سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ میں ایک سوال بڑی شد و مد سے اٹھایا جارہا ہے. وہ یہ کہ مار گزیدہ اور سم رسیدہ کب تک بے تریاق رہے گا ؟ طبیبِ استنبول و اسلام آباد کا دستِ شفا بخش کیوں بےحس و بےحرکت ہے ؟
العربیہ سے پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چودھری کی گفتگو کے ایک ٹکڑے کو بھی لے کر بہت لے دے ہو رہی ہے کہ ان کا فرمودہ ہے کہ یہ معاہدہ جارحانہ نہیں، دفاعی ہے وغیرہ وغیرہ.
ایک بات تو یہ ذہن نشین رہے کہ مکہ معاہدہ پاکستان کی مجبوری کہلا سکتا ہے، سعودی عرب کی نہیں. کیونکہ سعودی عرب کے پاس بہت آپشن تھے. بہت سی مغربی طاقتوں سے دوستی ہے. امریکا مشروط طور پر جوہری معاہدے کے لیے تیار ہے،مگر ریاض اسے گھاٹے کا سودا سمجھتا ہے. امریکا سے رخ ہلکا سا روس کی جانب موڑ دے تو ماسکو کی باچھیں بھی کھل جائیں.
دوسری جانب پاکستان ہے، جسے معرکہء حق سے پہلے کوئی سنجیدہ نہیں لیتا تھا. عرب معمولی سی امداد کے نام پر بھیک تو دے دیتے تھے، مگر ان سے برابری کی سطح کی یاری دوستی، معاہدے، عہد و پیمان اور ہتھ پنجہ ناممکنات میں سے تھا. پھر اچانک عربوں کے سرخیل سے دفاعی معاہدہ ؟ یہ ایسا ہی تھا جیسے اولادِ نرینہ کا تمنائی بڑھاپے کے یاس بھرے زمانے میں صاحبِ اولاد ہوگیا ہو.
یہی معاملہ استنبول کا بھی ہے. اس معاہدے کے نتیجے میں ترکی کی سعودی عرب سے دو سو ننانوے سال کی دشمنی ختم ہوئی ہے. شام میں اسے پاؤں جمانے دیا جارہا ہے. دیگر عرب ممالک سے اس کی قربتیں بڑھ رہی ہیں. کیا ترکی ان تمام کامیابیوں کو یوں آسانی سے ملیامیٹ ہوتا دیکھ سکے گا؟ جو شخص بین الاقوامی تعلقات کی نوعیتوں اور نزاکتوں کو سمجھتا ہے، اس کا جواب کبھی بھی ہاں میں نہیں ہوسکتا.
پھر یہ بھی کہ پاکستان کے پلے مخلص ترین دوست فقط تین ہیں. چین، ترکی اور سعودی عرب. اسلام آباد جو کہ کم از کم خارجہ محاذ پہ اپنے نفع نقصان کی میزان کو بےتوازن نہیں ہونے دیتا، کیسے ممکن ہے کہ وہ سعودی عرب کو ایسے حالات میں بےدست و پا چھوڑ دے، جب اس کے وجود پہ سوالیہ نشان لگ رہے ہوں، جبکہ سعودی عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے پاکستان کو کبھی بھی بےیار و مددگار نہیں چھوڑا.
یمنی جنگ میں پاکستان ایران کی وجہ سے محتاط ضرور ہے، مگر لاتعلق ہرگز نہیں. گزشتہ سال مئی میں جبکہ ابھی نہ تو معاہدہ ہوا تھا اور نہ ہی حوثیوں کے خطرے نے سر اٹھایا تھا، پاکستان نے سترہ طیاروں کا پورا سکوارڈن کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہ تعینات کیا تھا. اب کنگ عبدالعزیز ایئربیس خلیج فارس کے قریب ہے. خلیج فارس کی دوسری جانب ایران ہے. یہ بات تو شک و شبہے سے بالاتر ہے کہ پاکستان ایران سے کسی صورت براہ راست نہیں الجھے گا، اس حقیقت کے باوجود ایران کے نسبتاً نزدیک سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں طیارے تعینات کرنے کی وجہ؟
اسی دوران پاکستان نے آٹھ ہزار فوجی یمنی سرحد پہ بھی تعینات کیے تھے. یہ سب ایک سال قبل کیا جارہا تھا، جب حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا، مگر جن کا کام ہے، ان کی نظر بہت دور دیکھتی ہے. جس تیاری کا آغاز ایک سال قبل کیا جارہا تھا، کیا اب عین موقع پر اسے بےثمر چھوڑ دیا جائے گا ؟ ایسا شخصی اور فردی تعلق میں ہو تو ہو، ریاستیں ایسا نہیں کیا کر تیں.
اب آئیے ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو کے اس حصے کی جانب جس پہ زیادہ توجہ نہیں دی گئی. جنرل احمد شریف سے جب سوال ہوا کہ اگر معاہدے کے کسی ایک فریق پہ حملہ ہوا تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا؟ جنرل چودھری نے جواب دیا کہ ایسے معاہدوں کی تمام تفصیلات دنیا کو نہیں بتائی جاتیں.
کہنے، پڑھنے اور سننے کو یہ ایک عام سی بات ہے، مگر اس میں ایک جہانِ معنی و مفہوم پوشیدہ ہے. کہنے کو وہ بہت آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ ہمارا ایسی کسی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، مگر انہوں نے اصولی بات کی کہ "سب باتیں نہیں بتائی جاتیں، نظر لگ جاتی ہے. " نیٹو اتحاد نے بھی اپنے سارے پتے دنیا کے سامنے پھیلا نہیں دیے، بلکہ بہت کچھ دنیا کی نظروں سے ابھی تک اوجھل ہے. حقیقت یہ ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے کی تفصیلات دنیا کے سامنے کبھی نہیں آتیں.
امریکا سے تعاون کی درخواست سمجھیے کہ اتمامِ حجت تھا کہ انتہائی حالات میں اس کا ردعمل خود دیکھا اور واشنگٹن کو دکھایا جائے، تاکہ بوقت ضرورت کام آئے. امریکا نے اس لیے تعاون نہیں کیا، کیوں کہ ایران کے خلاف سعودی عرب بھی تعاون سے گریزاں رہا تھا. سعودیہ کی ایران کے ساتھ اس اچھائی کو وہی تسلیم کرے گا، جس میں ضمیر نام کی شے باقی ہو.
یمن میں ابھی تو جنگ شروع ہوئی ہے. حوثیوں کی سرزمینِ حجاز پہ حملوں کی صلاحیت ختم یا کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے باب المندب چھیننے کے لیے سعودیہ ہر حد تک جائے گا. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس سفر میں وہ اکیلا ہوگا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے. اسلام آباد اور استنبول نظر آئیں یا نہیں، مگر ان کا کردار کہیں نہ کہیں ضرور جھلکے گا.دھیرج رکھیے! ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے.