یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
مفتی سعید احمد پالن پوریؒ، جو دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث اور صدر المدرسین تھے، اپنے درس کے دوران ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:
میں مدینہ منورہ میں ایک سال ایسے کمرے میں مقیم رہا جو مسجدِ نبوی سے بالکل متصل تھا اور درمیان میں بس ایک سڑک کا فاصلہ تھا۔ ہمارے ہاں جمعرات کے دن چھٹی ہوتی تھی، تو میں جمعرات کو اشراق کی نماز پڑھ کر مسجدِ نبوی سے باہر نکلتا تھا اور راستے میں ملنے والے دو، چار، پانچ، چھ یا سات انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشی حجاج یا عمرہ زائرین سے ملتا تھا، جن سے میری پہلے سے کوئی جان پہچان نہیں ہوتی تھی۔ میں خود ہی سلام کرتا اور اپنا تعارف کرواتا کہ میں یہاں پڑھنے والا ایک انڈین طالب علم ہوں اور سامنے میرا کمرہ ہے۔ آپ تشریف لائیں، ناشتہ کر لیں اور ایک کپ چائے پی لیں۔ الحمدللہ، لوگ خوشی سے آ جاتے تھے اور یہ ہر جمعرات کو میرا معمول بن چکا تھا۔
ایک دن میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ سر جھکائے، بڑے ادب کے ساتھ چلے جا رہے ہیں۔ میں انہیں بالکل نہیں پہچانتا تھا کہ وہ کون ہیں۔ میں نے ان کو بھی سلام کیا اور گزارش کی کہ سامنے میرا کمرہ ہے اور میں یہاں پڑھتا ہوں، اگر آپ زحمت فرمائیں تو تشریف لائیں اور ایک کپ چائے کے ساتھ تھوڑا سا ناشتہ کر لیں۔
وہ کہنے لگے: زہے نصیب! بالکل، ان شاء اللہ۔ اور ہم گنہگاروں کے لیے مدینے والوں کا مہمان بننا بھی باعثِ سعادت ہے۔
وہ کمرے میں آ گئے، ناشتہ ہوا اور پھر باتیں ہونے لگیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا اسمِ گرامی کیا ہے؟ پورا نام بتائیے۔
تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رفیع کہتے ہیں۔
ان کی آواز سن کر میں نے پھر پوچھا: پورا نام بتائیے۔
تو وہ پھر یہی کہنے لگے کہ مجھے رفیع کہتے ہیں اور پورا نام نہیں بتا رہے تھے۔
میں نے کہا: آپ کچھ چھپا رہے ہیں، براہِ کرم پورا نام بتائیے۔
تو کہنے لگے: مجھے محمد رفیع کہتے ہیں۔
میں نے حیرت سے پوچھا: اوہو! تو کیا آپ ہی کے گانے مشہور ہیں؟ اور آپ ہی وہ معروف پلے بیک سنگر ہیں؟
تو انہوں نے سر جھکا لیا اور کہا: جی، میں وہی گنہ گار ہوں۔
میں نے ان سے کہا: رفیع صاحب! میں تو کبھی گانے نہیں سنتا، لیکن آپ نے اپنی بیٹی کی شادی اور رخصتی کے موقع پر جو نظم گائی ہے، وہ میں نے کئی بار سنی ہے۔ تو کیا رفیع صاحب! آپ اس وقت مجھے کچھ اشعار سنا دیں گے؟
یہ کہنا تھا کہ اس شخص نے سر جھکا لیا اور ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ محمد رفیع صاحب رو پڑے اور کہنے لگے: مولانا! میں بہت گنہگار ہوں، اس پاک زمین پر مجھ سے مزید گناہ مت کروائیے۔
آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ محمد رفیع اپنی گائیکی کی کمائی سے عمرہ کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ ان کا ایک چھوٹا سا کاروبار اور بھی تھا۔ رفیع صاحب نے اس کے پیسے بچا بچا کر رکھے تھے، جن سے وہ سفر کرکے آئے تھے۔
جن لوگوں کو ہم بہت گمراہ سمجھتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کے سینے میں اللہ سے ڈرنے والا ایک سچا دل چھپا ہوا ہو۔ لہٰذا کسی کی ظاہری شکل و شباہت دیکھ کر اس کے بارے میں منفی رائے قائم کرنے سے گریز کریں۔ ہو سکتا ہے کہ تقویٰ میں وہ آپ سے کوسوں میل آگے ہو۔