(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی مجیب الرحمٰن،راولپنڈی

مفتی مجیب الرحمٰن،راولپنڈی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
تربیتِ اولاد کے دو بنیادی اصول
اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور والدین کے لیے ایک بڑی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت اور اس کی صحیح تربیت والدین کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اولاد کی تربیت محض کھلانے پلانے، اچھے کپڑے پہنانے اور اچھی تعلیم دلوانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اخلاق و کردار کی تعمیر، حلال و حرام کی تمیز پیدا کرنے اور اسے ایک اچھا انسان اور صالح مسلمان بنانے کا نام ہے۔

پہلا اصول: اولاد کی جائز خواہشات پوری کیجیے:
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی جائز خواہشات کو حتی المقدور ضرور پورا کریں۔ بچوں کی ضروریات اور جائز خواہشات کو اہمیت دینا محض ان کی دل جوئی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔جب بچوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین ہماری بات سنتے ہیں، ہماری ضرورتوں کو سمجھتے ہیں اور ہماری جائز خواہشات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں والدین کے لیے محبت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی ضروریات اور خواہشات بلاجھجک والدین کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اپنی مشکلات بھی ان سے چھپانے کے بجائے ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر والدین ہر جائز خواہش کو بھی بے جا ضد، فضول خرچی یا نافرمانی سمجھ کر رد کرتے رہیں تو رفتہ رفتہ بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ بچے اپنی خواہشات اور ضروریات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات والدین سے چھپ کر ناجائز ذرائع اختیار کرنے کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کی جائز خواہشات پوری کریں، ان کی بات توجہ سے سنیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ اپنی ہر جائز ضرورت کے لیے وہ والدین سے رجوع کرسکتے ہیں۔

دوسرا اصول: ناجائز اور حرام معاملات میں کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے:
جس طرح اولاد کی جائز خواہشات پوری کرنا ضروری ہے، اسی طرح ناجائز اور حرام امور کے معاملے میں اصولی طور پر کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔والدین کو ابتدا ہی سے اپنی اولاد کے ذہنوں میں حلال و حرام، جائز و ناجائز اور صحیح و غلط کا واضح تصور بٹھانا چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی میں بعض حدود ایسی ہیں جنہیں کسی حال میں عبور نہیں کیا جاسکتا۔اگر والدین کبھی مصلحت، محبت یا وقتی خوشی کی خاطر ناجائز کاموں پر خاموشی اختیار کرلیں تو بچوں کے ذہنوں میں غلط کاموں کے بارے میں نرمی پیدا ہونے لگتی ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ بعض غلطیاں ایسی ہیں جنہیں حالات کے مطابق نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ ناجائز اور حرام کاموں کے معاملے میں دوٹوک مؤقف اختیار کریں۔ اولاد کو محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ کچھ کام ایسے ہیں جن سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے، خواہ اس کے لیے وقتی طور پر اپنی پسندیدہ چیز ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔یہاں والدین کی ذمہ داری صرف روکنے ٹوکنے تک محدود نہیں، بلکہ انہیں غلط کام کی قباحت، اس کے دینی و اخلاقی نقصانات اور اس سے بچنے کی اہمیت بھی سمجھانی چاہیے۔

اصل کامیابی: والدین کی اپنی اصلاح اور اہل اللہ کی صحبت:
یہ دونوں اصول بظاہر آسان ہیں، لیکن ان پر صحیح طریقے سے عمل کرنا اسی وقت ممکن ہے جب والدین خود بھی اپنی اصلاح کی فکر کریں۔ محض بچوں کو نصیحتیں کرنے سے تربیت کا حق ادا نہیں ہوتا، بلکہ والدین کے اپنے کردار، رویے اور طرزِ عمل کا بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ والدین اہل اللہ کی صحبت اختیار کریں، اپنے نفس کی اصلاح کریں، اپنے اخلاق و معاملات درست بنائیں اور نصیحت کرنے کا سلیقہ سیکھیں۔ بچوں کی غلطیوں پر غصے اور طعن و تشنیع کے بجائے حکمت، شفقت اور خیرخواہی کے ساتھ ان کی اصلاح کریں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تربیت میں صرف الفاظ مؤثر نہیں ہوتے، بلکہ والدین کا عملی نمونہ سب سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر والدین خود حلال و حرام کی پابندی کریں، جائز و ناجائز کے درمیان فرق ملحوظ رکھیں اور اپنے معاملات میں اعتدال اختیار کریں تو ان کی اولاد بھی ان اقدار کو اپنانے کی کوشش کرے گی۔

والدین کے لیے دس عملی ہدایات:
تربیتِ اولاد کے ان اصولوں کو محض نظری باتوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے والدین درج ذیل امور کا خصوصی اہتمام کریں:

1۔ روزانہ اولاد کو وقت دیں:
بچوں کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں، ان کی باتیں توجہ سے سنیں اور ان کے جذبات و احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

2۔ جائز خواہشات کا احترام کریں:
بچوں کی جائز ضروریات اور خواہشات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق انہیں پورا کریں۔

3۔ اعتماد کا ماحول بنائیں:
اولاد کو ایسا ماحول دیں کہ وہ اپنی غلطی، پریشانی یا کسی نامناسب صورتِ حال کے بارے میں بلاخوف آپ سے بات کرسکیں۔

4۔ حلال و حرام کی تمیز سکھائیں:
صرف یہ نہ کہیں کہ یہ کام مت کرو، بلکہ محبت اور حکمت کے ساتھ اس کی وجہ بھی سمجھائیں۔

5۔ اصولوں میں دوٹوک رہیں:
جھوٹ، چوری، بے حیائی، بدزبانی اور دیگر ناجائز امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں، خواہ معاملہ اپنی اولاد ہی کا کیوں نہ ہو۔

6۔ نرمی اور سختی میں توازن رکھیں:
ہر غلطی پر غصہ کرنے اور سزا دینے کے بجائے غلطی کی نوعیت، بچے کی عمر اور ذہنی کیفیت کو سامنے رکھ کر اصلاح کریں۔

7۔ اپنا کردار درست کریں:
بچوں کو جن باتوں کی تلقین کرتے ہیں، خود بھی ان پر عمل کریں؛ کیونکہ والدین کا عملی نمونہ زبانی نصیحت سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

8۔ اچھی صحبت کا اہتمام کریں:
اولاد کو نیک لوگوں، صالح اساتذہ اور اچھے دوستوں کی صحبت میسر کرنے کی کوشش کریں اور خود بھی اہل اللہ کی مجالس سے وابستہ رہیں۔

9۔ اولاد کے لیے دعا کریں:
تربیت کی کوششوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اولاد کی ہدایت، اصلاح اور استقامت کی دعا کرتے رہیں۔

10۔ اپنا محاسبہ کرتے رہیں:
وقتاً فوقتاً جائزہ لیں کہ ہمارے رویے، گفتگو اور طرزِ تربیت سے اولاد ہم سے قریب ہورہی ہے یا دور۔

والدین یاد رکھیں کہ اولاد کی تربیت صرف اس بات کا نام نہیں کہ وہ ہماری بات ماننے لگے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، حلال و حرام کی پابندی اور نیکی و بدی کی تمیز پیدا ہوجائے۔تربیتِ اولاد کا ایک اہم راز یہ ہے کہ جائز خواہشات کی تکمیل میں محبت اور ناجائز خواہشات کی روک تھام میں اصول پسندی اختیار کی جائے۔ نہ اتنی سختی ہو کہ اولاد والدین سے دور ہوجائے اور نہ ایسی بے جا نرمی کہ حلال و حرام کی تمیز ہی ختم ہوجائے۔ محبت اور اصول پسندی کا یہی حسین امتزاج اولاد کی صالح تربیت کی بنیاد ہے۔

اس پورے عمل میں والدین کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اولاد کی اصلاح کے لیے صرف اس پر کام کرنا کافی نہیں، بلکہ والدین کو اپنی اصلاح کا سفر بھی جاری رکھنا ہوگا۔ جب والدین کی اپنی زندگی میں دین، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور حکمت نمایاں ہوگی تو ان کی نصیحتوں میں بھی اثر پیدا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کرنے، خود بھی اصلاحِ نفس کی فکر کرنے اور اپنی اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : مفتی مجیب الرحمٰن،راولپنڈی
| | |
20