پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے،جس کا ہر حصہ نفع بخش ہوتا ہے۔ اس اشارے میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ ایک سچا مسلمان جہاں بھی ہو، وہ خیر، رحمت اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
مولاناسمیع اللہ سالم
حال میں احادیثِ رسولﷺ عصرِ حاضر کے پس منظر میں نام سے دو جلدوں میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی ایک کتاب شائع ہوئی ،جوعصرِ حاضر کے بدلتے احوال میں احادیث سے رہبری فراہم کرتی ہے۔
مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی
”الموسوعة الحدیثیة لمرویات الإمام أبی حنیفة“ ۲۰ جلدوں میں منظر عام پر،علماء احناف پر امام صاحبؒ کا ایک قرض تھا گویا وہ ادا ہوگیا۔
محمدنعمان مکی،مکہ مکرمہ
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کلئےھ حج کرے اس طرح کہ اس حج مںی نہ (کوئی فحش بات ہو اور نہ فسق ہو اور نہ کوئی گناہ وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جسال اس دن تھا جس دن ماں کے پٹی سے نکلا تھا۔(متفق علہی، مشکوٰۃ)
مولانا نعمان نعیم
شریعت نے نو ذی الحجہ کے دن کو یوم عرفہ کا نام دیا ہے اور واضح طور پر فقہائے کرام نے یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا کسی بھی عذر سے عرفہ کے دن مدکان عرفات مں حاضری نہ دے سکا ہو وہ عرفہ کے دن کا سورج غروب ہون
مولانا نعمان نعیم