ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو محض مغربی علوم کو اسلامی رنگ میں پیش کرنے کے بجائے خود ان علوم کی علمیاتی بنیادوں، مناہجِ تحقیق اور فلسفیانہ مفروضات کا تنقیدی جائزہ لے سکیں۔
عاصم افتخار
اتنے کثیر وسائل کو عام طلبہ کے لیے اسکالرشپس معیار تدریس کو بہتر بنانے بنیادی تحقیق اور سستے تعلیمی ماڈلز قائم کرنے پر خرچ کیا جاتا تو اس کا براہ راست فائدہ معاشرے کے نچلے اور درمیانے طبقے کو ہوتا۔
مفتی سید فصیح اللہ شاہ
ایسی بحثوں میں مقصد کسی ادارے یا شخصیت کی تنقیص نہیں، بلکہ علمی معیار کو بلند رکھنا ہونا چاہیے۔ اگر ادارہ ان سوالات کا سنجیدہ اور شفاف جواب دے، تو یہی نقد اس کے لیے اصلاح اور مضبوطی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
’’احتسابِ ناصبیت‘‘ نامی کتاب کے حوالے سے اختلاف، تحقیق، نقد کریں مگر اہلِ علم کا ادب، علمی دیانت اور سیاق و سباق کا لحاظ بھی ملحوظ خاطررکھیں۔غیرجانب دارانہ راہ نمائی
مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ
آفتاب نذیر
ایک منفرد ناول کا تعارف، جس میں جانور ”نیلا“ کو مرکزی کردار بنا کر انسانی جبلت، استحصال اور سماجی زوال کو بیان کیا گیا ہے۔
-ایک قاری کاانتخاب
غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے فقہا پر اعتراض کیا ہے کہ فقہا نماز کے احکام متعین کرنے کے لئے ایسی قرآنی آیات کو حوالہ بناتے ہیں جن کا دور دور تک وہ موضوع نہیں ہوتا۔
ڈاکٹرزاہدصدیق مغل
Hafiz Muhammad Shariq
موسیقی کی ترغیب یا اس کے استعمال کی دعوت نہیں، بلکہ فقہی اختلاف کی حدود، دعوت کے اسلوب اور اسلام قبول کرنے کے بنیادی تقاضوں کے بارے میں ایک سنجیدہ علمی کوشش۔
ڈاکٹرمولانامحمداکرم ندوی،آکسفورڈ
ابو الحسین آزاد
کیا سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولویوں نے پرنٹنگ پریس پہ پابندی عائد کرکے اسلامی دنیا کو سائنسی زوال کی طرف دھکیل دیا تھا؟ سلطنت عثمانیہ کی مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی لبرل سیکولر طبقے کی کوششیں اور ان کا توڑ
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر احید حسن
نامور مصنف،محقق،ٹرینر وہیومن کوچ (ڈیل کارنیگی) کی انسانی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے لکھی گئی ایک عملی رہنما کتاب پرتبصرہ
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
سیاست میں لفظوں کا انتخاب محض الفاظ نہیں ہوتا بلکہ ہر جملہ ایک پیغام، ایک اشارہ اور بعض اوقات ایک دھمکی بھی ہوتا ہے، خواہ وہ دھمکی محبت کے لبادے میں ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔
نوید مسعود ہاشمی
بغیر علم کے لوگ غلط باتیں پھیلاتےہیں, یوں نوجوان نسل بالخصوص خواتین دین کی تعلیمات اور اخلاقی حدود سے غافل ہو جاتی ہیں اور مغربی تصورات کو معمول سمجھنے لگتی ہیں۔
مدیحہ بیگ