(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد غزالی خان

محمد غزالی خان

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
واقعی، کیسے عجیب لوگ تھے
آبائی قصبے دیوبند میں تقریباً تین ہفتے کے حالیہ قیام کے دوران پرانے دوست اور عزیز تقریباً ہر روز ہی والد صاحب کی تعزیت اور مجھ سے ملاقات کے لیے آتے رہے۔ بالخصوص بدر بھائی (بدر کاظمی) اور نواز بھائی (نواز دیوبندی) کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں قصبے کی پرانی یادوں، تہذیب اور ثقافت کا ذکر چھڑتا تو ماضی کے کئی دریچے کھل جاتے۔

ایک روز نواز بھائی نے اسلامیہ ہائر سیکنڈری اسکول میں انگریزی کے ہمارے ایک استاد، حافظ مقبول صاحب، کا ایک ایسا واقعہ سنایا جو اس نسل کی خدا ترسی، دیانت داری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ایک شاندار مثال ہے۔ مجلس میں موجود کئی دوسرے لوگوں نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔ سوچا، فیس بک پر دوسرے دوستوں کے ساتھ بھی یہ یاد شیئر کر دوں۔

ہمارے اسکول کے سینئر ترین استاد ہونے اور اپنی سفید داڑھی کی وجہ سے مقبول صاحب ’بڈھے ماسٹرجی‘ کے نام سے معروف تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ ہمارے والد صاحب کو بھی پڑھا چکے تھے۔

ہمارے ایک دور کے عزیز، امیر محمد خان، برطانوی فوج میں ملازم تھے۔ ان دنوں ڈاک خانہ، رجسٹری، تھانہ اور تحصیل، سب ہمارے محلے (محلہ قلعہ) ہی میں ہوا کرتے تھے۔ کچھ اضافی آمدنی کے لیے امیر محمد خان مسجدِ قلعہ کے بیرونی چبوترے پر ایک چھوٹی سی صندوقچی، قلم اور دوات لیے بیٹھ جاتے۔ شاید چار آنے کے عوض ناخواندہ لوگوں کے خطوط اور عرضیاں لکھتے اور انہیں موصول ہونے والے خطوط پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔

ان کے مستقل گاہکوں میں قصبے کا ایک شخص بھی تھا۔ پھر ایک دن اچانک اس کا آنا بند ہوگیا۔تقریباً سات سال بعد ایک روز وہ شخص اسی راستے سے گزرتا ہوا نظر آیا تو امیر محمد خان نے اسے آواز دی اور پوچھا کہ اتنے عرصے سے کہاں غائب تھا۔اس نے بتایا کہ اپنی چھوٹی موٹی زمین فروخت کرکے اس نے ڈاک خانے میں نو ہزار روپے (موجودہ وقت کے تقریباً تین کروڑ روپئے) جمع کروائے تھے۔ ایک دن وہ پوری رقم نکلوا کر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ جس پوٹلی میں اس نے رقم باندھ رکھی تھی، وہ کہیں راستے میں گر گئی۔ اس صدمے کا اس پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ فالج کا مریض بھی بن گیا۔

امیر محمد خان نے اس کی پوری کہانی سنی۔ پھر گمشدہ پوٹلی کی وہ نشانیاں، جو ماسٹر مقبول صاحب نے انہیں بتائی تھیں، اس شخص سے معلوم کیں۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ پوٹلی اسی شخص کی ہے تو انہوں نے اسے ماسٹر مقبول صاحب کا پتہ دیا اور کہا:’میرا حوالہ دے کر ان سے مل لینا۔‘

وہ شخص ماسٹر صاحب کے پاس پہنچا اور بتایا کہ امیر محمد خان نے اسے اپنی گمشدہ پوٹلی کے سلسلے میں ان کے پاس بھیجا ہے۔ماسٹر صاحب نے ایک دو مزید سوال کیے اور پھر وہ پوٹلی اس شخص کے حوالے کردی۔

وہی پوٹلی جسے ماسٹر مقبول صاحب نے سات سال تک بڑی حفاظت سے اپنے پاس رکھا تھا۔ سات سال کے اس طویل عرصے میں نہ انہوں نے اسے کھول کر دیکھا، نہ اس میں موجود رقم کو ہاتھ لگایا۔ اور نہ ہی امیر محمد خان نے کبھی انہیں اسے کھول کر دیکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

آج کے دور میں شاید یہ واقعہ کسی کہانی کا حصہ معلوم ہو، مگر کبھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کے لیے امانت، دیانت اور خدا کا خوف محض الفاظ نہیں بلکہ زندگی کا حصہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ کسی کی گم شدہ رقم پر نظر ڈالنا بھی خیانت ہے، خواہ مالک کا سات سال تک کوئی پتا ہی کیوں نہ ہو۔

یہ صرف نو ہزار روپے کی پوٹلی نہیں تھی؛ یہ دو انسانوں کی دیانت، امانت اور خدا ترسی کی سات سالہ داستان تھی۔اللہ تعالیٰ ماسٹر مقبول صاحب، امیر محمد خان اور اس دور کے ان تمام نیک لوگوں کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

کالم نگار : محمد غزالی خان
| | |
31