انسان اتنی بے حسی اور سفاکی کی آخری حد تک کیسے پہنچ جاتا ہے کہ اپنی ہی اولاد کی جان لیتے ہوئے اس کا ہاتھ نہ کانپے؟ جہلم سے سامنے آنے والی خبر نے دل دہلا دیا ہے کہ گھریلو ناچاقی اور ذہنی تناؤ کی بھینٹ معصوم اور بے گناہ روحیں چڑھ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ذیشان نامی شخص نے گھریلو ناچاقی کے باعث اپنے ہی تین معصوم بچوں، 8 سالہ فجر، 5 سالہ عمر اور 2 سالہ نور فاطمہ، کو نہر میں پھینک دیا۔ وہ بچے، جنہیں اپنے والد کے ہاتھوں تحفظ ملنا چاہیے تھا، انہی کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوگئے۔ یہ صرف تین بچوں کی موت نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ایک بہت بڑا سوال ہے۔
ذرا تصور کیجیے، ایک آٹھ سالہ بچی، ایک پانچ سالہ بچہ اور ایک دو سالہ ننھی جان! ان میں سے کسی کا اپنے والدین کے باہمی اختلاف سے کیا تعلق تھا؟ کسی نے شوہر اور بیوی کے جھگڑے میں حصہ نہیں لیا تھا، کسی نے گھر کا سکون خراب نہیں کیا تھا۔ بچے والدین کے جھگڑوں کے فریق نہیں ہوتے، وہ ان کے درمیان امانت ہوتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ہر ذمہ دار کو اس امانت کا نگہبان قرار دیا: "کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ" (بخاری) — تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔ باپ اپنی اولاد پر راعی ہے، محافظ ہے، جلاد نہیں۔
میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے، رنجش ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ حالات اس قدر پیچیدہ بھی ہوجاتے ہیں کہ ساتھ رہنا دشوار محسوس ہو، لیکن کسی بھی اختلاف کا حل یہ نہیں کہ انسان اپنی ہی اولاد کو سزا دینے لگے۔ غصہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر غصے میں کیا گیا ایک فیصلہ پوری زندگی کا پچھتاوا بن سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا تَغْضَبْ" غصہ نہ کیا کرو۔ اس نے کئی بار یہی سوال دہرایا، اور ہر بار جواب یہی ملا: "لَا تَغْضَبْ" (بخاری)۔ غور کیجیے کہ دین نے پوری نصیحت کو غصے پر قابو پانے میں سمیٹ دیا، کیونکہ غصہ ہی وہ دروازہ ہے جہاں سے انسان کے اندر کی ساری برائیاں باہر نکلتی ہیں۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے طاقتور کی تعریف ہی بدل دی: "لَیْسَ الشَّدِیدُ بِالصُّرَعَۃِ، إِنَّمَا الشَّدِیدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ" (بخاری و مسلم)
طاقت ور وہ نہیں جو کشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دے، طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
اسلام نے انسانی جان کو غیر معمولی حرمت عطا کی ہے۔ قرآنِ کریم نے ایک بے گناہ جان کے قتل کو انتہائی سنگین جرم قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا﴾ (المائدة: 32)
"اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کو بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔"
اور اولاد کے بارے میں تو قرآن نے خاص طور پر زمانۂ جاہلیت کے اس تصور کی تردید کی جس میں لوگ اپنی اولاد کو غربت یا دوسرے اندیشوں کی وجہ سے قتل کر دیتے تھے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ﴾ (الإسراء: 31)
اولاد اللہ کی عطا ہے، غصے کا ہدف نہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان بھی پیشِ نظر رہے جو رحمت کو ایمان کی بنیاد قرار دیتا ہے: "مَنْ لَا یَرْحَمْ لَا یُرْحَمْ" (بخاری)
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ جس دل سے اپنی ہی اولاد کے لیے رحم نکل جائے، اس دل میں پھر کچھ باقی نہیں بچتا۔
بحیثیت ہیومن کوچ برسوں کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ایسے سانحات کبھی اچانک رونما نہیں ہوتے۔ جب کوئی شخص مہینوں یا برسوں تک ذہنی دباؤ، بے بسی، ناکامی اور اختلاف کو دبائے رکھے، اور اسے اظہار یا مدد کا کوئی راستہ نہ ملے، تو ایک وقت آتا ہے جہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی معطل ہوجاتی ہے۔ عربی کی ایک مشہور حکمت ہے: "الغَضَبُ یَبْدَأُ بِالْجُنُونِ وَیَنْتَہِی بِالنَّدَم" — غصہ جنون سے شروع ہوتا ہے اور ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ اس حالت میں انسان انتقام کے بارے میں سوچتا ہے، لیکن یہ ایک بگڑی ہوئی، بیمار سوچ ہوتی ہے,وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف اسی کو پہنچائے جو سب سے زیادہ عزیز ہو۔ یہی وہ ذہنی تحریف ہے جو بچوں کو، جو محبت کا مرکز ہونے چاہئیں، انتقام کا آلہ بنا دیتی ہے۔
دوسری چیز ہے مکمل تنہائی۔ ایسے واقعات میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ فرد نے کسی کو اپنی کیفیت نہیں بتائی تھی — نہ گھر والوں کو، نہ دوست کو، نہ کسی ماہر کو۔ جب انسان اپنے اندر کے طوفان کو مکمل تنہائی میں جھیلتا ہے، تو حقیقت اور تخیل کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔ قرآن نے صاحبانِ عقل کی صفت یہ بیان کی: ﴿وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ﴾ (آل عمران: 134)
اور جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔
غصہ پی جانا کمزوری نہیں بلکہ تقویٰ کی علامت ہے، اور یہی وہ ہنر ہے جو بروقت سیکھ لیا جائے تو گھر اجڑنے سے بچ جاتے ہیں۔
ہمیں ذہنی دباؤ، شدید غصے اور جذباتی بحران کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ذہنی دباؤ کسی معصوم کی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر کسی شخص کو محسوس ہو کہ وہ اپنے غصے یا جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہا، تو ایسے وقت میں تنہائی اختیار کرنے کے بجائے فوراً کسی قابلِ اعتماد شخص، عالمِ دین، ماہرِ نفسیات یا متعلقہ مددگار ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نے غصے کے علاج کے لیے عملی نسخہ بھی دیا: جب کھڑے ہو کر غصہ آئے تو بیٹھ جاؤ، اور اگر بیٹھے ہوئے بھی غصہ نہ اترے تو لیٹ جاؤ (ابوداؤد)۔ گویا حالت اور مقام کی تبدیلی ہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ کسی بحران میں چند منٹ کے لیے خود کو بچوں سے دور کرلینا، کسی عزیز کو گھر بلا لینا یا مدد طلب کرلینا بسا اوقات ایک ناقابلِ تلافی سانحے کو روک سکتا ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں ایک اور بیماری کا بھی علاج کرنا ہوگا:
"لوگ کیا کہیں گے؟" بعض گھروں میں میاں بیوی مہینوں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں، بچے سب کچھ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں، لیکن خاندان والے اس وقت تک مداخلت نہیں کرتے جب تک معاملہ کسی بڑے حادثے تک نہ پہنچ جائے۔ یہ خاموشی بذاتِ خود ایک سہولت کار بن جاتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر گھریلو اختلاف صرف میاں بیوی کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا؛ جب بچے خوف، تشدد یا مسلسل ذہنی اذیت کا شکار ہونے لگیں تو خاندان، قریبی عزیزوں اور معاشرے کی ذمہ داری بھی شروع ہوجاتی ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کا قول ہے: "تَفَقَّہُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا"
ذمہ داری ملنے سے پہلے سمجھ بوجھ حاصل کرو۔
کاش ہم رشتے نبھانے اور جھگڑے سنبھالنے کا فن حادثے سے پہلے سیکھ لیں، حادثے کے بعد نہیں۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے کسی انتقام کا ذریعہ نہیں ہوتے۔ اگر شوہر اور بیوی میں اختلاف ہے تو ایک دوسرے سے بدلہ لیں، عدالت کا راستہ اختیار کریں، خاندان کے بڑوں کو درمیان میں لائیں، علیحدگی اختیار کریں، مگر بچوں کو اپنی جنگ کا میدان نہ بنائیں۔ قرآن نے علیحدگی کی صورت میں بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا: ﴿فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (البقرہ: 229)
یا تو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے چھوڑ دو۔
جدائی بھی اگر ناگزیر ہو تو وہ ظلم اور انتقام کا نام نہیں، احسان کا نام ہے۔ ایک بچہ ماں باپ دونوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ گھر میں کون صحیح ہے اور کون غلط۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ ماں اسے گلے لگائے، باپ اسے تحفظ دے، اور اس کا گھر اس کے لیے محفوظ جگہ ہو۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ جن ہاتھوں کو بچے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھنے کے لیے تھامتے ہیں، اگر وہی ہاتھ ان کی زندگی چھین لیں تو بچے دنیا سے نہیں، اعتماد سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ جہلم کا یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑ کر پوچھ رہا ہے: کیا ہمارے گھروں میں اختلاف کے باوجود برداشت باقی ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کے سامنے غصے اور نفرت کا اظہار کرنے سے پہلے سوچتے ہیں؟ کیا خاندان کسی گھر کو ٹوٹنے سے پہلے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے؟ کیا ہم ذہنی دباؤ اور شدید جذباتی بحران کی علامات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ اور کیا ہم نے اپنے بچوں کو یہ احساس دیا ہے کہ چاہے دنیا میں کچھ بھی ہوجائے، ہمارا گھر ان کے لیے محفوظ ہے؟
تین معصوم بچے واپس نہیں آسکتے۔ ان کے نام شاید کچھ عرصے بعد ایک خبر کے طور پر لوگوں کے حافظے سے محو ہوجائیں، مگر ان کے جانے کا دکھ ان کے گھر والوں کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ہم اس سانحے سے صرف افسوس کا جملہ نہ سیکھیں؛ ایک سبق بھی سیکھیں۔ گھریلو اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، غصے کو فیصلہ نہ بننے دیں، ذہنی دباؤ کو نظرانداز نہ کریں، اور بچوں کو کبھی بھی بڑوں کی لڑائی کی قیمت ادا نہ کرنے دیں۔ کیونکہ گھر وہ جگہ ہے جہاں بچے دنیا سے تحفظ لینے آتے ہیں۔ اگر وہیں سے انہیں موت ملنے لگے تو پھر سوال صرف ایک گھر کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہوجاتا ہے۔