لفظ "شیخ الاسلام" کوئی الہامی، شرعی یا توقیفی لقب نہیں ہے جو اللہ یا رسول اللہ ﷺ نے کسی کو دیا ہو، بلکہ یہ امت کے علماء اور عوام کی طرف سے کسی بڑے عالم کو ان کی بے لوث خدمات پر دیا جانے والا ایک عرفی اور اعزازی لقب ہے۔
فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک تحریر نظر سے گزری جس میں ایک صاحب دعوی کررہے تھے کہ شیخ الاسلام دو ہی گزرے ہیں حالانکہ وہ کم علمی یا مسلکی تعصب میں یہ بھول گئے یا پڑھا نہیں کہ اسلامی تاریخ میں سینکڑوں ایسے جلیل القدر علماء گزرے ہیں جنہیں اپنے دور میں "شیخ الاسلام" کہا گیا، جن میں سے بہت سے امام ابن تیمیہ سے پہلے کے ہیں یا ان کے ہم عصر اور مقلد تھے۔ مثال کے طور پر امام ابو اسماعیل الہروی الحنبلی، امام بیہقی، امام نووی، شارحِ بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی اور امام تقی الدین السبکی جیسے عظیم محدثین اور فقہاء کو "شیخ الاسلام" کے لقب دیا گیا ہے۔
پھر محترم نے لکھا کہ"بھلا ایک مقلد بھی شیخ الاسلام ہو سکتا ہے؟" حالانکہ اہل سلف اور جمہور امت کے ہاں تقلید کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ امام کی بات کو نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر ترجیح دی جائے، تقلید تو قرآن و حدیث کو سمجھنے اور ان سے احکام اخذ کرنے کے لیے ائمہ اربعہ کے فہم، تقویٰ اور اصولوں پر اعتماد کا نام ہے۔ خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اصول ہے کہ جب صحیح حدیث مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی پوری زندگی حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت میں گزاری ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ شیخ الاسلام امام ابن قیم رحمہ اللہ شیخ الاسلام تھے،فروعی مسائل میں ابن قیم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقلد (حنبلی) تھے، مقلد ہونا شیخ الاسلام بننے کے راستے میں رکاوٹ ہوتا تو امام ابن قیم خود اس تعریف سے باہر ہو جاتے۔
رہی بات مفتی تقی عثمانی صاحب کے اپنے طرزِ عمل کی انہوں نے کبھی خود اپنے لیے یہ لقب نہیں لکھا اور نہ ہی وہ اس کے خواہشمند ہیں،جو ان کے عجز اور تقویٰ کی واضح دلیل ہے۔ کسی شخص کو یہ لقب اس کے عقیدت مند یا امت کے دوسرے بڑے علماء دیتے ہیں اور مفتی صاحب کو یہ لقب دنیا بھر کے بڑے بڑے عرب و عجم کے علماء (بشمول سعودی عرب، مصر اور شام کے شیوخ) نے ان کی بین الاقوامی علمی، فقہی اور خاص طور پر اسلامی بینکاری کے شعبے میں تجدیدی خدمات کی وجہ سے دیا ہے۔
بھائی صاحب نے یہ تو لکھا کہ محض عہدے یا عزت حق ہونے کی دلیل نہیں ہوتے، لیکن یہاں معاملہ صرف عہدوں کا نہیں بلکہ علمی اثر و رسوخ کا ہے،مفتی تقی عثمانی صاحب نے فقہِ اسلامی کو جدید دور کے پیچیدہ مسائل پر منطبق کرنے کا جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اور امت کو سود کا متبادل نظام دیا ہے، اس کا اعتراف عرب کے بڑے بڑے سلفی علماء بھی کرتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے ان بھائی صاحب کی بات علمی اور تحقیقی ہونے کے بجائے جذباتی اور مسلکی غلو پر مبنی نظر آئی، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخی طور پر لفظ "شیخ الاسلام" کسی خاص مسلک کی جاگیر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ثابت کرسکتااور عقلی طور پر ائمہ اربعہ کی فقہ کی روشنی میں دین کی خدمت کرناامت کو انتشار سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب کی علمی وجاہت، حدیث کی شروحات، اور جدید فقہی مسائل پران کی عالمی گرفت انہیں اس دور میں اس لقب کا سچا مستحق بناتی ہے، چاہے وہ خود اپنی عاجزی کی وجہ سے اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ لہٰذا، ایسے مضامین کو علمی وزن دینے کے بجائے نظر انداز کرنا چاہیے کیونکہ ان کا مقصد علمی اصلاح سے زیادہ مسلکی تنقص ہوتا ہے،