سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو مصر کا اہم دورہ کیا۔ مصر نے بڑی فراست کا مظاہرہ کیا۔ مصر نے پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے مکہ معاہدے سے خود کو الگ رکھا ۔ لیکن عین وقت پر جب سعودی عرب پر یمنی حوثی گروپ کے سعودی عرب پر حملوں کے وقت ریاض کو لبیک کہا اور ایک برادر عرب ملک کی حیثیت سے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ یہی کچھ مصر نے 2015ء میں بھی کیا تھا۔ جب پاکستان نے یمن جنگ کے دوران معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کرنے کا جواز پیش کیا تھا تب مصر نے متبادل کے طور پر تعاون کی یقین دہانی کرکے سعودی عرب کا دل جیت لیا تھا۔ اس کے بعد مصر نے سعودی عرب سے بھاری تعاون لیا۔اور آسٹرٹیجک مفادات سمیٹے ۔ جبکہ پاکستانی لیبرز کو گالم گلوج اور سخت دباؤ فیس کرنا پڑا۔
ابھی مکہ معاہدے کے دوران بھی مصر باوجود کوششوں کے بھی معاہدے کا حصہ نہیں بنا۔ لیکن آج مصر پر سعودی عرب نے اپنے اعتماد کا ایک مرتبہ پھر اظہار کرلیا ہے۔ جبکہ عرب سوشل میڈیا میں پاکستان کے بارے نامناسب تاثرات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
مشرق وسطی کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ دورہ قاہرہ کے بجائے اسلام آباد کا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایران کی ناراضگی سے خوفزدہ فیصلوں کے باعث پاکستانی فیصلہ ساز اس اہم موقع کو گنوا بیٹھے ۔
آگے کیا ہوتا ہے یہ تو وقت بتائے گا۔ لیکن یہ اٹل ہے کہ اس کے بعد جو منظر نامہ ہے وہ بڑا بھیانک ہے۔ ہم متحدہ عرب امارات جیسے دوست ملک کو گنوانے کے بعد سعودی حکومت کا اعتماد بھی حاصل نہیں کرسکے۔ جس طرح ہمارے اداروں کے لیے ٹی ٹی پی اور ان کے پشت پناہی کرنے والے ہیں ٹھیک اسی طرح سعودی عرب کے لیے حوثی ہیں۔ ایسے میں حوثی حملوں کے دوران بھی اگر پاکستانی حکام کے بیانات صرف مذمت تک محدود رہے تو اس کا کیا مطلب لیا جاسکتا ہے۔ پاکستان صرف ایک مکہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ بلکہ پا کستان اگست 2026 ء کے مکہ معاہدے سے قبل ستمبر 2025 میں بھی سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کرچکا ہے جس کے تحت ۔مشترکہ دفاع کا اصول طے ہوا تھا ۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے یہ عزم کیا کہ کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
آج اگر ہماری وزارت خارجہ یا دیگر اداروں کے ترجمانوں کا مکہ معاہدے کا حوالہ دیکر یہ کہنا کہ یہ معاہدہ صرف دفاعی مقاصد کے لیے تھا ، کافی نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستان کے ذمہ ستمبر 2025ء کے پاک سعودی معاہدے کا اخلاقی قرض باقی ہے ۔ لہذا پاکستان ایک ایسے موقع پر خاموشی کا اظہار کررہا ہے جب حوثی حملوں میں سعودی کے 73 شہری زخمی ہوئے ہیں اور اربوں کا مادی نقصان ہوا ہے۔ حوثی گروپ نے سعودی کا کنگ خالد ائیر بیس نشانہ بنایا ہے جو سعودی حکومت کے یمن آپریشن کے لئے مرکزی پوائنٹ تھا۔ سعودی عرب کے شہری اس وقت محتاط انداز میں ان حملوں اور بڑھتے ہوئے خطرے پر اظہار خیال کررہے ہیں۔ یہ موقع تھا دل جیتنے کا جسے ہم اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا نے کی بھیانک غلطی کرچکے ہیں۔