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچنا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مہینوں کی محنت آبنائے ہرمز پر نگرانی کے ٹاورز اور لانچرز کھڑے کرنے میں صرف کی، اس امید پر کہ دنیا بھر کے بحری جہازوں سے مستقل ٹول وصول کیا جائے گا۔ مگر یہ حکمتِ عملی ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر گئی: ایران خود اسی آبنائے کے راستے سانس لیتا ہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ عراق، کویت، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات میں معمولی سے درمیانی کمی آئی، مگر ایران کی برآمدات مکمل طور پر صفر پر آ گئیں۔ سات ہفتوں سے ایک تیل بردار جہاز بھی باہر نہیں نکل سکا۔ انتیس ٹینکروں میں چھتیس لاکھ دس ہزار بیرل تیل آبنائے کے اندر قید ہے، جبکہ تہران کے اپنے پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں۔ جس ہاتھ نے دوسروں کے لیے پھندا تیار کیا تھا، وہی اپنے ہی گلے میں کس گیا۔
اس کہانی کا سب سے بڑا خسارہ چین کو ہوا۔ وہ ملک جو یومیہ چودہ لاکھ بیرل ایرانی تیل خرید کر یوآن میں ادائیگی کرتا تھا، اور جس رقم سے ایران عشروں کی پابندیوں کے باوجود اپنا میزائل اور ڈرون پروگرام چلاتا رہا، اب اسی راستے سے کٹ چکا ہے۔ چودہ جولائی کے بعد سے کوئی نیا ایرانی کارگو کامیابی سے چین نہیں پہنچ سکا۔ بیجنگ کی نظریں اب متبادل راستوں پر ہیں، اور چینی صدر کا حالیہ دورۂ مصر اسی سمت میں ایک قدم معلوم ہوتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ طویل ہوا تو نہ صرف ایران کی معیشت مزید ابتر ہو گی بلکہ تیل کے کنویں بھی خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
دوسری طرف پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابلِ ستائش سہی، مگر ان کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اب بھی اس معاہدے کو زندہ کرنے کے لیے سرگرم ہے، جبکہ امریکی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کی دلچسپی اس متروک دستاویز میں باقی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا سفارتی سرمایہ ایک ایسے معاہدے کی بحالی پر صرف کیا جانا چاہیے جس سے ایک فریق خود دستبردار ہو چکا ہے، یا وقت کا تقاضا ایک نئے، حقیقت پسندانہ اور محدود دائرہ کار کے فریم ورک کی طرف بڑھنے کا ہے؟ اگست میں پاکستانی فوجی و سیاسی قیادت کے تہران کے تازہ دورے اس بات کا اشارہ ضرور دیتے ہیں کہ سفارتی دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر جب تک واشنگٹن کی ترجیحات نہیں بدلتیں، یہ کوششیں محض علامتی ہی رہیں گی۔
اور جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، اس کا دوغلا کردار اب چھپانے سے بھی نہیں چھپتا۔ جنگ سے ایک دن پہلے یروشلم میں بیٹھ کر اسرائیل کو 'فادر لینڈ' قرار دینے والا وزیراعظم، آج تہران جا کر حمایت کے دعوے کر رہا ہے۔ گزشتہ سات ماہ میں بھارت نے کب ایران کا ساتھ دیا؟ نہ ڈوبتے ملاحوں کو بچانے کی کوشش کی، نہ سعودی و اماراتی حملوں کی مذمت کے وقت غیر جانبداری دکھائی، بلکہ چابہار بندرگاہ اور افغانستان کے راستے تجارتی معاہدے تک معطل کر دیے۔ ایسے میں محض زبانی شکریے سے کیا حاصل ہوگا؟
اس پوری صورت حال سے جو سب سے اہم سبق نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ جغرافیائی برتری کو ہتھیار بنا کر عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کی کوشش، خود اسی ہاتھ کو زخمی کر دیتی ہے جو یہ پھندا تیار کرتا ہے۔ ایران کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں: یا تو آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے بجائے مشترکہ اقتصادی مفاد کے طور پر پیش کرے اور فوجی و نظریاتی عناصر کی خارجہ پالیسی پر گرفت کم کرے، یا پھر ایک طویل تنہائی اور معاشی زوال کے لیے تیار رہے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ سفارتی توانائی کا رخ حقیقت پسندانہ اہداف کی طرف موڑے۔ چین کے لیے متبادل راستوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے، اگرچہ اس کے ثمرات فوری نہیں ملیں گے۔ اور بھارت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ خطے میں متوازن کردار چاہتا ہے یا محض ایک طرفہ سفارتی جھکاؤ۔
یہ صورت حال ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر پائی، اور آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن، تہران اور بیجنگ کے درمیان لچک یا ہٹ دھرمی ہی یہ طے کرے گی کہ آبنائے ہرمز دوبارہ عالمی تجارت کی شہ رگ بنتی ہے، یا مزید تنازعے کی آماج گاہ۔