(+92) 319 4080233
کالم نگار

مک ارسلان عباس، فرینکفرٹ

مک ارسلان عباس، فرینکفرٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
آدابِ غلامی
بر صغیر کی تقسیم سے پہلے ھم انگریز کی غلامی کرتے تھے؛ 1947 کے بعد ھم انگریزی کی غلامی کرتے چلے آ رہے ہیں. فرق اب صرف اتنا ہےکہ ھم جسمانی طور پر چاہے آذاد بھی ہو چکے ہوں ٫ مگر ذہنی طور پر اب بھی غلام ھی ہیں اور مان لیجیئے کہ یہی کڑوی حقیقت ہےاس امر سے کوئی انکار نہیں کہ اللہ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ مائیں آزاد بچے جنتی ہیں اور ازاد فضا میں پروان چڑھتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم پر سے غلامی کے مہیب سائے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ وجہ بہت سادہ اور عام فہم ہے یعنی مذھبی اقدار سے دوری اور اپنی شناخت پر سمجھوتہ!! ہم غیر اللّٰه کے غلام تھے، ہیں اور تب تک رہیں گے جب تک اتباع قرآن کیساتھ اللّٰه کی غلامی اختیار نہیں کر لیتے۔پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد محترم نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ‏ I beg to say ‏ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا Your obedient servant‏اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کو کسی کا تابع فرمان قسم کا نوکر قرار دے دوں؟‏وکالت کے شعبے میں آیا تو یہاں بھی وہی تذلیل دیکھی جو انصاف مانگنے آتا تھا اسے سائل کہا جاتا تھا۔ سائل ہماری عدالتوں اور کچہری میں ہمیشہ عرض گزار ہی پایا گیا، انصاف مانگا نہیں جا سکتا تھا۔ سائل یہ مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کہ انصاف دیا جائے، مگر ہاں وہ Prayer یعنی التجا اور درخواست پیش کر سکتا تھا‏میں بیٹھ کر سوچتا کہ اگر عدالت بنی ہی انصاف دینے کے لیے ہے اور اگر اللہ کا حکم ہے کہ انصاف کرو یہ تقوی کے قریب تر ہے تو پھر اس بنیادی انسانی حق کے حصول کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟؟ گڑگڑاتے لہجوں میں مسکینی طاری کر کے Prayer کیوں کی جاتی ہے؟؟ اس کے برعکس باوقار طریقے سے ڈیمانڈ کیوں نہیں کی جاتی؟؟ہم نے تو ہمیشہ یہی سنا ہے کہ حق خیرات میں نہیں ملتا بلکہ چھینا جاتا ہے۔
افشاء راز در غلامی:
‏بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ برطانوی دور غلامی میں سکھائے گئے غلامی کے وہ آداب ہیں جو ہمارے لہو میں خون کی طرح دوڑ رہے ہیں۔انگریز لکھاریوں نے ہمیں آداب غلامی سکھانے کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں، ان میں سے ایک کتاب ڈبلیو ٹی ویب نے لکھی جس کا عنوان ہےEnglish etiquette for Indian gentlemen اگر آ بنظر غائر اس کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب کم اور غلامی سکھلانے کی دستاویز زیادہ ہے اس میں ایک ایک کر کے مقامی لوگوں کو بتایا گیا کہ اب ان کا دور نہیں رہا، ان کی تہذیب بھی پرانی ہو چکی۔ نئے آقا اب جو چاہتے ہیں انہیں اسی تہذیب کو اپنانا ہو گا‏ڈبلیو ٹی ویب کی اس کتاب میں بعض مقامات پر تو بڑی ڈھٹائی سے واضح طور پر آداب غلامی سکھائے گئے ہیں ‏تفصیل سے بتایا گیا ہے انگریز کے حضور حاضر ہونے کے آداب کیا ہیں، اس سے ملنے کے آداب کیا ہیں، اس سے مخاطب کیسے ہونا چاہئے ؟؟مقامی یعنی ہندوستانی ڈیزائن کے جوتے پہن کر جانا ہے تو جوتے باہر برآمدے میں اتار کر اندر حاضر ہونا ہے، ایسے جوتے پہن کر انگریز کے حضور حاضر ہونا اس کی توہین ہے‏خبردار سلام کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھایا جائے جب تک صاحب یا میم خود تمہیں اس قابل نہ سمجھیں ‏کسی انگریز کو صرف اس کے نام سے نہیں پکارنا بلکہ القابات لگانا ضروری ہے، کسی یورپی سے سر راہ ملاقات ہو جائے تو ادب کے تقاضے کیسے پورے کرنے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدعو کرنا ہے تو میزبانی کے آداب کیا ہوں گے؟؟ وغیرہ وغیرہ ‏مقامی تہذیب کو مکمل طور پر قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے سونے سے جاگنے تک اور جاگنے سے سونے تک، ہر معاملے اور ہر لمحے میں انگریزی طور طریقے سکھائے گئے ہیں۔ کھانا کیسے کھانا ہے۔ چھری کانٹا کیسے استعمال کرنا ہے۔؟اس میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ہاتھ سے کھانا ایک برائی ہے خبردار جو کسی جنٹل مین نے گوشت ہاتھ سے کھایا‏انگریزوں کی حساسیت کا خیال رکھنے کا بار بار “حکم” دیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ تمہاری بے عزتی ہو جائے تو برا نہ مناؤ بلکہ خندہ پیشانی سے مسکرا کر اظہار کرو۔‏اور ہاں اگر تم معزز بننا چاہتے ہو تو شادی کے دعوت ناموں میں چشم براہ، دیدہ و دل فرشِ راہ یا چشم بد درو جیسی فضولیات کی جگہ RSVP لکھا کرو۔اب اندازہ لگائیے!! نگریز کو یہاں سے گئے آج پون صدی ہو گئی ہے لیکن ہمارے شادی کے دعوت ناموں سے RSVP ختم نہیں ہو سکا ہم آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے معززین بننے کے چکروں میں ہیں ‏مقامی تہذیب و اقدار کی تذلیل پر مشتمل عمومی “ادب و آداب” کے بیان میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو کتاب کے آخر میں درخواست لکھنے کے آداب لکھ کر کے پوری کر دی گئی۔ باب نمبر گیارہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست، پیٹیشن وغیرہ کیسے لکھی جائیں؟؟ اور ساتھ ہی نمونے کے طور پر کچھ درخواستیں اور پیٹیشنز لکھی گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ’مقامی جنٹل مین‘ رہنمائی حاصل کریں۔‏ان تمام درخواستوں میں چند چیزیں اہتمام سے بتائی گئی ہیں ‏اول: ‏درخواست کی شروعات، جو انتہائی غلامانہ، فدویانہ اور ذلت آمیز انداز سے کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر I beg to say کا انداز سکول کے بچوں کی درخواست سے لے کر سرکاری عرضیوں تک ہر جگہ بے دریغ استعمال کیا گیا ہے تا کہ سکولوں سے ہی بچے یہ سیکھ لیں کہ کہ آداب غلامی کیا ہوتے ہیں؟ اور کیسے ایک دن کی چھٹی کی درخواست کا آغاز بھی Beg سے ہوتا ہے دوم: ‏‏ہر درخواست کے آخر پر Your servant،Your most obedient servant، جیسے الفاظ لکھے گئے ہیں تا کہ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہوتا رہے کہ انکی اوقات نوکر اور رعیت سے زیادہ نہیں ‏یہ ایک پوری تہذیبی واردات تھی جو اس سماج پر مسلط کی گئی۔ چونکہ اہم مناصب پر پھر یہی ‏مقامی جنٹل مین فائز ہوئے اور نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد یہی افسر شاہی ہمیں ورثے میں ملی اور کسی نے اس سماجی واردات پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے یہ "مقامی جنٹل مین" یعنی کالے انگریز آج بھی انگریزی آداب سے سماج کی پشت لال اور ہری کیے ہوئے ہیں۔ ‏اس جنٹل مینی کے خلاف پہلی آواز دلی سے اٹھی۔ لعل گوردیج نامی ایک مداری دلی کے چوراہے میں بندر لے کر آتا اور ڈگڈگی بجا کر اسے کہتا : جنٹل مین بن کے دکھاؤ۔لعل گوردیج کا بندر ہیٹ لگاتا، چشمہ پہنتا اور پورا مجنٹل مین بن جاتا۔ بندر اور مداری دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔مقامی جنٹل مین ناراض ہو گئے (دل چسپ بات یہ ہے کہ بندر نچانے والے آج بھی بندر نچاتے وقت یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ جنٹل مین بن کے دکھاؤ) شاید اسی لیے انگریز نے ان کا شمارمجرم قبیلوں میں کیا ہوا تھا.کبھی کبھی جب دن ڈھل رہا ہوتا ہے، مارگلہ سے اترتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے جنگل سے بندر شور مچا مچا کر کہہ رہے ہوں:‏’’جنٹل مین بن کر تو دکھاؤ‘‘‏پہاڑ سے اترتا ہوں تو دیکھتا ہوں سارا ہی شہر جنٹل مین بنا ہوتا ہے۔ غلامی میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
آزاد فضا میں بسے غلام:
ملک عزیز پاکستان کلمے کے نام اور انگریز کی غلامی سے نجات کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا لیکن بدقسمتی سے غلط پالیسیوں کی وجہ سے لارڈ میکالے کی باقیات نے عوام کو گورے کے قائم کردہ بین الاقوامی اداروں کی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کا غلام بنا ہوا ہے۔پاکستان ایک ازاد اسلامی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا لیکن آج 75 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کلمے کے نام پر بننے والے پاکستان میں اسلام نافذ نہیں ہو سکا۔ عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے مسائل کے دلدل میں دھنستے چلے گئے اور آج ائی ایم ایف کی غلامی یہاں تک آ پہنچی کہ آنے والی نسلیں بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی مقروض بن چکی ہے۔ ہم اب آزاد فیصلے بھی نہیں کر سکتے۔ اگر ہم اب بھی بیدار نہ ہوئے اور ایک قوم بن کر آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہ کیا تو یاد رکھیں تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی بلکہ خاکم بدہن ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔لسانی، گروہی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہمیں آزادی کی نہ صرف قدر کرنی ہے بلکہ قوم و ملت کو حقیقی آزادی سے روشناس بھی کرانا ہے۔
غلام شکن وجود:
جنگ آزادی 1857ء برصغیر کے عوام نے مذہب و ملت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک قوم بن کر لڑی۔ہندوئوں اور انگریزوں کی ملی بھگت نے مسلمانوں کو شش و پنج میں ڈال دیا اور مسلمانوں کا ہندوئوں پر سے اعتماد اٹھ گیا۔ مولانا ظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین نے 1903ء میں لاہور سے ہفت روزہ زمیندار جاری کیا۔ والد کی خواہش کے مطابق مولانا نے 1909ء میں اس کی ادارت سنبھا ل لی۔ مولانا ظفر علی خان نے زمیندار میں پہلی جنگ عظیم کے وقت جنگ کی خبریں شائع کیں جس پراخبار کو بند کردیا گیا۔مولانا ظفر علی خان کی بیشتر صلاحتیں اور توانائیاں انگریزوں کی غلامی کے خلاف جہاد کرتے ہوئے صرف ہوئیں۔ مولانا نے اپنے اخبار کی وجہ سے عوام کا حکومت کے حوالے سے خوف کم کیا اور عوام کو آزادی کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرایا۔آپ کی شبانہ روز محنت اور جان توڑ کوششوں سے مسلم امہ میں حقوق کی حفاظت اور اہمیت کا ادراک پیدا ہوا۔
فلسفہ اقبال اور غلامی:
برصغیر کے مسموم غلامانہ سماج میں اقبال کا پیدا ہونا یقیناً نعمت خداوندی سے کم نہیں تھا اقبالؒ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ ہم انگریز اور ہندو کی غلامی سے آزادی حاصل کریں اور شُتر بے مہار کی طرح فسق و فجور کے راہگزار میں بھٹکتے پھریں۔ من چاہی زندگی گزاریں اور مذھب کو بطور ڈھال استعمال کریں۔ہم یہ بات جتنی جلدی اپنے اذھان میں بٹھا لیں تو اچھا ہے کہ اقبالؒ اسلامی ہندوستان یا پاکستان اس لئے نہیں چاہتے تھے کہ ہم انگریز اور ہندو کی جسمانی اور اقتصادی غلامی سے آزادی حاصل کریں اور شُتر بے مہار کی طرح فسق و فجور اور لادینیت کے سیلاب میں بہہ جائیں۔ جسمانی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ذہنی طور پر دوسروں کے غلام رہیں اور ذہنی مرعوبیت کا یہ عالم ہو کہ ہر چمکتے ہوئے پیتل کے ٹکڑے کو سونا سمجھ کر نہ صرف اٹھالیں بلکہ دوسروں کو بھی اسے سونا سمجھنے پر مجبور کریں اور اپنے اصلی سونے کو پیتل سے بھی بدتر سمجھیں۔ آپ ہرگز ایسی آزادی کے حامی نہ تھے آپ نے موقع محل کے حساب سے نہ صرف اس سوچ کی واشگاف الفاظ میں نفی کی بلکہ واضح طور پر آگاہی فراہم کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ: دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
برصغیر غلامی کی تحویل میں:
جب برصغیر میں مغل سلطنت اپنی غلط پالیسیوں اور دور اندیشی کے فقدان کے سبب اندرونی طور پر کمزور ہوگئی اور عملاً دلی تک محدود ہوگئی تو انگریز دور بیٹھ کر حالات کا جائزہ لیتے رہے۔ مقامی ریاست ،راجاﺅں سے میل جول کرنے لگے اور پورے جنوبی ایشیاءکی تاریخ،جغرافیہ ،مذہبی اطوار ، زبانوں سے واقفیت حاصل کر لی۔ ہندوﺅں کے ساتھ اچھا برتاﺅ رکھا اور آہستہ آہستہ اندر سے ہندوﺅں کو اپنے ساتھ ملایا اور مسلمان حاکموں کے خلاف سازشیں تیار کر لیں اور مشرقی حصہ بنگال پر میر صادق غدار کی مدد سے مکمل قبضہ 1753ءمیں کر لیا اور مزید ریاستوں کی طرف رُخ کرنا شروع کیا اور مغربی حصہ یعنی موجودہ پاکستان پر انگریزوں نے 1849ءمیں قبضہ کر لیا اور پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگوں میں ملک بدر کیا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم شروع ہو گئے۔ ہندوﺅں نے اپنی چالاکی سے انگریز کو یقین دلایا کہ ہم مہاراج آپ کے ساتھ ہیں۔ مسلمان بڑے خطرناک ہیں۔یہ آپ سے اپنی بادشاہت چھن جانے کا بدلہ لیں گے۔ ان سے ہوشیار رہنا۔یہ دیش تو ہم ہندوﺅں کا ہے مسلمان تو ہم پر وارد ہوئے تھے اور یوں انگریز آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا گیا۔ انگریزی تعلیم ،چرچ،مذہبی عیسائیت کے ادارے قائم ہونے لگے۔ فارسی، عربی اور اُردو کے خلاف محاذ تیار ہوئے اور اسلام کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ مسلمانوں کےلئے سرکاری دفاتر میں آسامیاں ناپید ہوگئیں۔ مسلمان بحیثیت قوم تعلیم ،معاشرت اور کاروبار میں ہندوﺅں سے پیچھے رہتے گئے۔ بے اتفاقی نے مزید نقصان پہنچایا۔ 1857ءکی جنگ آزادی نے مسلمانوں کےلئے مزید حالات خراب کیے۔ انگریز مزید مسلمانوں کا دشمن ہو گیا۔ ہندو ہر وقت مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔یہ وہ دور تاریک تھا جہاں سے غلامی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

کالم نگار : مک ارسلان عباس، فرینکفرٹ
| | |
344