(+92) 319 4080233
کالم نگار

نوید مسعود ہاشمی

نوید مسعود ہاشمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
امن و شجاعت کے پیکر سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما
سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور مقدس شخصیات ہیں جن کا ذکر آتے ہی محبت، عقیدت، احترام اور ادب کے جذبات دلوں میں موجزن ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں عظیم ہستیاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ۖ کے نواسے، حضرت علی المرتضی اور حضرت فاطمة الزہرا کے نورِ نظر اور اہلِ بیتِ اطہار کے درخشاں ستارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عظمت اور رفعت عطا فرمائی کہ قیامت تک آنے والے مسلمان ان کے نام کو عزت و احترام کے ساتھ لیتے رہیں گے۔ ان سے محبت صرف ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا اور رسول اکرم ۖ کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔رسول اللہ ۖ کو اپنے نواسوں سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ۖ ان کے ساتھ شفقت، محبت اور رحمت کا ایسا معاملہ فرماتے تھے جو رہتی دنیا تک امت کے لئے نمونہ بن گیا۔ آپ ۖ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھاتے، سینے سے لگاتے، گود میں کھلاتے اور ان کے لئے دعائیں فرماتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ میں متعدد مقامات پر سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔ ایک موقع پر رسول اللہ ۖ نے فرمایا: حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ اس فرمان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ۖ کے دل میں ان دونوں کے لئے کس قدر محبت موجود تھی۔ پھول انسان کے لئے خوشبو، تازگی اور مسرت کا باعث ہوتے ہیں، اسی طرح سیدنا حسن اور سیدنا حسین بھی رسول اللہ ۖ کے لئے باعث خوشی اور باعثِ سکون تھے۔نبی کریم ۖ نے ان دونوں عظیم ہستیوں کے مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یہ ایک ایسی عظیم بشارت ہے جو کسی اور کو اس انداز میں نصیب نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مقام کس قدر بلند اور عظیم ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کسی شخصیت کی فضیلت بیان فرمائیں تو اس کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اسلام میں اہلِ بیت رسول ۖ سے محبت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن کریم میں بھی اہلِ بیت کی طہارت اور پاکیزگی کا ذکر موجود ہے۔ سیدنا حسن اور سیدنا حسین چونکہ اہلِ بیت کے معزز افراد ہیں، اس لئے ان سے محبت درحقیقت اہلِ بیت سے محبت ہے اور اہلِ بیت سے محبت دراصل رسول اللہ ۖ سے محبت کا اظہار ہے۔ ایک سچا مسلمان اپنے نبی ۖ کی ہر نسبت سے محبت کرتا ہے اور آپ ۖ کے خاندان سے عقیدت رکھتا ہے۔رسول اللہ ۖ کا اندازِ محبت اس قدر نمایاں تھا کہ صحابہ کرام بھی اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا: اے اللہ!میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور ان سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔ یہ دعا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جو شخص سیدنا حسن اور سیدنا حسین سے محبت رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بنتا ہے۔سیدنا حسن نہایت بردبار، نرم خو، کریم النفس اور صلح پسند شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اتفاق کے لئے اپنی خلافت سے دستبردار ہو کر ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی۔ آپ نے اپنی ذات اور اقتدار پر امت کے اتحاد کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ۖ نے آپ کے بارے میں پہلے ہی پیش گوئی فرمائی تھی کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔ بعد میں یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔دوسری جانب سیدنا امام حسین حق، صداقت، شجاعت، استقامت اور قربانی کی ایسی مثال بنے جس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ نے دین کی سربلندی اور حق کے تحفظ کے لئے عظیم قربانی پیش کی۔ میدانِ کربلا میں آپ کی ثابت قدمی، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ پوری امت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کے راستے میں مشکلات اور آزمائشیں آ جائیں تو بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی تربیت براہِ راست رسول اللہ ۖ کی نگرانی میں ہوئی۔ انہیں بچپن ہی سے اعلیٰ اخلاق، تقوی، عبادت، علم اور انسانیت کی خدمت کا درس ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کا ہر پہلو مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔ ان کی سیرت ہمیں صبر، تحمل، عفو و درگزر، ایثار، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا سبق دیتی ہے۔صحابہ کرام بھی سیدنا حسن اور سیدنا حسین سے بے حد محبت کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور دیگر اکابر صحابہ ان کا خصوصی احترام کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ۖ کی نسبت کی وجہ سے ان دونوں کا مقام بہت بلند ہے۔ صحابہ کرام کی یہ محبت اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت سے محبت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اہلِ بیتِ رسول ۖ سے محبت کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت و وقار عطا فرمایا۔ اہلِ بیت سے محبت امت کو جوڑنے اور دلوں کو قریب کرنے کا ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات مختلف فرقہ وارانہ تعصبات اس محبت کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین پوری امت کے مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان کی محبت کسی ایک طبقے یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔رسول اللہ ۖ نے واضح طور پر فرمایا کہ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں۔ اس ارشاد کا مقصد یہی تھا کہ مسلمان اہلِ بیت کا احترام کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان سے محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنائیں۔ چنانچہ جو شخص اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے وہ درحقیقت نبی کریم ۖ کے حکم پر عمل کرتا ہے۔سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی زندگیاں ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ حقیقی عظمت دنیاوی اقتدار، مال و دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ۖ کی اطاعت میں ہے۔ انہوں نے اپنے کردار، اخلاق اور قربانیوں سے اسلام کی حقیقی روح کو اجاگر کیا۔ ان کی حیاتِ مبارکہ میں انسانیت کے لئے بے شمار اسباق موجود ہیں۔آج کے دور میں جب امت مسلمہ مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

سیدنا حسن ہمیں اتحاد، رواداری اور صلح کا درس دیتے ہیں جبکہ سیدنا حسین ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ اگر مسلمان ان دونوں عظیم شخصیات کی تعلیمات اور کردار کو اپنالیں تو امت کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔محبت اہلِ بیت کا تقاضا صرف زبانی دعوئوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا، ان کے فضائل کو بیان کرنا، ان کے لئے دعائے خیر کرنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنا ہی حقیقی محبت کی علامت ہے۔ جو شخص ان عظیم ہستیوں کے اخلاق کو اپناتا ہے وہ معاشرے میں امن، محبت اور خیر خواہی کو فروغ دیتا ہے۔سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی محبت دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا کرتی ہے۔ ان کا ذکر انسان کو رسول اللہ ۖ کی یاد دلاتا ہے اور اہلِ بیت کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے مسلمان ان کے ناموں کا احترام کرتے آئے ہیں اور ان کے فضائل کو عقیدت کے ساتھ بیان کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ہستیوں کو ایسی عزت عطا فرمائی ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، ان کی سیرت کو پڑھتے ہیں اور ان کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگیوں کا ہر پہلو اخلاص، تقویٰ، عبادت، خدمتِ خلق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا درس دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین سے محبت کرنا رسول اللہ ۖ سے محبت کرنا ہے، اور رسول اللہ ۖ سے محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ جو دل اہلِ بیت اطہار کی محبت سے آباد ہو وہ نفرت، تعصب اور بغض سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایسے دل میں اخوت، محبت اور خیر خواہی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہی اسلام کا حقیقی پیغام ہے اور یہی رسول اللہ ۖ کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے اخلاق و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اہلِ بیتِ اطہار کے ادب و احترام کو ہمارے ایمان کا حصہ بنائے اور ہمیں رسول اللہ ۖ کی کامل محبت اور اطاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا اعلیٰ اخلاق اور حسنِ کردار ہے۔ انہوں نے اپنے نانا جان رسول اللہ ۖ کی تعلیمات کو نہ صرف سیکھا بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی اس کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ عاجزی، انکساری، سخاوت، صبر، تحمل اور رحم دلی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ تاریخ میں بے شمار واقعات ملتے ہیں جو ان کے بلند اخلاق اور عظیم کردار کی گواہی دیتے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا، مساکین کا خیال رکھنا اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا ان کی عادتِ مبارکہ تھی۔سیدنا امام حسن کی سخاوت کے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ آپ نے کئی مرتبہ اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے راہِ خدا میں خرچ کر دیا۔ آپ کے دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ آپ ہمیشہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے۔ اسی طرح سیدنا امام حسین بھی انتہائی کریم النفس اور بلند حوصلہ شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں عزتِ نفس، حق گوئی اور عدل و انصاف کو ترجیح دی۔اہلِ بیتِ اطہار کی محبت دراصل مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اخوت کا ذریعہ ہے۔

جب مسلمان سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی تعلیمات کو سمجھتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام پیدا ہوتا ہے۔ یہ محبت کسی تعصب یا اختلاف کی بنیاد نہیں بنتی بلکہ امت کو جوڑنے اور قریب لانے کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت، اہلِ تشیع اور امت کے دیگر طبقات سب ان مقدس ہستیوں کا احترام کرتے اور ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین کا کردار امت کے لئے روشنی کا مینار ہے۔ سیدنا حسن نے اتحادِ امت کے لئے عظیم قربانی دی جبکہ سیدنا حسین نے حق اور صداقت کے تحفظ کے لئے لازوال مثال قائم کی۔ ان دونوں ہستیوں کی زندگیاں بظاہر مختلف واقعات پر مشتمل ہیں لیکن ان کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی دین اسلام کی سربلندی، امت کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان انہیں نہایت عقیدت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔نوجوان نسل کے لیے بھی سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی زندگیوں میں بے شمار اسباق موجود ہیں۔ آج کے دور میں جب نوجوان مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ان عظیم شخصیات کی سیرت کا مطالعہ کریں۔ ان کی زندگیوں سے دیانت داری، شجاعت، صبر، ایثار اور خدا ترسی کے اوصاف حاصل کریں۔ جو نوجوان ان پاکیزہ ہستیوں کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں وہ زندگی میں کامیابی، عزت اور وقار حاصل کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اہلِ بیتِ اطہار کی محبت صرف تاریخی شخصیات سے وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور عملی پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں اچھے اخلاق، بلند کردار، اخلاصِ نیت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اکرم ۖ کی سنت پر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ جب مسلمان اپنے دلوں کو سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی محبت سے منور کرتے ہیں تو ان کی زندگیوں میں خیر، برکت اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو انسان کو رسول اللہ ۖ کے قریب کرتی ہے اور اسے دین اسلام کی حقیقی روح سے آشنا کرتی ہے۔سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی عبادت گزاری اور اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق تھا۔ دونوں حضرات نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرتے، نمازوں کی پابندی فرماتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت کے جذبات موجزن ہو جاتے۔ ان کی عبادت محض ایک رسم نہیں تھی بلکہ اپنے رب کے ساتھ محبت، اخلاص اور بندگی کا عملی اظہار تھی۔ یہی روحانی کیفیت ان کے کردار اور معاملات میں بھی نمایاں نظر آتی تھی۔ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین علم و حکمت کے بھی عظیم سرچشمے تھے۔ انہوں نے رسول اکرم ۖ، حضرت علی اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام سے علم حاصل کیا اور آگے امت تک پہنچایا۔ لوگ ان کے پاس دینی مسائل دریافت کرنے آتے اور ان کے علم و فہم سے استفادہ کرتے تھے۔ ان کی گفتگو حکمت، دانائی اور خیر خواہی سے بھرپور ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو نیکی، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی تلقین کرتے اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی طرف رہنمائی فرماتے تھے۔ان مقدس ہستیوں کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ خوشحالی اور آسانی کے مواقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور مشکلات و آزمائشوں میں صبر و استقامت اختیار کرنا مومن کی شان ہے۔

سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے اس حقیقت کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا ہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔ ان کی حیاتِ مبارکہ میں پیش آنے والے مختلف حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کیا۔اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں محبت، رواداری، اخوت اور احترامِ انسانیت کو فروغ دیں۔ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین نے کبھی نفرت، انتقام یا ذاتی مفادات کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہمیشہ خیر، بھلائی اور امت کی فلاح کو مقدم رکھا۔ آج اگر مسلمان ان کے طرزِ عمل کو اپنالیں تو معاشرے میں بہت سے اختلافات اور تنازعات ختم ہو سکتے ہیں۔ ان کی تعلیمات دلوں کو جوڑنے اور انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا درس دیتی ہیں۔سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین کی سیرت کا مطالعہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ عظمت کا معیار نسب یا شہرت نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگیوں کی روشنی آج بھی مسلمانوں کے دلوں کو منور کر رہی ہے۔ ان کی محبت ایمان کو تازگی بخشتی ہے، ان کا ذکر دلوں میں عقیدت پیدا کرتا ہے اور ان کی تعلیمات انسان کو نیکی اور بھلائی کے راستے پر گامزن کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان عظیم ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے اور محبت اہلِ بیت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : نوید مسعود ہاشمی
| | |
46