(+92) 319 4080233
کالم نگار

انتظار خان،دبئی

انتظار خان،دبئی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
مصنوعی حسن کی چکاچونداورحقیقت کی دنیا
BRT پشاور میں ایک سینئر خاتون کی بات مجھے آج بھی یاد آتی ہے۔ وہ مجھ سے کہا کرتی تھیں:’’انتظار صاحب! آپ کافی میچور ہو گئے ہیں، پھر بھی ان عشق و معاشقوں پر یقین رکھتے ہیں؟ شادی کے بعد کتنی ہی خوب صورت خاتون آپ کی بیوی بنے، کچھ عرصے بعد وہ آپ کو بہت عام سی لگنے لگتی ہے، کیونکہ شادی کے بعد آپ اس کی حقیقتیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

پشاور میں مجھے ایک ایسے شخص سے ملاقات کا موقع ملا جو کبھی کسی ٹک ٹاکر لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ اس نے اپنا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ حیات آباد کے ایک تعلیمی ادارے میں اسے ایک ٹک ٹاکر لڑکی پسند آ گئی۔ بڑی مشکل سے اس سے رابطہ قائم کیا۔ ایک دن اس لڑکی نے اسے ملاقات کے لیے بلایا۔

جب وہ سامنے آئی تو وہ اسے پہچان ہی نہ سکا۔ اس نے نام پوچھا، لڑکی نے وہی نام بتایا جو اس کی ٹک ٹاک آئی ڈی پر درج تھا۔ اس نے اپنی آئی ڈی کھول کر اس لڑکی کو دکھائی اور پوچھا: ’’یہ تم ہی ہو؟‘‘لڑکی نے کہا: ’’ہاں، میں ہی ہوں۔‘‘اصل میں وہ اپنی ویڈیوز میں اتنے زیادہ فلٹرز اور مصنوعی تبدیلیاں استعمال کرتی تھی کہ حقیقی زندگی میں سامنے آنے پر وہ اسے پہچان ہی نہ سکا۔اس شخص نے بتایا کہ اسی لمحے اس نے اسے بلاک کیا، مزید کوئی بات کیے بغیر واپس گھر آیا اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی کہ وہ آئندہ ایسی مصنوعی دنیا کے دھوکے میں نہیں آئے گا۔

آج سوشل میڈیا پر خوب صورتی بھی ایک طرح کی ’’پروڈکٹ‘‘ بن چکی ہے۔ فلٹرز، میک اَپ، روشنی، کیمرے کے زاویے، تصویری تدوین اور اب مصنوعی ذہانت نے انسان کے اصل چہرے اور سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے چہرے کے درمیان ایک بہت بڑا فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم جس شخصیت کو اسکرین پر دیکھ کر متاثر ہو رہے ہوتے ہیں، حقیقت میں اس سے ملاقات ہو تو ہماری تمام توقعات ختم ہو جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ اس پورے مصنوعی ماحول کا ہے جہاں انسان خود کو حقیقت سے کہیں زیادہ خوب صورت، کامیاب اور دلکش بنا کر پیش کرنے لگا ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سی شخصیات اپنے چہرے، جسم، لباس اور طرزِ زندگی کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ دیکھنے والا ان کی اصل زندگی کا تصور ہی نہیں کر پاتا۔ پھر جب کبھی کسی وجہ سے اصل تصاویر یا حقیقی ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم جس شخصیت سے متاثر ہو رہے تھے، وہ دراصل کیمرے، فلٹر اور تدوین کا مجموعہ تھی۔

یہی وجہ ہے کہ صرف اسکرین پر دکھائی دینے والی خوب صورتی کو حقیقت سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔

مجھے اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک ٹی وی ڈراما بھی یاد آتا ہے۔ اس میں ایک خوب صورت عورت کے کردار سے متاثر ہو کر ایک شادی شدہ شخص اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ عورت اپنی دلکشی سے پورے محلے کو متاثر کر چکی ہوتی ہے، مگر کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوتی۔ آخرکار جب اس کا عاشق اس کی بے وفائی اور حقیقت سے دوچار ہو کر بہت ٹھوکریں کھاتا ہے تو اپنی سادہ لوح بیوی کے پاس واپس آتا ہے اور کہتا ہے:’’دا پرادو ملغلرو نہ مې خپل غمې بهتر دے۔‘‘

یعنی مصنوعی چمک دمک کے ان جھوٹے موتیوں سے تو میری اپنی سادگی ہی بہتر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ چمک دمک کی دنیا میں جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو یہ بظاہر رنگین دنیا ہمیشہ اتنی حسین نہیں ہوتی جتنی اسکرین پر دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے چہرے کیمرے، فلٹر اور مصنوعی بناوٹ کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔

کالم نگار : انتظار خان،دبئی
| | |
55