کبھی کبھی انسان کسی شخصیت سے اس قدر متاثر ہونے لگتا ہے کہ اس کی ہر بات اچھی لگنے لگتی ہے۔ اس کی گفتگو، انداز، علم، شخصیت، حتیٰ کہ اس کی معمولی سی توجہ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان ہر لمحہ اسی کی توجہ کا منتظر رہتا ہے، اس کی پسند و ناپسند کو اپنی پسند و ناپسند سمجھنے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ اس شخصیت کا رعب اس پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھولنے لگتا ہے۔
ایک ناول کے اقتباس میں اسی کیفیت کو ایک دلچسپ مکالمے کے ذریعے بیان کیا گیا ہے:
کسی نے پوچھا:"سر! اگر کسی انسان سے اس حد تک متاثر ہونے لگوں کہ مجھے اس کی ہر بات اچھی لگنے لگے، اس کا رعب ہر وقت میرے اوپر چھانے لگے اور مجھے مسلسل اس کی توجہ حاصل کرنے کی خواہش ہونے لگے تو آپ کے خیال میں میں کس جذبے کا شکار ہوں گا؟"
جواب ملا:"کمزور خود اعتمادی کا۔"
سوال کرنے والا شاید محبت جیسے کسی جواب کی توقع کررہا تھا، مگر جواب نے اسے چونکا دیا۔
بظاہر یہ ایک مختصر سا مکالمہ ہے، لیکن اس میں انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو پوشیدہ ہے۔
کسی سے متاثر ہونا بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ انسان فطری طور پر اچھی صفات سے متاثر ہوتا ہے۔ کسی کے علم سے متاثر ہونا، کردار سے متاثر ہونا، گفتگو کے حسن سے متاثر ہونا، نظم و ضبط، اخلاص، محنت یا صلاحیت سے متاثر ہونا ایک مثبت چیز ہوسکتی ہے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں متاثر ہونا، مرعوبیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
متاثر ہونے والا شخص دوسرے کی خوبی دیکھ کر اسے اپنانے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ مرعوب ہونے والا شخص دوسرے کی عظمت کے سامنے اپنی شخصیت کو چھوٹا سمجھنے لگتا ہے۔یہ فرق بہت معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں بہت بڑا ہے۔
جب انسان کسی دوسرے کو پہاڑ اور خود کو اس پہاڑ کے سامنے کھڑی ایک چیونٹی سمجھنے لگے، جب وہ دوسرے کی ہر بات کو درست اور اپنی ہر بات کو ناقص سمجھنے لگے، جب کسی کی توجہ حاصل کرنا اس کی زندگی کی ایک اہم ضرورت بن جائے، جب اس شخصیت کی ناراضی اسے اندر سے توڑنے لگے اور جب وابستگی اس حد تک پہنچ جائے کہ اپنی ذات، اپنی قدر اور اپنی شناخت ہی پسِ پشت چلی جائے، تو یہ محض پسندیدگی یا محبت نہیں رہتی۔یہ احساسِ کمتری اور کمزور خود اعتمادی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
ہماری زندگی میں ایسے بہت سے لوگ آتے ہیں جن سے ہم متاثر ہوتے ہیں۔ کوئی استاد ہوتا ہے، کوئی عالم، کوئی رہنما، کوئی دوست، کوئی بزرگ یا کوئی ایسی شخصیت جس کی کوئی خاص خوبی ہمیں بہت پسند آتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کی اچھی بات کو سمجھیں، اسے اپنائیں اور اپنی شخصیت کو بہتر بنائیں۔لیکن اگر ہم اس شخصیت کو اتنا بڑا بنادیں کہ اپنی تمام خوبیاں ہمیں چھوٹی اور اپنی تمام خامیاں ہمیں ناقابلِ اصلاح محسوس ہونے لگیں، تو ہمیں رک کر اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ کسی دوسرے کے رعب، اثر یا محبت میں آکر اپنی ذات کی نفی کردینا انصاف نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کچھ نہ کچھ صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ کسی کے پاس علم زیادہ ہے تو کسی کے پاس اخلاص زیادہ۔ کوئی اچھا مقرر ہے تو کوئی بہترین منتظم۔ کوئی لکھنے کا ہنر رکھتا ہے تو کوئی دوسروں کو سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کوئی قیادت کرسکتا ہے تو کوئی خاموشی سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔لہٰذا کسی کی خوبی دیکھ کر اپنی خوبی کو بھلا دینا دانش مندی نہیں۔اپنے آپ کو اہمیت دینا خود پسندی نہیں، بشرطیکہ اس میں تکبر شامل نہ ہو۔
اپنی قدر پہچاننا غرور نہیں۔خود اعتمادی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دوسروں سے بہتر سمجھنے لگے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ذات کی قدر بھی برقرار رکھے۔
ہمیں ایسے تعلقات کی ضرورت ہے جن میں محبت ہو مگر خود فراموشی نہ ہو، عقیدت ہو مگر اندھی تقلید نہ ہو، احترام ہو مگر شخصیت کی نفی نہ ہو۔کسی کو پسند کیجیے، اس سے وابستگی رکھیے، اس کی اچھی باتوں سے فائدہ اٹھائیے، اس کے تجربات سے سیکھیے، اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیجیے؛ لیکن اپنی شخصیت کو اس کے قدموں میں مت رکھ دیجیے۔آپ اس کے سامنے گردن اٹھا کر کھڑے ہوں، گردن جھکا کر نہیں۔اس کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیجیے، اس لیے نہیں کہ آپ اس سے بڑے ہیں، بلکہ اس لیے کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک باوقار شخصیت ہیں۔
یادرکھیے!
کسی کی عظمت کا اعتراف اپنی تحقیر کا نام نہیں۔
کسی سے محبت اپنی ذات سے نفرت کا نام نہیں۔
کسی سے متاثر ہونا اپنی شخصیت ختم کردینے کا نام نہیں۔
اصل حسن تو یہ ہے کہ آپ کسی کی اچھی صفات سے متاثر ہوں اور وہ صفات آپ کے اندر بھی پیدا ہونے لگیں۔ آپ کسی عالم سے متاثر ہوں تو آپ کا علم بڑھے، کسی نیک شخص سے متاثر ہوں تو آپ کی نیکی بڑھے، کسی باکردار انسان سے متاثر ہوں تو آپ کا کردار سنورے، کسی کامیاب شخص سے متاثر ہوں تو آپ کی محنت میں اضافہ ہو۔یعنی دوسروں کی عظمت آپ کی شخصیت کو مٹائے نہیں، بلکہ نکھارے۔
لوگ اچھے ہوتے ہیں، واقعی اچھے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی صلاحیت، علم، کردار اور اخلاص کی وجہ سے ہمارے لیے قابلِ احترام بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی اچھائی کو سراہنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ہم خود کو ان کے مقابلے میں کمتر سمجھنے لگیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ان کی اچھی باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
یاد رکھیے!
آپ کو کسی کی قدر کرنے کے لیے خود کو بے قدر کرنے کی ضرورت نہیں۔
آپ کو کسی کی عظمت تسلیم کرنے کے لیے اپنی عظمت سے انکار کرنے کی ضرورت نہیں اور آپ کو کسی سے محبت کرنے کے لیے خود سے محبت ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔
زندگی میں کچھ لوگ ہمارے لیے رہنما ہوتے ہیں، کچھ استاد، کچھ محسن اور کچھ قابلِ احترام شخصیات۔ ان سب سے سیکھیے، ان کی قدر کیجیے، ان کی عزت کیجیے؛ لیکن اپنی ذات کو بھی ساتھ لے کر چلیے کیونکہ صحت مند وابستگی وہ ہے جس میں دو انسان ایک دوسرے کو بلند کرتے ہیں، ایک دوسرے کو مٹاتے نہیں۔
پسندیدگی خوب صورت جذبہ ہے، وابستگی بھی خوب صورت جذبہ ہے، عقیدت و احترام بھی خوب صورت جذبات ہیں؛ مگر تب، جب ان سب کے ساتھ آپ کی اپنی شخصیت، خود اعتمادی اور وقار بھی محفوظ رہے۔
دوسروں سے متاثر ضرور ہوں، مگر اتنے نہیں کہ خود سے متاثر ہونا بھول جائیں۔