(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
مکہ معاہدہ علاقائی توازن کی نئی بنیادبنے گا
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ جناب ابراہیم رضائی کا یہ ارشاد کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ محض ایک کاغذی دستاویز ہے جو حقیقی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، علمی اور تجزیاتی نقطۂ نظر سے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ریاستوں کے مابین معاہدات کبھی محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتے، بلکہ یہ باہمی اعتماد، تاریخی رفاقت اور مشترکہ مفادات کی علامت ہوتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ" (اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو)۔

یہ آیتِ مبارکہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی و ریاستی سطح پر بھی عہد کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور یہی وہ روح ہے جو مسلم ممالک کے باہمی دفاعی و سفارتی معاہدات کو محض دستاویزی حیثیت سے بلند کر کے ایک اخلاقی و دینی ذمہ داری کا درجہ دیتی ہے۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی سلامتی کا حقیقی امتحان بلند بانگ دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی میدان میں ہوتا ہے۔ ماضی میں جب علاقائی کشیدگی کے سائے میں پاکستان کو للکارنے کی کوشش کی گئی، تو اس کا جواب زبانی بیانات سے نہیں بلکہ ایک متعین اور فیصلہ کن عمل سے دیا گیا، جس کے اثرات خطے کی تزویراتی (strategic) فضا پر دیر تک محسوس کیے گئے۔ یہ تاریخی تسلسل اس امر کا غماز ہے کہ پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسی محض ردِعمل پر مبنی نہیں بلکہ ایک باشعور، خودمختار اور دور اندیش قومی حکمتِ عملی کی عکاس رہی ہے۔

سہ فریقی دفاعی معاہدہ یا؟
مستقبل کے امکانات پر نظر ڈالی جائے تو یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ محض ایک روایتی سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی توازن (regional balance of power) کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین یہ اشتراک، اگر مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے اور مستقل سفارتی رابطے سے مربوط رہے، تو یہ نہ صرف مسلم دنیا کے دفاعی تعاون کا ایک نیا نمونہ (model) بن سکتا ہے بلکہ عالمِ اسلام کی اجتماعی سلامتی کے تصور کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جب امتِ مسلمہ کو باہمی رنجشوں کے بجائے اشتراکِ عمل کی طرف بڑھنا ہوگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمھم وتعاطفھم کمثل الجسد" (مومنین کی مثال آپس میں محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی سی ہے)۔

ایران اپنے گریبان میں جھانکے:
دوسروں کے معاہدات کو کاغذی قرار دینے سے قبل مناسب یہی ہوگا کہ ایرانی پالیسی ساز اپنی علاقائی حکمتِ عملی اور ماضی کے تجربات کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کریں، کیونکہ جو نگاہ دوسروں کے عیب تلاش کرتی ہے، اسے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا زیبا ہےاور آخر میں یہ حقیقت کسی جواز، کسی وضاحت کی محتاج نہیں: پاکستان کا وجود کسی معاہدے کے سہارے قائم نہیں، بلکہ یہ معاہدے پاکستان کی طاقت سے قوت پکڑتے ہیں۔یہ وہ سرزمین ہے جس نے اپنی بقا کا فیصلہ میدانِ عمل میں کیا، الفاظ کے بازار میں نہیں۔ کل بھی اس کا جواب عمل تھا، آج بھی اس کی پہچان عمل ہے، اور کل بھی — اگر خدانخواستہ آزمائش آئی — اس کا جواب صرف اور صرف عمل ہوگا۔

تاریخ گواہ ہے:
جو قوتیں پاکستان کو کمزور سمجھ کر آزمانے نکلیں، وہ خود اپنے اندازوں کے ملبے تلے دب گئیں۔ ہماری ترجیح امن ہے، ہماری بنیاد اعتماد ہے، مگر ہماری غیرت پر کوئی سمجھوتا نہیں۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
55