قومیں محض سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ ان کے اصل معمار وہ اساتذہ ہوتے ہیں جو خام ذہنوں کو شعور، کردار اور تہذیب سے آراستہ کرتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج انہی معماروں کی عزت، معاش اور ذہنی سکون سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
ملتان میں ایک نوجوان معلمہ کی المناک وفات نے پورے ملک کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آ رہے ہیں، اور اصل حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا: ہمارے ہاں نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں اساتذہ انتہائی کم تنخواہوں، غیر یقینی ملازمت، نفسیاتی دباؤ اور غیر مناسب انتظامی رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ کسی ایک ادارے یا ایک شہر کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو برسوں سے پورے تعلیمی نظام میں سرایت کیے ہوئے ہے۔آج ایم اے، ایم فل یا بی ایس کی ڈگری رکھنے والا نوجوان پانچ، سات یا دس ہزار روپے کی ملازمت پر مجبور ہے۔ کہیں اسے تجربے کے نام پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں "ٹریننگ" کی آڑ میں مفت کام لیا جاتا ہے، کہیں چھٹی مانگنے پر ملازمت سے فارغ کیے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے، اور کہیں معمولی غلطی پر پوری اسٹاف میٹنگ کے سامنے اس کی عزتِ نفس مجروح کر دی جاتی ہے۔جب تعلیم کا شعبہ خالص کاروبار بن جائے تو استاد، استاد نہیں رہتا؛ وہ محض ایک "کم لاگت والا ملازم" بن جاتا ہے، جسے جب چاہا رکھ لیا اور جب چاہا نکال دیا جائے۔ ایسے ماحول میں علم کی روح مر جاتی ہے، اور پیچھے صرف فیسوں، نتائج اور اشتہارات کی دوڑ باقی رہ جاتی ہے۔
اسلام نے انسان کی عزت کو سب سے مقدم قرار دیا ہے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾(سورہ الإسراء، آیت 70)
"بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے۔"
یہ عزت کسی کے عہدے، دولت یا شہرت کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ کسی استاد کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا، اس کی محنت کو حقیر جاننا اور اسے مسلسل ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھنا، اسلامی اخلاقیات کے بھی منافی ہے اور انسانی اقدار کے بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمٰنُ»(حدیث نمبر 1924 ،سنن ترمذی)
"رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے۔"
بدقسمتی سے ہمارے بعض اداروں میں نظم و ضبط کے نام پر خوف، تربیت کے نام پر تحقیر، اور معیار کے نام پر انسانی وقار کی پامالی معمول بن چکی ہے۔ یہ رویہ کسی بھی مہذب معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتا۔
اس واقعے کا ایک اور دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں بے شمار نوجوان اپنے خاندانوں کا واحد سہارا ہوتے ہیں۔ ان کی معمولی تنخواہ بھی پورے گھر کی امید بندھائے رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر کسی ملازم کو بے عزت کر کے ملازمت سے محرومی کا خوف دلایا جائے تو اس کے نفسیاتی اثرات کتنے شدید ہو سکتے ہیں، اس کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو غربت اور بے بسی کی چکی میں پس رہا ہو۔
اس موقع پر حکومت، تعلیمی بورڈز اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے کم از کم تنخواہ، باعزت ملازمت، شفاف انکوائری کا نظام، ہراسمنٹ سے تحفظ اور انسانی وقار کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اسی طرح اسکول مالکان کو بھی یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ کسی ادارے کی کامیابی محض اس کی عمارت یا رزلٹ سے نہیں، بلکہ اس کے اساتذہ کے چہروں پر نظر آنے والے اطمینان اور عزت کے احساس سے پہچانی جاتی ہے۔یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ اس واقعے کی مکمل، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر کسی کی غفلت یا غیر قانونی عمل ثابت ہو تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر گردش کرنے والی بعض اطلاعات درست نہ نکلیں تو حقیقت بھی پوری دیانت داری کے ساتھ قوم کے سامنے لائی جانی چاہیے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
بالآخر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم تعلیم کو تجارت بنائیں گے یا خدمت، استاد کو محض ملازم سمجھیں گے یا قوم کا معمار، اور اپنے تعلیمی اداروں کو خوف کی علامت بنائیں گے یا اعتماد کا مرکز۔اگر آج بھی ہم نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور شہر میں کسی اور عاصمہ کا نام ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک نئے سوال کی صورت میں رقم ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی توفیق بخشے جہاں استاد کی عزت محفوظ ہو، انسان کی جان محترم ہو، اور انصاف ہر طاقت سے بلند ہو۔آمین!