(+92) 319 4080233
کالم نگار

194- محمد عثمان انصاری

194- محمد عثمان انصاری

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
اسے فاروقؓ کہتے ہیں
اُنہیں جب روانگی کی اجازت ملی تو گھر گئے، وہاں سے مسلح ہوکر باہر نکلے اور سیدھے حرم میں پہنچے، وہاں غیر مسلم اہل قریش کا ایک جتھہ موجود تھا، آپ نے حرم کا طواف شروع کیا، اس شان سے کہ جسم پر تیر و کمان سجے ہوئے اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی، طواف سے فارغ ہوکر اعلان کیا:”میں مدینہ کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، اگر کسی ماں نے اپنے بیٹے سے محروم ہونا ہو، اگر کسی نے اپنے بچے یتیم کرانے ہوں، اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے، تو وہ آئے اور حرم سے باہر نکل کر میرا راستہ روک کر دکھائے، مجھ سے مقابلہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

بڑے ہٹے کٹے جوان موجود تھے، اہل قریش کے نامور ماہر حرب و ضرب موجود تھے، مگر مجال ہے جو کسی نے ہمت کی ہو کہ وہ آگے بڑھ کر ان کا راستہ روکے۔ راستہ روکنا تو دور کی بات ہے ، کسی نے جوابی الفاظ کہنے کی ہمت نہیں کی ، زبانیں گویا کہ گنگ ہوگئی تھیں۔

ایسے رعب و دبدبے اور شان والے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جو در کعبے کا کھلوائے ، اسے فاروق کہتے ہیں
منافق جس سے ڈر جائے ، اسے فاروق کہتے ہیں

ایک رات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنا کوڑا لیے گشت کرنے نکلے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ایک گھر میں آگ کی روشنی دیکھی، آپ رضی اللہ عنہ اس گھر کے پاس پہنچے اور اس میں داخل ہوئے تو دیکھا ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہے جس کے سر کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ اس کے سامنے شراب رکھی ہے اور ایک لونڈی گانا گا رہی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر دھاوا بولا اور فرمایا:”میں نے اس سے زیادہ قبیح منظر رات کے وقت نہیں دیکھا۔ جو بوڑھا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔“

(مطلب یہ کہ اس بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر، جب موت سر پر منڈلا رہی ہے، تم ایسے قبیح فعل میں ملوث ہو؟)

اس آدمی نے اپنا سر اٹھایا اور کہا:”اے امیر المؤمنین! آپ نے جو حرکت کی ہے وہ زیادہ قبیح ہے۔ آپ نے میری ٹوہ لگائی ہے۔ حالانکہ آپ نے خود (لوگوں کی) ٹوہ لگانے سے منع کیا ہے اور (دوسرا یہ کہ ) آپ بلا اجازت گھر میں داخل ہوئے ہیں۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم سچ کہتے ہو۔ پھر آپ اس حالت میں وہاں سے نکلے کہ آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور رنجیدہ خاطر ہو کر کہنے لگے:”عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ، اگر پروردگار نے اسے معاف نہ کیا تو کیا بنے گا۔“

وہ بوڑھا بھی امیر المؤمنین سے چھپتا پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا ہے، وہ ضرور سزا دیں گے۔

وہ بوڑھا شخص ایک عرصہ تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں نہیں آیا۔ ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی ایک جماعت کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اپنے آپ کو چھپا رہا ہو، اور مجلس کے آخر میں آکر بیٹھ گیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس پر نظر پڑ گئی ، فرمایا کہ اس بوڑھے آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چلو ، وہ آدمی ( بوڑھا ) اٹھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوف اس کے سر پر سوار تھا کہ وہ ضرور سزا دیں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ میرے قریب ہو جاؤ۔ اس کو اپنے قریب کرتے رہے، کرتے رہے، یہاں تک کہ اسے بالکل اپنے ساتھ بٹھا لیا اور آہستہ آواز میں اس کے کان میں کہا: ”سنو! اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے لوگوں میں سے کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہیں دی جس کا میں نے مشاہدہ کیا تھا، حتیٰ کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں بتایا جو کہ میرے ساتھ تھے۔

اس آدمی نے کہا:”اے امیر المؤمنین! اپنا کان قریب کیجیے! پھر کان میں کہنے لگا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی وہ کام دوبارہ نہیں کیا، یہاں تک میں اپنی واپس اس مجلس میں اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خوشی سے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے ”اللہ اکبر“ کہا۔

مجلس میں بیٹھے لوگ نہ سمجھ سکے کہ آپ رضی اللہ اللہ عنہ نے کسی وجہ سے تکبیر کہی ہے!

یعنی آپ نے اس کے اس فعل کو راز رکھا، یہاں تک کہ وہ بوڑھا توبہ تائب ہوگیا۔

کالم نگار : 194- محمد عثمان انصاری
| | |
35