(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ایران امریکا جنگ بندی:حقیقت اورمفروضے
اٹھائیس فروری 2026کوامریکااوراسرائیل نے ایران پربڑے پیمانے پرحملے کیے،جن میں سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنائی سمیت کئی اعلیٰ عہدیدارہلاک ہوگئے۔

امریکی حکام نے خودتسلیم کیاکہ اس جنگ کے دواعلانیہ مقاصدتھے:ایران کے جوہری وبیلسٹک میزائل پروگرام کوختم کرنا اورملک میں"رجیم چینج"لانا۔علی خامنائی کی ہلاکت کے بعدان کے بیٹے مجتبیٰ خامنائی کونیاسپریم لیڈرمنتخب کرلیاگیا،یعنی نظامِ ولایتِ فقیہ ختم نہیں ہوا،بلکہ اب یہ منصب باپ سے بیٹے کومنتقل ہوکرایک طرح کی موروثی مذہبی حکومت کی شکل اختیارکرگیاہے۔یہ تصویرکاظاہری رُک ہے،جسے فی الحال عالمی میڈیا بھی پیش کررہاہے اور دوست،دشمن بھی تسلیم کررہے ہیں،تاہم مستقبل قریب میں واضح ہوسکے گاکہ ولایتِ فقیہ کانظام سرے سے ختم کردیاجاتاہے یابے روح وبے جان کردیاجاتاہے؟اتنایقینی ہے کہ اب مجتبیٰ خامنائی کی بطورِ رہبراعلیٰ وہ گرفت نہ رہ پائے گی جوخمینی یاخامنائی کی تھی،کیونکہ یہ اس منصب کے لیے اہل نہیں تھا،مگرموروثیت کے نام پر صحابہ کرامؓ پر تنقید کرنے والوں نےیہاں موروثیت ہی کوجائے پناہ سمجھا،شاید اس لیے بھی کہ استعماری طاقتوں کوبھی ایک نام نہاد رہبرِ اعلیٰ کی ضرورت تھی،گویاایک پھولاہوا غبارہ!!

کئی مہینوں کی جنگ،حملوں اورمذاکرات کے تسلسل کے بعد17جون کوواشنگٹن اورتہران کے درمیان اسلام آبادمیمورنڈم کے نام سے ایک معاہدہ ہوا،جس میں فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کااعلان کیاگیا۔تاہم اس معاہدے میں جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اورخلیجِ ہرمزسے متعلق کئی بنیادی سوالات تاحال حل طلب ہیں،اورمذاکرات کاسلسلہ جاری ہے۔عالمی نشریاتی اداروں کاکہناہے کہ یہ جنگ بندی کسی ایک فریق کے مکمل اہداف کے حصول کانتیجہ نہیں، بلکہ ایک مشروط اورنامکمل معاہدہ ہے،جسے خودامریکی وبرطانوی تحقیقی ادارے بھی حتمی حل تسلیم نہیں کرتے۔

اب سوال یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنائی اپنے والدکی تدفین میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟
اس کی جوعام وجہ بین الاقوامی خبررساں اداروں (اے پی، این بی سی، سی این این)نے دی ہے،وہ سیکیورٹی خدشات اورخودمجتبیٰ خامنائی کازخمی ہوناہے۔رپورٹس کے مطابق وہ اس حملے میں شدیدزخمی ہوئے تھے،جس میں جسم اورچہرے پرجلنے کے زخم اورٹانگ کی سرجریاں شامل ہیں،اوراسرائیلی وزیردفاع نے سرِعام انہیں "قتل کے لیے نشانہ زدہ" کہاہے۔یعنی ان کی عدم موجودگی کوکسی سیاسی تبدیلی یانظام کے خاتمے کے "ثبوت"کے طورپرپیش کرنادرست نہیں،کیونکہ حقائق اس کی تائیدنہیں کرتے۔

اگرچہ بعض تجزیہ کاروں کایہ بھی کہناہے کہ اس جنگ بندی کے بعدایران میں "مغربی جمہوریت" آئے گی اور ولایتِ فقیہ کاخاتمہ ہوجائے گا،یہ عدم شرکت اسی کی ایک کڑی ہے،تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں: فی الحال صورتِ حال یہی ہے کہ ولایتِ فقیہ کانظام قائم ہے،اقتدارکی منتقلی موروثی طورپرہوئی ہے،اورعالمی تھنک ٹینکس (بشمول اٹلانٹک کونسل)اسے "ہریڈیٹری تھیوکریسی"یعنی موروثی مذہبی اقتدارکہہ رہے ہیں،جوجمہوریت کی نفی ہے۔ساتھ ہی ایران کی پارلیمنٹ تاحال معطل ہے اورحقیقی طاقت پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ میں بتائی جاتی ہے۔ابھی یہ دعویٰ قبل ازوقت ہوگاکہ اسےمحض مردہ گھوڑا یا ہوا بھراغبارہ یاکاغذی شیر قراردیا جائے !!

خود ایرانی ذرائع ابلاغ کا بھی ماننا ہے کہ انتقالِ اقتدار اور جنگ بندی کامطلب یہ نہیں کہ ایرانی نظام کوکسی چیلنج کاسامنانہیں۔جنوری کے مظاہرے،عوامی بے چینی،اورخودحکومتی جبرکے ذریعے فیوزل ٹرن آؤٹ اکٹھاکرنے کی کوششیں(جیساکہ تدفین کے موقع پرمزدوروں اوردکانداروں کوشرکت پرمجبورکیاگیا)ظاہرکرتی ہیں کہ اندرونی طورپرحکومت کی ساکھ کمزورہوچکی ہے۔

اس کی کوکھ سے کیا برآمد ہوتاہے؟یہ کہنا قبل ازوقت ہے ،جیساکہ بعض عناصرکا اسے "مغربی جمہوریت کی آمد"سے تعبیرکرنا؛ابھی تک کسی ٹھوس شہادت پرمبنی نہیں،بلکہ ایک امیدیاخدشہ ہے۔

موجودہ صورت حال میں حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی ایک نامکمل،مشروط اورجاری مذاکراتی عمل ہے،اورمجتبیٰ خامنائی کی تدفین سے غیرحاضری کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات وزخم بتائی جارہی ہے۔"ولایتِ فقیہ کاخاتمہ"یا"مغربی جمہوریت کاقیام" ابھی محض قیاس آرائیاں ہیں،جن کے حق میں کوئی معتبرثبوت موجودنہیں۔میڈیااخلاقیات کاتقاضا اور میڈیا ڈسکورسز کااصول ہے کہ ہمیں ہرسنسنی خیزدعوے کوحقیقت سمجھنے سے پہلے،اس کی تصدیق یاوقت کاانتظارکرنا چاہیے!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
23