منقول
الغرض بری عادتوں سے بچنا ایک جنگ ہے، اور یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں، اصولوں سے جیتی جاتی ہے۔
انتحاب وترتیب: محمد ریاض بن امیر نواز فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی متخصص جامعہ دارالہدیٰ کراچی
-ایک قاری کاانتخاب
مفتی مجیب الرحمٰن،راولپنڈی
گناہ سے توبہ کرنے کے بعد اگر کبھی انسانی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ لغزش ہوجائے تو انسان مایوس ہوکر توبہ کا راستہ نہ چھوڑے۔ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرے، پھر ندامت کے ساتھ معافی مانگے.
محمدسہیل کھتری
جہاں بھی چلے جائیں مریضوں کی قطار لگی ہوتی ہے ، ایسے میں انسان میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور انسان کو غصہ بھی آجاتا ہے۔ لیکن اس جھنجھلاہٹ اور غصہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ صرف صحیح نیت ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی
آج میری نہیں، تہذیب کی ریٹائرمنٹ ہو رہی ہے۔ جیسے آج صرف میں اس ادارے سے رخصت نہیں ہو رہا، بلکہ میرے ساتھ وہ ساری تہذیب بھی رخصت ہو رہی ہے جو ہم نے اپنے بڑوں سے سیکھی تھی۔
تحریم ریاض
خواتین وبچوں بچوں کی تربیت، خطباء اور دیگر علما کی جدید فکری تربیت، تھنک ٹینک کا قیام ، ریسرچ یونٹ اور تجدیدی فورمز ، اجتماعی شوریٰ اور فیصلہ سازی کا کلچر جیسے اہم امور میں بھی تجدیدی کام کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
عبدالرحمن السعیدي
بعض حضرات یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ ہم نے تو اپنے اہلِ خانہ کو دینی رنگ میں رنگنے کی بڑی کوشش کی، لیکن زمانے کی ہوا ہی ایسی ہے کہ ہمارے وعظ و نصیحت کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔
مفتی محمد تقی عثمانی
بوی منہج کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی نہیں، بلکہ انسان کی فکر، کردار اور عمل کی اصلاح بھی ہے۔
مولانا محمد طیب حنیف میمن(لیکچرار، بحریہ کالج، کارساز | فاضل و متخصص، جامعہ علومِ اسلامیہ، بنوری ٹاؤن)
یاد رکھیے! قلم کی اصل قوت کسی کو نیچا دکھانے میں نہیں، بلکہ حق کو بلند کرنے میں ہے؛ اور علم کی حقیقی عظمت مخالف کو رسوا کرنے میں نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود انصاف کرنے میں ہے۔
مولانامحمد احمدحافظ
محاسبہ اس احساس کے ساتھ ہونا چاہیے کہ ایک دن ہمیں اپنے اعمال کا جواب اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم دنیا ہی میں اپنی کوتاہیوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کر لیں۔
مولانامحمد حارث(فاضل دارالعلوم کراچی)
اختلاف کا جواب اختلاف سے دیا جاسکتا ہے، مگر تذلیل کا دروازہ کھول دیں گے تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔کسی شخصیت یا ادارے کی اصلاح اور اس کی بے توقیری میں بہت فرق ہے۔فکرانگیز تحریر
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
محض ملازم کو قصوروار ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ادارے نے اپنے ملازم کے لئے اصلاح، ذمہ داری اور کارکردگی کا ماحول کس حد تک قائم کیا ہے؟
مفتی سفیان بلند
سچائی جاننے کے بعد بھی زی لونگ کی عادات تبدیل نہیں ہوئیں۔ وہ الیکٹرک موٹر سائیکل پر دفتر جاتے ہیں، ای کامرس شعبے میں عام ملازم کی طرح کام کرتے ہیں اور اب ان کا مقصد اس برانڈ کو عالمی سطح پر پھیلانا ہے۔
-ایک قاری کاانتخاب
کسی سے متاثر ہونا بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں متاثر ہونا، مرعوبیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
آج کا دور تقاضا کرتا ہے کہ علماء کرام سوشل میڈیا کو سنجیدگی سے سمجھیں۔پرسنل برانڈنگ کو نیت کی اصلاح کے ساتھ اختیار کریں۔ جدید ذرائع کو دعوتِ دین کے لیے استعمال کریں۔
صوفی محمد رمضان چھینہ،اسلام آباد
رؤف کلاسرا ہمارے ممدوح ہیں اور ان کی کئی باتیں بڑی متاثر کرتی ہیں اور دل میں اتر جاتی ہیں۔ یہ تحریر بھی ان کی ایسی بہت سی تحریروں میں سے ایک ہے، جس میں وہ حکیم لقمان کی طرح اپنے بیٹے فہد کو نصیحتیں کرتے ہیں۔ اس کے آخری پ
رؤف کلاسرا
آپ خاموشی سے اپنا جائزہ لیجیے، اپنی سمت متعین کیجیے، اہداف مقرر کیجیے اور آج ہی اپنے سفر کا آغاز کردیجیے۔ یقین جانیں، اگر آپ نے اپنی ملازمت کے ساتھ اپنے علم، کردار، تحقیق، تصنیف، تربیت اور خدمت کو جوڑ لیا تو ایک وقت آئے
ڈاکٹرامیرجان حقانی
بچوں کی اس نوع کی نادانیوں پر ، جن کی جھلک رَملہ اور میرے بچپن واقعے میں نظر آئی ، فوری طور پر سخت رد عمل اور طیش کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے
Abu Ramla
بہت سے علماء کرام پوشیدہ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں ، مگر وہ ایک عام آدمی کی نسبت ان گناہوں کو کہیں زیادہ ہلکا لیتے ہیں اور ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ان کیلئے بہت مشکل امر ہوتا ہے ۔
Abu Ramla
اساتذہ کی کمی پوری کی جائے، خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں ہوں، سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، احتساب کا نظام مضبوط بنایا جائے اور تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ ناکامی کا علاج
(تحریر: محمد یوسف حنفی ترجمان جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاھور)
نعیمہ امین
امام غزالی، ابن تیمیہ، ابن رشد، شاہ ولی اللہ دہلوی، علامہ اقبال اور دیگر اکابر نے اپنے اپنے دور کے متعدد علوم سے استفادہ کیا، پھر کسی ایک میدان میں غیر معمولی تخصص حاصل کیا۔ اسی جامعیت نے ان کی فکر کو دوام بخشا۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
دنیا کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ اور دنیا کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کے بچے ہوتے ہیں، اگر آپ کے بچے خراب ہو گئے یا وہ صحت مند نہیں رہے یا ان کا دماغ خراب ہو گیا یا وہ زندگی میں پیچھے رہ گئے یا انہوں نے کچھ زندگی میں سیکھا نہیں ہے
H.M.Zakariyya
عہد کیجیے! رات کو اپنے دل کو پریشانیوں کا بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا، شکر گزاری اور سکون کا تحفہ دے کر سوئیں، کیونکہ اچھی نیند صرف گھنٹوں کی نہیں، ایک مطمئن دل کی محتاج ہے۔
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
شعبہ حفظ کے بچے میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے:محبت + حوصلہ افزائی + مناسب اصلاح + موازنہ سے پرہیز + چھوٹی کامیابیوں کی تعریف + خوف سے پاک ماحول ضروری ہے۔جس بچے کو استاد کا اعتماد مل جائے، وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی ک
قاری عبدالرشیدچشتی
غصہ آنا بری بات نہیں، بلکہ غصے اور ریجیکشن (رد کیے جانے) کو سنبھال نہ پانا بچے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
محمدجنید
اگر ہم اپنی ذمہ داریاں سمجھ کر عمل کریں تو ان شاءاللہ موجودہ مشکلات کا حل بھی نکلے گا اور امت پھر سے عزت کا مقام حاصل کرے گی۔
محمداویس انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ