جی ہاں، سارا قصور حکمرانوں کا ہی ہے۔آخر ہم تو بہت نیک، بہت ایماندار اور بہت پرہیزگار لوگ ہیں۔ہم تو پانچ وقت کے نمازی ہیں، تہجد گزار ہیں، اذان ہوتے ہی ہماری مارکیٹیں بند ہو جاتی ہیں، تاجر کاروبار چھوڑ کر مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہم نے تو کبھی ملاوٹ نہیں کی۔ نہ دودھ میں پانی ملایا، نہ مرچوں میں رنگ، نہ ہلدی میں کیمیکل، نہ شہد میں چینی کا شیرہ۔ہم تو تول میں کمی نہیں کرتے، گاہک کو دھوکہ نہیں دیتے، جعلی چیز اصلی بنا کر نہیں بیچتے۔ پوری دنیا ہماری ایمانداری کی مثالیں دیتی ہے۔ہم نے تو کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ بہنوں کو جائیداد میں پورا حصہ دیا، یتیموں کے مال کی حفاظت کی، مزدور کی پوری اجرت ادا کی، ملازم کو اس کا حق دیا۔
ہمارے نوجوان تو ایسے باحیا ہیں کہ سڑک پر غیر محرم عورت کو دیکھیں تو فوراً نظریں جھکا لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فحاشی نہیں، بے حیائی نہیں، جھوٹ نہیں، حسد نہیں، بغض نہیں۔
یہاں کوئی سفارش نہیں چلتی، کوئی رشوت نہیں لیتا، کوئی جھوٹی گواہی نہیں دیتا، کوئی جعلی ڈگری نہیں بنواتا، کوئی ٹیکس نہیں چراتا، کوئی بجلی نہیں چوری کرتا۔
ہمارے ڈاکٹر پیسے کی خاطر غیر ضروری ٹیسٹ نہیں لکھتے، ہمارے وکیل ظالم کا مقدمہ نہیں لیتے، ہمارے جج انصاف بیچتے نہیں، ہمارے استاد ڈیوٹی سے غفلت نہیں کرتے، ہمارے سرکاری افسر عوام کو خوار نہیں کرتے۔
ہمارے مزدور، ریڑھی والے، دکاندار، صنعتکار، افسر، سیاستدان، عالم، طالب علم، سب کے سب فرشتے ہیں۔
یہاں بچوں کے ساتھ ظلم نہیں ہوتا، عورتوں کے حقوق پامال نہیں ہوتے، جھوٹے وعدے نہیں ہوتے، امانتوں میں خیانت نہیں ہوتی۔
ہم تو اتنے اچھے ہیں کہ اگر جنت زمین پر کہیں اتر سکتی ہو تو شاید یہی اترتی!
پھر نہ جانے یہ ظالم حکمران کہاں سے آ جاتے ہیں؟
ذرا ایک لمحے کے لیے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سوچیں...کیا حکمران آسمان سے اترتے ہیں؟
کیا وہ کسی دوسری قوم سے درآمد کیے جاتے ہیں؟
یا وہ ہمارے ہی گھروں، ہمارے ہی بازاروں، ہمارے ہی اسکولوں، ہمارے ہی اداروں اور ہمارے ہی معاشرے سے نکلتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ حکمران قوم کا عکس ہوتے ہیں۔
جب جھوٹ عام ہو جائے تو جھوٹے لیڈر پیدا ہوتے ہیں۔
جب رشوت معمول بن جائے تو رشوت خور حکمران پیدا ہوتے ہیں۔
جب ہم اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے لگیں تو پھر قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ہم سب تبدیلی چاہتے ہیں، مگر خود بدلنا نہیں چاہتے۔
ہم انصاف چاہتے ہیں، مگر اپنے مفاد کے خلاف انصاف قبول نہیں کرتے۔
ہم ایماندار حکمران چاہتے ہیں، مگر اپنی چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔
یاد رکھیے!
قوموں کو صرف حکمران تباہ نہیں کرتے، قوموں کو ان کی اجتماعی بے حسی، دوہرا معیار اور خود احتسابی سے فرار تباہ کرتا ہے۔جس دن ہم نے آئینہ دوسروں کے چہرے سے ہٹا کر اپنے سامنے رکھ لیا، اسی دن اصلاح کا سفر شروع ہو جائے گا۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے حکمران قوم سے بنتے ہیں، اور قوم اپنے کردار سے۔