(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ

مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ایک وسیع النظرعالم
جامعہ بنوریہ عالمیہ سے وابستگی کے دوران مجھے مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو تھے، لیکن اگر ایک وصف کو ان کی شناخت قرار دیا جائے تو وہ ان کی وسعتِ نظر تھی۔ وہ صرف اپنے ادارے یا اپنے ماحول تک نہیں سوچتے تھے بلکہ ان کی نگاہ ہمیشہ اس سے آگے ہوتی تھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کو محض ایک مقامی دینی ادارہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عالمِ اسلام کے ایک معروف علمی مرکز کی حیثیت دلائی۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کی سرپرستی کو وہ غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ طلبہ صرف طالب علم نہیں بلکہ اپنے اپنے ممالک میں دین کے سفیر تھے۔ آج دنیا بھر میں جامعہ بنوریہ کے فضلاء کی خدمات ان کی دور اندیشی، وسعتِ نظر اور غیر معمولی ادارہ سازی کا روشن ثبوت ہیں۔

مفتی صاحب مدارسِ دینیہ کے مضبوط محافظ تھے، لیکن ان کا امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف دفاع پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ وہ مدارس کی ترقی اور دنیا کے سامنے ان کے مثبت تعارف کی بھی مسلسل فکر رکھتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ مدارس اپنی علمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو بھی سمجھیں اور معاشرے کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں۔

ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو جراتِ اظہار تھا۔ وہ اپنی رائے واضح انداز میں بیان کرتے تھے اور مشکل مواقع پر بھی مؤقف اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ وہ معاملات کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے، اہلِ علم سے مشورہ کرتے اور پھر متوازن رائے قائم کرتے تھے۔ یہی فکری پختگی اور اعتماد ان کی قیادت کی نمایاں خصوصیات میں سے تھا۔

میں نے ان کی شخصیت میں ایک اور وصف نمایاں طور پر دیکھا، اور وہ مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت تھی۔ علماء، طلبہ، صحافی، دانشور، سماجی شخصیات اور مختلف ممالک سے آنے والے افراد، سب ان کے ساتھ تعلق محسوس کرتے تھے۔ ایک بڑے ادارے کے سربراہ ہونے کے باوجود ان تک رسائی آسان تھی اور ان کے مزاج میں ایسی کشادگی تھی جس نے انہیں صرف ایک منتظم نہیں بلکہ ایک محبوب قائد بنا دیا تھا۔

نوجوان علماء پر ان کا اعتماد بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ وہ نئی نسل کی صلاحیتوں کو پہچانتے، انہیں ذمہ داریاں دیتے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی ان کے تربیت یافتہ افراد مختلف میدانوں میں ان کی فکر اور مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

آج مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کو یاد کرتے ہوئے یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ان کا اصل کارنامہ صرف ایک ادارے کی قیادت نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فکر کو فروغ دینا تھا جس میں وسعتِ نظر، اعتدال، جرات، قیادت اور مستقبل بینی یکجا ہو گئی تھی۔ میری نظر میں یہی اوصاف انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتے ہیں اور یہی ان کے علمی و دینی ورثے کی اصل روح ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین!

کالم نگار : مفتی جنیدالرحمن سکھروی،دارالافتاءجامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
40