(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
ہمسائیگی کا حق:دعوے اورحقائق
اقوام کے درمیان تعلقات محض جغرافیائی قربت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، دیانت اور عمل کی سچائی پر استوار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کی قومی دفاعی یونیورسٹی میں افغانستان کے سفیر جناب سردار احمد شکیب نے جو خطاب فرمایا، اس میں الفاظ کی چاشنی اور سفارتی مہارت بلاشبہ قابلِ داد ہے۔ انہوں نے تاریخ، جغرافیہ، اور مشترکہ ثقافت کا حوالہ دے کر ایک ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جس میں افغانستان مظلوم اور صرف خواہشمندِ امن دکھائی دے۔ مگر قارئین، دانائی یہی ہے کہ الفاظ کے پیچھے چھپے حقائق کو بھی تولا جائے۔

سفیر صاحب فرماتے ہیں کہ "افغانستان نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔" یہ ایک نیک خواہش ہے، اور بلاشبہ خواہشات مبارک ہوتی ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیت کا اظہار زمینی حقیقت بدل دیتا ہے؟ جس دھرتی سے روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سرحدی محافظوں پر گولیاں چلیں، جہاں سے دہشت گردی کے منصوبے تیار ہو کر ہمارے بازاروں، مسجدوں اور چوکیوں میں خون کی ہولی کھیلی جائے، وہاں سے آنے والی زبانی یقین دہانیاں کیا اس خون کا مداوا کر سکتی ہیں جو بےگناہ پاکستانیوں کا بہا؟

قرآن مجید نے فرمایا: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو" (الحجرات)

یہی اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ دعوؤں کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اور حقائق یہ ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی قیادت، ان کے ٹھکانے اور ان کی منصوبہ بندی کے ٹھوس شواہد بارہا کابل کے حکمرانوں کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔ سفیر صاحب کا یہ فرمانا کہ الزامات "مبہم" ہیں، درحقیقت اُس ذمہ داری سے راہِ فرار ہے جو ایک خودمختار ریاست پر اپنی سرزمین کے کنٹرول کی صورت میں عائد ہوتی ہے۔

سفیر صاحب نے خوب فرمایا کہ ہمسائیگی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ملک دوسرے کی ہر پالیسی کی تائید کرے۔ بجا ارشاد! مگر یاد رہے کہ خودمختاری کے ساتھ ایک امانت بھی جڑی ہوتی ہے اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف تخریب کاری کا اڈہ نہ بننے دینا۔ جس طرح ایک گھر کا مالک اپنی چار دیواری میں آزاد ہے، مگر اگر اُسی چار دیواری سے پڑوسی کے گھر پر پتھر پھینکے جائیں تو "میرا گھر، میری مرضی" کی دلیل انصاف کے ترازو میں نہیں ٹھہرتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو پاکستان بارہا اقوامِ عالم کے سامنے رکھتا آیا ہے: امن کی خواہش الفاظ سے نہیں، عمل سے ثابت ہوتی ہے۔

سفیر صاحب نے فرمایا کہ آج کا افغانستان، ماضی کے سرد جنگ والے یا غیرملکی قبضے والے افغانستان سے مختلف ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو سکتی ہے، مگر دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم فقط لفظی تبدیلی پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا نظریاتی اور تنظیمی وابستگیاں بھی بدلی ہیں یا نہیں۔ جو گروہ کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ برسوں کندھے سے کندھا ملا کر لڑتا رہا، اُس سے آج مکمل لاتعلقی کا دعویٰ کرنا یہ دعویٰ ہے، یقین نہیں۔

فرمایا گیا کہ راستوں کی بندش اور مہاجرین کی واپسی کو "سیاسی دباؤ" کا ذریعہ بنایا گیا۔ قارئین، یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کسی بھی خودمختار ریاست کو اپنی سرزمین پر غیرقانونی مقیم افراد کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، خصوصاً جب سکیورٹی رپورٹیں یہ اشارہ دیں کہ اس آڑ میں ناپسندیدہ عناصر بھی موجود ہیں۔ یہ اقدام سزا نہیں بلکہ حفاظتی تدبیر ہے، اور ہر مدبر قوم اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی مجاز ہے۔

قارئینِ محترم! یہ کالم افغان بھائیوں سے عناد یا دشمنی پر مبنی نہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمسائے کا احترام کیا جائے، اور یقیناً افغان عوام سے صدیوں پرانا رشتہ، دینی و ثقافتی ناتا، ہمارے دلوں میں محفوظ ہے۔ مگر محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ سچائی سے آنکھیں نہ چرائی جائیں۔

جس طرح ایک مسلمان بھائی سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے قول میں سچا ہو، اُسی طرح ریاستوں کے تعلقات میں بھی سچائی اور عملی اقدامات ہی وہ میزان ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ الفاظ کی خوبصورتی دلکش ضرور ہو سکتی ہے، مگر امن کی عمارت صرف خطابت پر نہیں، ٹھوس اقدامات پر تعمیر ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان صداقت پر مبنی، پائیدار اور باعزت تعلقات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
35