(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
تپتی گرمی، پگھلتی جیبیں
کے-الیکٹرک کا بل یا مڈل کلاس کا ڈیتھ وارنٹ؟
گرمی کی تپتی دوپہر تھی۔ کراچی میں سورج آگ برسا رہا تھا اور گھر کا ہر شخص اس فکر میں ہلکان تھا کہ بجلی کا استعمال کم سے کم کیسے کیا جائے۔ کبھی غیر ضروری بلب بجھائے جاتے، کبھی پنکھے کی رفتار دھیمی کی جاتی اور کبھی اے سی کا بٹن دبانے سے پہلے جیب کا درجہ حرارت ناپا جاتا۔

ایسے تپتے اور حبس زدہ ماحول میں جب بجلی کا بل گھر پہنچتا ہے، تو یہ کسی لفافے کے بجائے ایک کڑی آزمائش بن کر نازل ہوتا ہے۔ لفافہ کھلتے ہی جب ہندسے حد سے تجاوز کرتے نظر آتے ہیں، تو انسان ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ آخر اتنی کڑی احتیاط اور خود اذیتی کے باوجود یہ کس گناہ کی سزا ملی ہے؟

یہ صرف ایک گھر کا رونا نہیں، بلکہ کراچی کے لاکھوں متوسط خاندانوں کا وہ مشترکہ درد ہے جس کا کوئی درماں نہیں معلوم ہوتا۔

پہلے ہی بے لگام مہنگائی، بچوں کی فیسوں اور آسمان چھوتے کرائے کے بوجھ تلے سسکتی مڈل کلاس کے لیے یہ بھاری بل اب کسی 'ڈیتھ وارنٹ' سے کم نہیں رہے۔ لوگ متبادل کے طور پر سولر پینلز کا سوچتے ہیں، مگر اس کی ابتدائی لاگت ہی غریب اور سفید پوش کی پہنچ سے کوسوں دور ہے، جبکہ یو پی ایس اور بیٹریاں برقرار رکھنا اب خود ایک مہنگا عذاب بن چکا ہے۔

حیرت تو یہ ہے کہ بل تو باقاعدگی سے ہائی وولٹیج آتے ہیں، مگر بجلی کی فراہمی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ کبھی تکنیکی خرابی کا روایتی بہانہ، تو کبھی معمولی بوند باندی کے بعد گھنٹوں کا طویل تعطل۔ اس بدترین اور یکطرفہ نظام کے باوجود کراچی والے جی رہے ہیں—اور یہی اس شہر کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ ہر ستم سہ کر بھی خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔

بلاشبہ، بجلی کی ترسیل کا نظام چلانا ایک بڑا انتظامی کام ہے۔ لیکن صارفین کا یہ بنیادی حق تو ہے کہ بلنگ کا نظام شفاف ہو اور ان کی داد رسی کی جائے۔ جب تک ادارے اور عوام میں اعتماد بحال نہیں ہوگا، یہ خلیج بڑھتی رہے گی اور غصہ لاوا بنتا رہے گا۔

کراچی کے شہری کچرے کے ڈھیر، ٹریفک کا ہجوم اور موسم کی سختی تو برداشت کر لیتے ہیں، لیکن مہینے کے آخر میں جب کے-الیکٹرک کا بل سامنے آتا ہے، تو ان کے اندر سے ایک خاموش چیخ نکلتی ہے۔ یہ چیخ دراصل اس منصفانہ نظام کی خواہش ہے جہاں بنیادی انسانی سہولتیں عیاشی کا درجہ نہ اختیار کر جائیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کا عام آدمی کبھی ایسا دن دیکھ پائے گا جب بجلی کا بل دیکھ کر اس کا دل ہولنے کے بجائے اسے سکون کا احساس ہو؟ شاید یہی وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو آج اس بے بس شہر کے ہر بند کمرے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے۔

کالم نگار : محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
18     1