یا کراچی کا عام آدمی کبھی ایسا دن دیکھ پائے گا جب بجلی کا بل دیکھ کر اس کا دل ہولنے کے بجائے اسے سکون کا احساس ہو؟ شاید یہی وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو آج اس بے بس شہر کے ہر بند کمرے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے۔
محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
اگر ہم نے ابھی سے نئے علما کی صحیح تربیت اور حوصلہ افزائی کا بندوبست نہ کیا، تو آنے والے وقت میں دین کا کام کون کرے گا؟ کون امت کو جوڑے گا؟
محمدعلی،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
اگر حکومت اپنی اسٹیبل کوائن جاری کرے تو ضروری ہوگا کہ اس کی مکمل ضمانت بھی حکومت ہی قبول کرے، بالکل اسی طرح جیسے موجودہ کاغذی کرنسی ریاست کی ذمہ داری کے تحت جاری کی جاتی ہے۔
مفتی محمد نعیم خان
راستہ واضح ہو، رہنمائی مسلسل ہو، اور ہر مرحلے پر ساتھ دینے والے لوگ موجود ہوں تو وہ ادارہ بھی، جہاں کبھی عربی سنائی نہیں دیتی تھی، چند ہی مہینوں میں ایک نئی فضا اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے.
ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو بھی سماجی اسٹیٹس بنا لیا ہے۔ اب بعض لوگوں کے لیے حج روحانی سفر سے زیادہ “پروفائل اپڈیٹ” بن چکا ہے۔ عبادت کم، اعلان زیادہ۔ خشوع کم، کیمرہ اینگل زیادہ۔
-ایک قاری کاانتخاب
کامیابی کا معیار صرف فائلوں کی نقل و حرکت یا اجلاسوں کی تعداد نہیں ،بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، محصولات میں اضافہ، مالی نظم و ضبط، شفافیت، عوامی اطمینان اور خدمات کے معیار میں بہتری ہے۔
کرنل (ر) ابرار اسماعیل
کیا سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولویوں نے پرنٹنگ پریس پہ پابندی عائد کرکے اسلامی دنیا کو سائنسی زوال کی طرف دھکیل دیا تھا؟ سلطنت عثمانیہ کی مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی لبرل سیکولر طبقے کی کوششیں اور ان کا توڑ
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر احید حسن