(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا محمد طفیل کوہاٹی

مولانا محمد طفیل کوہاٹی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
دوبزرگوں کا ایمان افروزتذکرہ
کوہاٹ کے رجال تحفظ ختم نبوت میں حضرت پیرسید احمدباباکابلیؒ کا نام سر فہرست شخصیات میں ہے۔ کیونکہ حضرت کابلیؒ کوہاٹ کی وہ عظیم روحانی شخصیت تھی جن کی دعوت پر گورداسپور کے ایک قادیانی ڈاکٹر محمد امیرنے اسلام قبول کیااور اسلام قبول کرنے کے بعد سلوک واحسان کے مدارج طے کرتے ہوئے آپ کے اجل خلیفہ ہوئے۔ پیر باباسیداحمدکابلی ؒ جیسا کہ نسبت سے ظاہر ہے کہ افغانستان کےشہر کابل کے رہنے والے تھے، اصلا ح نفس اور تعلق مع اللہ کے شوق میں بغداد تشریف لے گئے اور وہاں شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے سلسلہ کی کسی کامل شخصیت کے پاس رہ کر قادریہ کے اسباق میں خوب محنت کی اور مجاہدات کی ترتیب سے گزرے، یہاں تک کہ صاحب نسبت وخلافت ہوئے۔ لیکن اس سے ان کی پیاس نہیں بجھی، وطن واپس آکر چورہ شریف پنجاب کی خانقاہ میں حضرت خواجہ دین محمد چوراہی ؒ المعروف ملاں جی نقشبندی ؒسے بیعت ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ کے مجاہدات میں مصروف ہوئے۔

پروفیسر سیدمسرت حسین شاہ ؒ[م:۲۰۰۶ء] جو حضرت مولانامحمداشرف سلیمانی ؒ[م:۱۹۹۵ء] کے خلیفہ مجاز تھے اور پیر باباکابلیؒ کے خلیفہ ڈاکٹر محمدامیر ؒ کے خادم خاص رہے، راوی ہیں: کہ پیر کابلی صاحب ؒ صبح کی نماز کے بعد جنگل کی طرف چلے جاتے تھے۔ذکر واذکار اور مراقبات پورے کر کے لکڑیوں کا گٹھڑ سر پر رکھ واپس آجاتے تھے۔ اسی طرح خانقاہ میں مختلف خدمت کے کام سر انجام دیتے۔خود کو اتنا مٹاکر رکھا کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ آپ قادریہ سلسلے میں صاحب خلافت ہیں ۔ سلسلہ نقشبندیہ میں بھی خوب ترقی کی۔کچھ عرصہ بعد ان کے شیخ ان کی روح کو خاص عروج(بلندی) پر پہنچانا چاہتے تھے،جو باوجود کوشش کے نہیں ہو رہا تھا۔آ خر ایک دن شیخ نے فرمایا: برخوردار! آپ کی ترقی کا اگلا قدم نہیں ہو رہا اور ا س کی وجہ بندہ پر یہ کھلی ہے کہ آپ کے قلب میں یہ بات ہے کہ میں سید ہوں،اس بات کو فناکرنے کی ضرورت ہے۔اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ آپ کوہاٹ کے بازار میں بیٹھ کر پرانے جوتے سینے کاکام شروع کریں گے۔

آپ کے خلیفہ مجاز سیدجعفر شاہ بنوری ؒ کے پوتے سے بندہ نے ایک انٹرویو کیاتو انہوں نےاپنے دادا کے واسطہ سے بیان کیاکہ:شیخ کے ارشاد پر آپ کوہاٹ تشریف لائے ، اولاً آپ نے شہر کے مرکزی دروازے کنگ گیٹ میں زمین پر بیٹھ کر پرانے جوتے سینے کا کام شروع کیا، ایک انگریز ڈپٹی کمشنر اس راہ سے گزرتا تھا، آپ کے پرنور چہرہ کو دیکھ کر وہ بے اختیار رک جاتااور دیر تک آپ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہتا۔ اس پر آپ نے یہ جگہ تبدیل کرکے کوہاٹ شہر کے بغلی دروازے رنگڑھ کے سامنے بیٹھ کر یہ کام شروع کردیا اور تین سال تک مسلسل پرانے جوتے گانٹھتے رہے۔ یہاں تک کہ پرانے جوتے سینے والے موچی کے طور پر مشہور ہو گئے اور سادات والا خیال دل سے محو ہو گیا۔تب آپ کے شیخ نے انہیں نقشبندیہ میں خلافت دی ، اس کے بعد پیر باباکابلیؒ نے کوہاٹ ہی کو اپنے رشد وہدایت کا مرکز بنا لیا۔ایک بار انگریز ڈپٹی کمشنر کاسوٹڈ بوٹڈ سپریڈنٹ آپ کے پاس سے گزرا، آپ نے اس پر نگاہ ڈالی اور فرمایاکہ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے پاس لے کر آئے گا، ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ حیران ہوئے کہ یہ صاحب آدمی آخر اس موچی باباکے پاس آخر کیوں آئے گا؟ لیکن کسے خبر تھی کہ قلندرہرچہ گوید دیدہ گوید۔ ایک دن وہ سپریڈنٹ گزرتے ہوئے اچانک رکے اور موچی باباکے تھڑے کے پاس آکر بیٹھ گئے ، آپ نے جو توجہ ڈالی تو پھر تو گویا روز ہی ان کامعمول بن گیا۔ یہاں تک کہ وہ انگریزی حلیہ چھوڑ کر اور لباس درویشی اختیار کرکے آپ ہی کے ہوگئے۔ انہوں نے پیر باباکابلیؒ کو اس تھڑے سے اٹھایااور اپنے گھر لے آئے ، اپنے قریب گھر بنواکردیا۔ آپ کے لیے زمین خرید کر مسجد تعمیر کروائی ، یہ کوہاٹ کے مشہور سیاسی وسماجی شخصیت پیر جعفر شاہ بنوریؒ [1871ء ۔ 1970ء] تھے، جو حضرت سید آدم بنوری ؒ کی اولاد میں سے تھے۔ آپ پیر باباکابلیؒ کے ایسے خادم ہوئے کہ فنافی الشیخ ہوگئے، حتی کہ ان کے اجل خلفاء میں شمار ہوئے اور قبر بھی اپنے شیخ کے قدموں میں بنی۔ کوہاٹ بنوں بازار سے ایک گلی میاں خیل بازار کو نکلتی ہے، اسی گلی میں دائیں ہاتھ پر محلہ رنگڑھ میں آپ کی مسجد آج بھی قائم ہے، یہاں بیٹھ کر آپ نے توحید وسنت اور اصلاح وارشاد کا پیغام عام کیا۔ کوہاٹ میں آپ کے دوسرے ممتاز خلیفہ آپ کے صاحبزادے سید یونس بادشاہ ؒ[م:2020ء]تھے جو سلسلہ نقشبندیہ کے کامل شیخ تھے اور آپ کے بعد آپ کے مسند رشد وہدایت کو آباد رکھا۔پیر باباکابلیؒ کا انتقال 12؍ اگست 1931ء بمطابق 27 ربیع الاول 1350ھ کو کوہاٹ میں ہوا اور تاندہ ڈیم روڈ پر جنان باباقبرستان میں مدفون ہوئے۔

ڈاکٹر محمد امیرؒگورداسپوری ثم کوہاٹی[م:۱۹۶۸ء]
آپ کے خلیفہ مجاز ڈاکٹر محمدامیرؒ ضلع گورداس پور مشرقی پنجاب کےرہنےوالےتھے،اچھےتعلیم یافتہ تھے، ملازمت کے سلسلہ میں ڈیرہ دون میں ہسپتال حیوانات کے انچارج متعین ہوئے،ابتداہی سےبزرگوں کی زیارت اور حاضر ہوکران کی صحبت سےمستفیض ہونا،آپ کاشیوہ تھا۔ابتدامیں مرزاغلام احمدقادیانی کےدام فریب میں آگئےاور اس سےبیعت ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور پیر باباکابلیؒ کے ہاتھ پر واپس مسلمان ہوئے۔

قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام :
آپ کے خادم پروفیسر سید مسرت حسین شاہؒ آپ کے اسلام لانے کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں :"ایک دفعہ ساہیوال ریلوے اسٹیشن پر پیر باباکابلی ؒسے آپ کی اچانک ملاقات ہو گئی۔ پیر باباکابلی صاحبؒ ایک نگاہ ان پر ڈال کر غائب ہو گئے ،لیکن ڈاکٹر صاحبؒ کو بے قرار کر دیااور آپ نے انہیں ڈھونڈنا شروع کردیاجب ڈھونڈنے سے اسٹیشن پر نہیں ملے تو ٹکٹ اور سفر چھوڑ کر ان کی تلاش میں شہر کی طرف نکل گئے۔ آپ ایک مسجد میں بیٹھے ہوئے ملے۔ ملتے ہی پیر کابلی صاحبؒ نے پوچھا:’’ کس سے تعلق ہے؟‘‘ ڈاکٹر محمدامیرؒ نے کہا : ’’غلام احمد قادیانی سے‘‘۔ پیر کابلیؒ نے فرمایا : ’’اوہو!وہ تو کافر ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحبؒ بولے: ’’تو پھر؟‘‘ پیر کابلیؒ نے فرمایا: ’’ تو پھر آپ مسلمان ہو جائیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحبؒ فوراً مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہوکرپیر باباؒ سے بیعت بھی ہوگئے۔

دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے
اسی سے ریشئہ معنی میں نم ہے
اگر کوئی شعیبؑ آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
یہ پیر کابلی صاحبؒ کی شخصیت کی نورانیت اورنگاہ کی تاثیر تھی کہ بغیر دلائل اور مناظرے کے ایک پڑھے لکھے آدمی کی کایا پلٹ دی۔

؎ان کی نگاہ ِ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب جستجو ، عشق حضور اضطراب
ڈاکٹر صاحبؒ فرماتے تھے کہ سلسلہ کے پہلے سبق جب مکمل ہوتے تھے تو غیبی طریقے سے کسی اسٹیشن پر پیر صاحب سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ پیر صاحبؒ توجہ دے کر اگلے اسباق بتا کر رخصت ہوجاتے تھے۔ چنانچہ ایسے ہی ڈاکٹر صاحبؒ ولی ٔ کامل اور شیخ ِ محقق بن گئے۔ " لیکن احوال العارفین کے مصنف نے آپ کے قبول اسلام کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

"ایک دفعہ ڈیرہ دون میں ایک بزرگ جوپیرصاحب کابلی ؒ کےنام سے مشہور تھے ، تشریف لائے،حسب دستور آپ بھی حاضرہوئےاور ان سے کوئی وظیفہ پڑھنے کےلئے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: اپنے پیر سے وظیفہ دریافت کرو پھر پیر صاحبؒ نے فرمایا: تمہاراپیر ومرشد کون ہے؟آپ نےعرض کیاکہ مرزاغلام احمد۔ معاً انہوں نے فرمایاکہ اوہو! وہ تو کافر ہے تم اس سے بچو۔آپ ان الفاظ کے سننے سے بہت گھبرائے اور متفکر ہوئےکہ حضرت صاحبؒ نے میرے پیر کو کافر کہاہےاور مجھے بچنےکی تلقین فرماتے ہیں، آخر اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اورقادیانیت سے توبہ تائب ہوئے، حضرت پیر کابلیؒ سے بیعت ہوئےاور ذکرواذکار کی تلقین حاصل کی۔

دونوں واقعات میں کافی تفاوت ہے، ڈیرہ دون ہندوستان اتراکھنڈ کا ضلع ہے، جبکہ ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے گوکہ یہ واقعہ تقسیم سے قبل کا ہے تاہم دونوں مقامات میں کافی مکانی بعد ہے۔ ہم حافظ غلام فرید ؒ کی روایت پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ تحریر ہے، جبکہ پروفیسر مسرت حسین شاہؒ کا واقعہ ہمیں صدری روایت سے پہنچا ہے جس کے درمیان واسطہ بھی موجود ہے۔تاہم قدرے مشترک پیرباباکابلیؒ کی گفتگو، آپ کا قبولیت اسلام اور پیر باباکابلیؒ سے آپ کی بیعت ہے، جو ہمارااصل مقصود ہے۔

پیر صاحب کابلی ؒ کے وفات کے بعدآپ حضرت مولاناعبدالقادر رائےپوری قدس سرہ سے وابستہ ہو گئے۔ حضرت میرگوہرؒ[جو حضرت رائے پوریؒ کے خلیفہ تھےاور کشمیر سے تعلق تھا۔] کی وساطت سے ذکر و اذکار خوب کرتے رہے۔جب حضرت رحمۃ اللہ علیہ ڈیرہ دون تشریف لے جاتے تو آپ ہر شب خدمت میں حاضر رہتے ،ایک عرصہ کے بعد اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ تقسیم ملک کےبعد لاہور تشریف لے آئے۔ جب حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ لاہور تشریف لاتے تو حاضرخدمت رہتے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے دن بھی حاضر تھے۔ اس کے بعد اپنے سابق پیر حضرت پیربابا کابلی رحمۃاللہ علیہ کی خانقاہ مسجد پیر بابا کابلیؒ کوہاٹ میں جا کر مقیم ہوگئے ۔ آخر عمر میں کوہاٹ کی معروف شخصیت پیر معصوم شاہؒ شکردرہ کوہاٹ جو ایک نامور وکیل تھے، نے آپ کی خوب خدمت کی اور روحانی فیض سمیٹا۔آپ کا قیام سید پیر جعفر شاہ بنوریؒ کے ہاں ہی ہوتا تھا۔

حضرت مولانااشرف الدین مدظلہم استاد حدیث مدرسہ قاضی حسام الدین کوہاٹ راوی ہے کہ:" حضرت ڈاکٹر محمد امیر صاحبؒ کا چہرہ انوار سے چمکتا تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے چاند روشن ہو ۔آپ کی کرسی کے سامنے ایک بڑا شیشہ لگا ہوا ہوتا تھاجس پر بیٹھ کر آپ اوراد واشغال کرتے۔ ہم مدرسہ کے طلبہ واساتذہ آپ کی خدمت میں دعا واستفادہ کے لیے حاضر ہوتے تو دائماً آپ کو تلاوت میں مشغول پاتے ۔میں نے کبھی آپ کو بغیر تلاوت کے نہیں دیکھا تھا۔ انتہائی کم گو تھے، ضرورت کے علاوہ کوئی بات نہیں فرماتے تھے۔ لوگوں کوتقوی کی تلقین کرتے اور فتنہ قادیانیت سے بچنے کی سختی سے تاکید فرماتے تھے۔"

آپ نے کوہاٹ میں بروز بدھ ۱۳ رمضان ۱۳۸۸ھ بمطابق 4 دسمبر 1968 ءکو وصال فرمایا اور اپنے شیخ کے پہلو میں کوہاٹ کے معروف جنان باباقبرستان میں مدفون ہوئے۔

ایک ایسے دور میں جب مرزا کا کذب ودجل پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آیا تھااور ہزار ہا مسلمان اپنامتاع ایمان لٹوا چکے تھے۔ ڈاکٹر محمد امیر ؒ کی غیب سے ایسی دستگیری کہ وہ اس فتنہ سے محفوظ ہوئے اور ولایت کے منصبِ عظیم پر فائز ہو کر ہزاروں لوگوں کے ایمان و عقیدہ کو محفوظ کرنے کا باعث بنے ، آپ کی قبولیتِ عنداللہ کی واضح دلیل ہے۔یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ڈاکٹر محمد امیرؒ بزرگوں سے تعلق وعقیدت میں مخلص تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے درست جگہ پہنچا دیا، تعصب وتعنت سے پاک تھے اس لیے غیب سے تھام لیے گئے۔ واقعی اللہ والوں کی تلاش ، ان سے عقیدت ومحبت کا تعلق بہت سے فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

دوسری طرف حضرت پیر سید احمد باباکابلیؒ جو ایک بالکل گوشہ نشین اور پرانے جوتے سینے والے ایک فقیر منش بزرگ تھے، کی بیدار مغزی و بصیرت ملاحظہ فرمائیں کہ جس وقت بڑے بڑے نکتہ رس علماء پر مرزا کا کفر نہیں کھلا تھا ، اس وقت انہوں نے بغیر مطالعہ وتحقیق کے محض اپنے نورِ باطن سے اس کے کفر کی شہادت دی اوراس کفر میں غرقاب سادہ لوح لوگوں کو نور اسلام کی طرف نکالنے کے لیے دلیل وبرہان کی بجائے قوت باطنیہ اور زور ِتوجہ کو کام میں لایا۔ خدا ان نفوس قدسیہ کی قبروں پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین وخاتم النبیین ﷺ

کالم نگار : مولانا محمد طفیل کوہاٹی
| | |
26