(+92) 319 4080233
کالم نگار
2026/08/15
موضوعات
اہل علم کےلیے مقام تفکر
بہت سے علماء کرام پوشیدہ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں ، مگر وہ ایک عام آدمی کی نسبت ان گناہوں کو کہیں زیادہ ہلکا لیتے ہیں اور ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ان کیلئے بہت مشکل امر ہوتا ہے ۔اس کی بالعموم تین بڑی وجوہات ہیں ۔

(1) مستقل مقدس ماحول میں رہتے رہتے ان کے دل سے اللّٰہ تعالیٰ کی ہیبت مدہم پڑ جاتی ہے ۔ جیسا کہ مشہور کہاوت ہے " مندر کے چوہے بھگوان سے نہیں ڈرتے ، بلکہ اس کے گلے میں پڑی مالا سے کھیلتے ہیں "

(2) علماء خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، ان کو ایسے ثنا خوان ضرور میسر آجاتے ہیں جو ہر وقت ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی اس اصلیت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں جو ان کی تنہائی اور نجی مجلسوں میں نمودار ہوتی ہے اور اپنے بارے میں کاملیت کا ایک موہوم تصور قائم کر لیتے ہیں ۔ خوشامدانہ کلمات اور مدح و ستائش کی دبیز تہیں انہیں اپنے عیوب کا آئینہ دیکھنے نہیں دیتیں ۔ جیسا کہ معروف ضرب المثل ہے " ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد " جو بھی نمک کی کان میں گیا نمک ہی بن گیا ۔

(3) وہ پردہ پوشی کے دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ چونکہ عوام ان کی ان آلودگیوں سے بے خبر ہوتے ہیں ، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اثرات کبھی منظرِ عام پر نہیں آئیں ۔

بہت کم علماء ایسے ہوتے ہیں جن کی خلوت اور جلوت ایک دوسرے کی آئینہ دار ہوں ، چنانچہ جو علماء اپنے پوشیدہ گناہوں کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں اور ان کی اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ، وہ رفتہ رفتہ اپنے دل کے نور ، اپنے علم کی برکت اور لوگوں کے دلوں میں اپنی قبولیت کھو بیٹھتے ہیں ، اگرچہ انہیں خود اس زوال کا احساس نہ ہو ۔

اس سلسلے میں ائمۂ سلف کے چند ارشادات تازیانۂ عبرت کے طور پر ملاحظہ ہوں ۔

ابن القیمؒ اپنے تفسیری فوائد میں پوشیدہ گناہوں کو ایک ایسے زخم سے تشبیہ دیتے ہیں جو اوپر سے بھر چکا ہو ، مگر اس کے اندر فاسد مادے کی خرابی باقی ہو ، آخر کار وہ زخم پھٹ پڑتا ہے اور اس کے اندر کا سارا زہر باہر آجاتا ہے ۔ اسی طرح پوشیدہ گناہوں کے ہولناک نتائج بھی جلد یا بدیر ظاہر ہو کر رہتے ہیں ۔ فرماتے ہیں اسی غلط فہمی نے علماء کی ایک بڑی تعداد کو ہلاکت میں ڈالا کہ جب ان گناہوں کا وبال فوراً ظاہر نہ ہوا تو انہوں نے انہیں معمولی سمجھ کر مسلسل جاری رکھا ۔

ابو نعیم الاصبہانیؒ نے " حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء " میں حضرت ابو الدرداءؓ کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ جب کوئی بندہ تنہائی میں اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے دلوں میں اس کیلئے نفرت ڈال دیتے ہیں ، اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔

ابن الجوزیؒ "صید الخاطر" میں اہلِ علم کو تنبیہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ میں نے علم کی طرف منسوب لوگوں میں ایک ایسا گروہ بھی دیکھا ، جنہوں نے تنہائیوں میں اللّٰہ عزوجل کی نگرانی کا پاس نہ رکھا تو اللّٰہ تعالیٰ نے بھی محفلوں میں ان کے ذکرِ خیر کا حُسن و وقار مٹا دیا ۔ نتیجے کے طور پر وہ معاشرے میں موجود ہوتے ہوئے بھی غیر موجود کی طرح ہو گئے ۔ نہ ان کی زیارت میں کوئی جاذبیت و چاشنی باقی رہی اور نہ کسی دل میں ان سے ملاقات کی آرزو مچلی ۔

کالم نگار : Abu Ramla
| | |
33