نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے، بچے شوق سے اسکول جا رہے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت سے والدین آج بھی کتابوں اور یونیفارم کے حصول کے لیے مختلف دکانوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ کہیں مطلوبہ سائز کی یونیفارم دستیاب نہیں، تو کہیں نصابی کتابیں اسٹاک میں موجود نہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اسکولوں کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نیا سیشن کب شروع ہوگا، تو پھر کتابوں اور یونیفارم کی مناسب منصوبہ بندی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر بروقت طلب کا اندازہ لگا کر کافی مقدار میں اسٹاک تیار رکھا جائے تو والدین کو اس غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں، بلکہ اس کا آغاز بہترین انتظام اور ذمہ دار منصوبہ بندی سے ہوتا ہے۔ چاہے سرکاری ادارے ہوں یا نجی اسکول، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ داخلوں کے ساتھ ہی کتابوں اور یونیفارم کی دستیابی کو یقینی بنائیں تاکہ والدین سکون سے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دے سکیں۔
امید ہے کہ آئندہ تعلیمی سالوں میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ایسی مؤثر منصوبہ بندی کی جائے گی جس سے والدین، طلبہ اور اسکول، تینوں کو سہولت حاصل ہو۔"اچھی تعلیم کا آغاز اچھی منصوبہ بندی سے ہوتا ہے۔"