(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمد یاسر حبیب مختار

مولانامحمد یاسر حبیب مختار

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ
یقینا موت برحق ہے،ہم میں سے ہر ایک ذی روح کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے اور موت آنی ہے، رب کریم کی رضا پر راضی رہنا بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان کا جزو ہے۔۔۔خوش نصیب ہوتی ہیں وہ ہستیاں جن کی زندگی مثالی اور دوسروں کے لئے نمونہ عمل ہوتی ہے ، استاذ محترم حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی رحلت صرف مادر علمی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے لئے ہی صدمہ کا باعث نہیں بلکہ پورے ملک بلکہ عالم اسلام کے دینی حلقوں، دینی تحریکوں کے لئے عظیم المیہ کا باعث ہے... ہم نے جب سے آنکھ کھولی اور سن شعور میں قدم رکھا تو حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کا شفیق چہرہ اپنی آنکھوں کے سامنے پایا، اور پھر جیسے جیسے عقل و شعور کے دریچے وا ہوتے گئے ویسے ہی آپ کی شخصیت کے متعلق آگہی حاصل ہوتی رہی۔۔۔۔نانا جان محدث العصر حضرت علامہ بنوری نوراللہ مرقدہ و مضجعہ کی حیات طیبہ کا وافر حصہ جن حضرات مکرمین نے پایا، ان میں والد گرامی شہید جامعہ حضرت اقدس مولانا ڈاکٹرمحمدحبیب اللہ مختارشہید علیہ الرحمہ، ہمارے محترم خالو امام اہل سنت مفتی احمد الرحمن قدس سرہ، اور استاذ محترم حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر علیہ الرحمہ اور حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید علیہ الرحمہ کی شخصیات سرفہرست ہیں۔

بالخصوص والد گرامی اور حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کے متعلق ہمیشہ یہ سنا کہ یہ دونوں حضرات سیدی نانا جان قدس سرہ کے سفر و حضر میں اکثر و بیشتر ساتھ رہتے اور نانا جان قدس سرہ کو جتنی راحت و سہولت ان دونوں حضرات کی معیت میں رہتی، اتنی شاید کسی کے ساتھ ملتی ہو، اس حوالے سے ایک سے زائد مرتبہ یہ بات حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی زبانی بھی سنی کہ "ہمارے شیخ حضرت بنوری قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ دوران سفر آپ دونوں حضرات کی موجودگی مجھے بڑی راحت بخشتی ہے " غالبا اس کی بنیادی وجہ ان دونوں حضرات کی نانا جان قدس سرہ سے محبت، عقیدت اور مزاج شناسی تھی... اس حوالے سے یہ بات احقر نے والد گرامی سے بھی سنی کہ چونکہ ہم حضرت بنوری کے مزاج اور پسند نا پسند واقف تھے حتی کہ حضرت بنوری قدس سرہ صرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور ہم سمجھ لیتے کہ حضرت شیخ کو کس چیز کی طلب ہے اور فرمایا کرتے کہ میں فورا وہ چیز پیش کردیتا جس پر آپ بےتحاشا خوش ہوتے اور دعاؤں سے نوازتے۔۔۔ رحمھم اللہ رحمة واسعة

حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی رہائش ہمارے بچپن اور لڑکپن کے ایام سے لے کر تاحال جس گھر میں تھی اسی کے اوپر ہماری بھی رہائش ہوا کرتی تھی ،لہذا بچپن سے ہی ایک دوسرے کے گھرانے میں آنا جانا تھا، ہم بچے حضرت ڈاکٹر صاحب کو خالو اور آپ کی اہلیہ محترمہ (اللہ تعالٰی ان کا سایہ سلامت رکھے) خالہ جان کہا کرتے تھے ۔۔۔بعد ازاں حضرت والد ماجد علیہ الرحمہ کی شہادت اور والدہ محترمہ کی رحلت کے بعد ہم جامعہ والے گھر سے مدرسہ کے سامنے اپنے فلیٹ پر منتقل ہوگئے۔

بندہ کو حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ سے درس نظامی کے آخری درجہ میں بخاری شریف حصہ اول پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور بعد ازاں اپنے مادر علمی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بعد بھی گاہے بگاہے ملاقات یا مصافحہ کے غرض سے دفتر اہتمام میں جاکر حاضری کی سعادت ملتی رہتی، اسی طرح بندہ کا نکاح مسنون بھی آپ علیہ الرحمہ نے پڑھایا، نکاح والے دن بندہ نے سفید رنگ کے بجائے کالے رنگ کا عمامہ باندھا، جب نکاح سے قبل آپ سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنے مخصوص محبت سے معمور انداز میں ہلکے سے سرزنش کرتے ہوئے فرمایا "اللہ کے بندے خوشی والے دن کالا عمامہ کیوں باندھا، اور بعد ازاں نکاح پڑھایا ، اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد آپ کے حسن تربیت کی ایک جھلک بتلانا مقصود تھی ۔

حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کو جامعہ کی مجلس شوری نے والد گرامی شہید علیہ الرحمہ کی شہادت کے بعد مہتمم نامزد کیا،اور نانا جان قدس سرہ کے بعد عرصہ 23-24 سال تک مادر علمی کا اہتمام آپ کے پاس رہا، اس دوران اپنے پیشروں کی طرح آپ علیہ الرحمہ نے بھی اس ادارے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔

آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت ادارے کے لئے ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھی ،یقینا آپ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ،اس کی کمی مدت تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

آپ علیہ الرحمہ کی نماز جنازہ آپ کے فرزند اور جامعہ کے استاذ مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر سلمہ نے پڑھائی، جس میں اندرون ملک اور دیگر صوبوں سے متعدد افراد نے شرکت کی اور ملک کے طول و عرض سے وفود نے آکر اکابر جامعہ اور اہل خانہ سے تعذیت کی، گزشتہ دو دن قبل ہمارے خالہ زاد بھائی صاحبزادہ مولانا پیر عزیز الرحمن رحمانی دامت برکاتہم نے ایک تحریر ارسال کی جس میں حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر کیا کہ رسالت مآب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ علیہ الصلواة والسلام نے اپنے پاؤں مبارک دراز فرمائے ہوئے اور ہمارے حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ اور جامعہ کے ہی ایک قدیم فاضل و مخلص بزرگ عالم حضرت مولانا ابراہیم بھامجی جن کا وصال بھی ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی رحلت کے اگلے روز ساوتھ افریقہ میں ہوا یہ دونوں خوش قسمت حضرات آقائے نامدار سرور کونین ، شافع محشر کے پاؤں مبارک کو چوم رہے ہیں اور اپنی آنکھوں سے لگا رہے ہیں۔۔۔۔ اللہ اکبر ، سچ کہتے ہیں : یہ رتبہ ٔبلند ملا جس کو مل گیا۔

اسے استاد محترم کی صد سکندری نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ تمام عمر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و توصیف بیان کرنے والوں کو سرور کونین کے قدم مبارک چومتے ہوئے پایا؎

تیرا در ہو میرا سر ہو
کاش ایسا ہمارا مقدر ہو

یہ وہ دولت ہے جس کے آگے دنیا و مافیھا کی ہر شے ہیچ ہے درحقیقت یہ سعادت ان حضرات کا مقدر ٹھہری ہی اسی لئے کہ ان حضرات نے اپنی پوری زندگی اسی مبارک و منور ہستی کی سیرت طیبہ اور احادیث مبارکہ پڑھتے، پڑھاتے اور بیان کرتے ہوئے گزار دی۔۔۔۔یہ اعزاز ، یہ مقدر خوش نصیبوں کے حق میں آتا ہے،قال اللہ وقال الرسول کی دلنشیں صدائیں بلند کرنے والوں کو ہی کائنات کے سردار کے مبارک قدموں میں جگہ ملتی ہے۔

استاد محترم علیہ الرحمہ کی ذات گرامی کے متعلق مختلف احباب لکھ بھی رہے ہیں اور یقینا آئندہ بھی لکھتے رہیں گے، بندہ نے پہلے پہل صرف اس ایک خواب کے حوالے سے مختصر تحریر لکھی، جس کا مقصد حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کے حوالے سے دیکھے جانے والے مبارک خواب کو بیان کرنا مقصود تھا، جس پر بہت سے احباب نے یہ فرمایا کہ بہت مختصر مضمون ہے،حالانکہ یہ کوئی باضابطہ مضمون نہیں تھا ، درحقیقت میرے لئے کم سے کم یہ ممکن نہیں کہ بندہ ان شخصیات میں سے کسی بھی شخصیت پر مکمل لکھ سکے، دراصل ہر لکھنے والا لکھاری صاحب مضمون کی باغ بہار شخصیت کے چند ایک گوشوں پر ہی روشنی ڈال پاتا ہے، چنانچہ سوچا کہ کچھ مزید واقعات کو اس مضمون میں شامل کیا جائے، اس اعتراف کے ساتھ کہ یہ استاذ محترم حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی سدا بہار شخصیت کے محض چند گوشہ ہیں۔

بندہ کے والد گرامی شہید علیہ الرحمہ کے متعلق مشہور ہے کہ آپ چائے کے سخت مخالف تھے اور اسے صحت کے لئے مضر گردانتے تھے،یہی وجہ تھی کہ آپ خود چائے نوش نہیں فرماتے تھے، البتہ آنے والے مہمان حضرات کی حسب منشاء بطور تواضع چائے منگوالیتے تھے، چنانچہ جب کبھی استاد محترم حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضری ہوتی تو آپ اپنے مخصوص انداز میں اکرام کا پوچھتے اور فرماتے کہ " آپ تو منکرین چائے میں سے ہیں " جس پر بندہ عرض کرتا کہ حضرت! والد گرامی کی جانب سے چائے نوش کرنے کی اجازت مل گئی تھی،جس پر آپ مسکرا دیتے، بسااوقات ایسا ہوتا کہ دیگر مہمانوں کے لیے چائے پہلے سے منگوائی گئی ہوتی لیکن آپ پھر بھی بطور شفقت استفسار فرماتے اور ساتھ ہی یہ جملہ بھی ارشاد فرماتے، اس حوالے سے ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ چائے کے متعلق اس کی خصوصیات میں سے ہے کہ تین چیزیں ہو تب وہ چائے کہلائے جانے کی مستحق ہوتی ہے: 1۔لب دوز، 2۔لب سوز اور 3۔لب ریز ، لیکن خود حضرت ڈاکٹر صاحب کا معمول یہ تھا کہ آپ چائے کو خوب ٹھنڈا کرکے آرام سے پیتے۔

اسی طرح حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ ہمیشہ اپنی جیب میں ٹافیاں رکھتے اور جب کبھی کوئی آنے والا اپنے بچے کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضری دیتا تو آپ بچے کو ٹافی ضرور عنایت کرتے ، یعنی بڑوں کا اکرام تو فرماتے ہی ساتھ ہی آنے والے بچہ کا بھی ضرور بالضرور اکرام فرماتے، واقعی سچ ہے بڑوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور ان کے کیے جانے والے ہر ہر فعل میں اپنے چھوٹوں کے لئے کوئی نا کوئی سبق پوشیدہ ہوتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو عرصہ دراز سے گھٹنوں کی تکلیف کی شکایت تھی، جامعہ کے بعض طلباء کرام بعد نماز عصر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے آپ کی خدمت کی نیت سے، اس دوران اگر کوئی مہمان بغرض ملاقات اس مخصوص وقت میں حاضر ہوجاتا اور طالب علم اندر جاکر آپ کو مہمان کی آمد کی اطلاع دیتا تو آپ فی الفور اسے اندر بلاتے اور اس دوران خدمت کرنے والے طالب علم ساتھی کو روک دیتے تاکہ آنے والے مہمان کو پوری توجہ دی جاسکے، ایک مرتبہ بندہ ایسے ہی وقت میں چلاگیا، طالب علم ساتھی باہر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب مصروف تو نہیں وگرنہ میں کسی اور وقت حاضر ہوجاؤں گا ساتھی اندر معلوم کرنے گیا اس دوران دو تین منٹ کا وقفہ لگا اور وہ ساتھی آیا کہ استاد جی اندر بلا رہے ہیں، مجھے اندر جاکر احساس ہوا تو میں نے معذرت کرنی چاہی تو آپ نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ مصروفیت بھلا کیا ہوگی،بس یہ اللہ کے بندے آجاتے ہیں اور پھر فورا ہی اندر گھر والوں کو انٹرکام کرکے اکرام کرنے کا فرمایا ادھر بندہ دل ہی دل میں شرمندہ ہورہا تھا کہ ایک تو غلط وقت پر حاضر ہوا، اس دوران بندہ نے عرض کیا کہ حضرت آپ ان ساتھیوں کو خدمت کرنے دیں، لیکن آپ نے اشارہ سے ان ساتھیوں کو روک دیا ،حالانکہ میں آپ کا ایک ادنی سا شاگرد تھا، آپ چاہتے تو طلباء سے خدمت جاری رکھواتے لیکن یہ آپ کا حسن خلق تھا کہ جب تک بندہ موجود رہا آپ نے اپنی پوری توجہ مرکوز رکھی۔

ہمارے بچپن کے ایام میں حضرت ڈاکٹر صاحب باتھ آئی لینڈ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھانے تشریف لے جاتے تھے، مجھے یاد ہے کے آپ کے ایک عزیز قاضی صاحب مرحوم (نہایت بااخلاق اور مروت والے ) ان کے پاس ایک سوزوکی ہوتی تھی جو پیچھے سے کھلی ہوتی تھی قاضی صاحب آپ کے بیٹھنے کے لئے کچھ بچھادیتے تو اور آپ علیہ الرحمہ نہایت اطمینان کے ساتھ اس کھلی سوزوکی کے پچھلے حصے میں بیٹھ کر تشریف لیجاتے اور بعض اوقات ایک کالے رنگ کی ٹیکسی ہوتی جو آپ کے ایک معتقد کی ہوتی اس میں تشریف لیجاتے، اس واقعہ کو ذکر کرنے کا بنیادی مقصد آپ کی تواضع اور سادگی کو بیان کرنا ہے ، فی زمانہ ہم میں سے اگر کسی کو ایسی سوزوکی میں بیٹھ کر کہیں جانے کو کہا جائے تو یقینا ہم میں سے بہت سے حضرات اس میں بیٹھنے کو اپنی شان کے خلاف گردانیں لیکن آپ علیہ الرحمہ برسہا برس اسی سادگی کے ساتھ اس میں بیٹھ کر جاتے رہے۔

بندہ کے سسر محترم جناب عابد بنوری زید مجدہ جو حضرت مولانا طاسین صاحب نوراللہ مرقدہ کے بڑے صاحبزادے ہیں، آپ نے بھی حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ سے چند ابتدائی درجہ کی کتابیں پڑھی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بچپن کے ایام میں جب جامعہ میں پڑھتا تھا تو دوپہر کے وقت بغرض قیلولہ دارالافتاء کی عمارت کے سامنے موجود برآمدے میں جاکر لیٹ جاتا تھا، ایک دن حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی گزرتے ہوئے مجھ پر نظر پڑگئی آپ اسی وقت مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے اور حکم دیا کہ آج کے بعد آپ روزانہ دوپہر میں یہیں گھر میں آرام کریں گے اور کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے، اندازہ کیجئے آپ کس قدر شفیق اور مروت والے تھے کہ اپنے ایک عزیز بچے کے لئے بھی گوارہ نہ کیا کہ اسے ذرہ برابر تکلیف ہو۔

کہتے ہیں بڑوں کا سایہ بہت بڑی رحمت ہوتا ہے، جب تک آپ حیات تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر ایک مضبوط چھت تنی ہوئی ہے، جن دنوں آپ کو بیماری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تو بندہ آپ کے بڑے صاحبزادے مولانا سعید اسکندر زید مجدہ سے آپ کی طبیعت کے متعلق آگہی لیتا رہتا، سعید بھائی کا ایک ہی جملہ ہوتا بس دعا کرو ، بندہ عرض کرتا سعید بھائی دعائیں تو مستقل جاری ہیں، بس اللہ کریم قبول فرمالے، انتقال والے دن بندہ آپ کے دوسرے صاحبزادے بھائی مفتی یوسف عبدالرزاق سے جب بغل گیر ہوا تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، والد جیسی ہستی کی رحلت کے باوجود آپ کے صاحبزادگان کا حوصلہ قابل دید تھا بندہ اپنے بھائی سے صرف اتنا ہی کہہ پایا کہ آج کے دن خالی آپ ہی یتیم نہیں ہوئے ہم سب یتیم ہوگئے ہیں۔

آج نانا جان محدث العصر حضرت بنوری کی یہ امانت جسے حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ نے تقریبا 23 برس بحسن خوبی سنبھالا اور پروان چڑھایا حضرت بنوری قدس سرہ کے چھوٹے صاحبزادے ماموں محترم حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری الحسینی زید مجدہم کے سپرد کی جاچکی ہے، جو نانا جان قدس سرہ کی وفات پر محض گیارہ ماہ کے تھے جن کی پیدائش کی خوشخبری تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد بذریعہ خواب حضرت بنوری قدس سرہ کے دی گئی تھی۔

دعا ہے اللہ رب العزت حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کے جملہ حسنات کو اپنی بارگاہ عالیہ میں قبول و مقبول فرمائے، اور اس گلشن بنوری کو تا روز قیامت یونہی سرسبز اور شاداب رکھے، اور ہمارے جو اساتذہ حیات ہیں اللہ کریم ان تمام کو صحت و سلامتی کے ساتھ عمر خضر عطا فرمائے اور مادر علمی سے تا قیامت قال اللہ وقال الرسول کی مسحور کن صدائیں بلند ہوتی رہیں،آمین !

کالم نگار : مولانامحمد یاسر حبیب مختار
| | |
44