ابتدائی تعلیم:
تقریباً 29 سالہ نیہا بورا کا تعلق ریاست اتراکھنڈ سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سلی گوڑی کے دہلی پبلک اسکول سے حاصل کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی سے سماجیات (Sociology) میں بی اے اور امبیڈکر یونیورسٹی، دہلی سے پوسٹ گریجویشن مکمل کیا۔ اس وقت وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس میں پی ایچ ڈی کی محقق ہیں۔
نیہا بورا ایک سماجی محقق، تھیٹر کارکن اور سرگرم طلبہ رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ تھیٹر سے وابستگی نے ان کی گفتگو اور عوام سے مؤثر رابطے کی صلاحیت کو مزید نکھارا۔ جے این یو میں تعلیم کے دوران وہ طلبہ سیاست میں سرگرم ہوئیں، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) سے وابستہ رہیں اور بعد میں اس کی قومی صدر منتخب ہوئیں۔
انہوں نے تعلیم کی نجکاری، فیس میں اضافہ، ہاسٹل، اسکالرشپ، خواتین کے تحفظ، دلت، قبائلی، پسماندہ اور اقلیتی طلبہ کے حقوق، ہجومی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے، بلقیس بانو کے لیے انصاف کے مطالبے اور غزہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی جیسے موضوعات پر مسلسل سرگرمی دکھائی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ معیاری تعلیم ہر شہری کا حق ہے اور اسے صرف معاشی طور پر خوش حال طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
حالیہ احتجاج نے انہیں قومی سطح پر ایک نمایاں طلبہ رہنما کے طور پر مزید شہرت دلائی اور ان کی سرگرمیوں کو وسیع عوامی توجہ حاصل ہوئی۔ ان کی تقاریر سادہ زبان، مضبوط دلائل اور عوامی مسائل پر مرکوز ہونے کی وجہ سے خاصی توجہ کا مرکز بنیں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند میں انجمنوں کے قیام اور باضابطہ تقریر سیکھنے اور اس کے مشق وتمرین کے خلاف تھے. ان کا نظریہ تھا کہ تقریر سیکھنے میں وقت لگانا، ضیاع وقت ہے، اس کے بجائے یہ وقت بھی تکرار ومطالعہ اور اعمال میں صرف کرنا چاہیے. فرماتے تھے کہ اگر آدمی کے پاس علم ہو اور دل میں اصلاح کی فکر اور جذبۂ صادق، پھر امت تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کسی مشق وتمرین کی ضرورت نہیں؛ بلکہ سیدھی سادی بات زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
چناں چہ حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ دو-دو ڈھائی-ڈھائی گھنٹے تقریر فرمایا کرتے تھے اور بقول مولانا عبدالخالق سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ کے، اپنی تقریر میں نہ اچھلتے تھے، نہ بدکتے تھے اور نہ چیختے تھے، ایک فلو اور انداز میں مسلسل تقریر فرماتے اور مجمع پر سکوت طاری رہتا تھا. دیوبند میں ہی کوئی بزرگ تھے، مولانا ارشد مدنی سے سنا کہ وہ جامع مسجد کے منبر پر بیٹھتے اور ابھی خطبہ ہی شروع فرماتے کہ لوگ آبدیدہ ہوجاتے تھے، کئی لوگ بآواز رونا شروع کردیتے تھے، حالاں کہ لوگ خطبہ سمجھتے نہ تھے، دل سے آواز نکلتی تھی اور دل پر جالگتی تھی۔
آج صورت حال یہ ہے کہ مقررین اسٹیجوں سے چیختے چنگھاڑتے ہیں، اچھلتے کودتے اور بدکتے ہیں، کرتب دکھاتے ہیں، گویوں کی مانند گاتے اور مسخروں کی طرح ٹھٹھا کرتے ہیں؛ لیکن قوم کے لیے یہ تقریریں بے فائدہ وبے سود ثابت ہوتی ہیں؛ چوں کہ مقرر علم سے کورا، عمل سے خالی اور درد دل سے بے بہرہ ہوتا ہے، اس کا مقصد اپنا کرتب دکھانے اور اس پر "نذرانہ" وصول کرنا ہوتا ہے، پھر بات میں اثر کہاں سے آئے!؟
اس خاتون کی آواز میں جو تاثر ہے، وہ تئیس دنوں کے بھوک کی تاثیر ہے، یہ اسٹوڈنٹس پر جو لاٹھی برسے ہیں، ان کے سر پھوڑے گئے ہیں، اس زخم کی تاثیر ہے، ان کے ساتھیوں (کامریڈس) نے جو حکومتی مظالم برداشت کیے ہیں، اس درد کی تاثیر ہے. یہ تاثیر کرتب بازی کا فن سیکھنے اور چیخنے چلانے سے کبھی پیدا نہیں ہوسکتی. یہ محض درد دل کا کمال ہے۔