(+92) 319 4080233
کالم نگار

علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ

علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
علماء اور عصری تقاضے: ایک مغالطے کی حقیقت
اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات بنانے کے لیے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جو مسند فقہ قائم کی اور اس مباحث کثیرہ کے بعد اس کے اصول و فروع طے کیے، کیا یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی عصری تقاضوں پر نظر نہ تھی؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے بعد جو بھی فقہا آئے اور قیامت تک جو بھی قانون داں آتے رہیں گے وہ سب ان نئے تقاضوں میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ہی عیال ہوں گے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ استخراج و استنباط مسائل میں علماء ہمیشہ ان کے محتاج رہیں گے۔ پھر جب معتزلہ عقل کے ہتھیاروں سے سنی اسلام پر حملہ آور ہوئے تو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 505ھ) اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 606ھ) نے کیا اس بڑھتے سیلاب کے آگے کتاب و سنت کے بند نہیں باندھے؟ کیا یہ علماء کی عصر جدید کے تقاضوں پر نظر نہ تھی؟ انیسویں صدی ہی کو لے لیجئے! 1857ء میں جب اہل ہند بدیشی حکومت کو سمندر پار نہ کر سکے تو علمائے اسلام نے اس سیاسی شکست کے بعد دین کو باقی رکھنے اور مسلمانوں کو ایک امت بنا کر رکھنے کے لیے کیا پورے ملک میں مدارس کا ایک پورا جال نہ پھیلایا؟ کیا یہ ان کی عصری تقاضوں پر نظر نہ تھی؟ کیا عصری تقاضا یہ تھا کہ خود اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ سے فارغ ہو کر اس نئے مغربی معاشرے میں مدغم ہو جائیں۔ جو لوگ علماء کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ وہ عصری تقاضوں پر نظر نہیں رکھتے ان کی غرض اس سے یہی ہوتی ہے کہ علماء تھالی کے بینگن کی طرح خود اپنے ماضی سے کیوں نہیں کٹتے!

مأخَذ

برصغیر پاک و ہند کے چند مشاہیر اہل سنت: نقوش و تاثرات، صفحہ:177 ۔پیشکش: بزم علامہ خالد محمود یوکے و یورپ*

کالم نگار : علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ
| | |
27