انسان کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کی عادتوں پر ہے۔ اچھی عادتیں انسان کو بلندیوں تک لے جاتی ہیں، اور بری عادتیں اسے تباہی کے گڑھے میں گرا دیتی ہیں۔ بری عادت ایک دن میں نہیں بنتی، آہستہ آہستہ طبیعت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح اس سے نجات بھی ایک دن میں ممکن نہیں، اس کے لیے مسلسل محنت، صبر اور درست اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے اصول پیش کیے جا رہے ہیں جو بری عادتوں سے بچنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
*1۔ مقصد: واضح شیڈول بنائیں۔*
بے مقصد زندگی ہی بری عادتوں کی جڑ ہے۔ جب انسان کے پاس کوئی واضح مقصد اور منظم شیڈول نہیں ہوتا تو فارغ وقت اسے غلط کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لیے دن بھر کا شیڈول بنائیں، نماز، مطالعہ، کام اور آرام کا وقت مقرر کریں۔
*2۔ حوصلہ: مشکل کا سامنا ڈٹ کر کریں۔*
بری عادت چھوڑتے وقت نفس بہت تنگ کرے گا، دل گھبرائے گا۔ یہی اصل امتحان ہے۔ جو شخص اس مشکل وقت میں ڈٹ جاتا ہے، وہی کامیاب ہوتا ہے۔ حوصلہ ہارنا ہی اصل ہار ہے۔
*3۔ خاموشی: شور کے بغیر کام کریں۔*
اپنی اصلاح کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں۔ خاموشی سے اپنے اوپر محنت کریں۔ جو لوگ زیادہ بولتے ہیں وہ کام کم کرتے ہیں، اور جو خاموشی سے لگے رہتے ہیں، ان کی تبدیلی خود بولتی ہے۔
*4۔ ترجیح: اپنی عزت و سکون کو آگے رکھیں۔*
ہر فیصلہ کرتے وقت سوچیں، کیا یہ کام میری عزت اور میرے دل کے سکون کے لیے بہتر ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو اسے فوراً چھوڑ دیں۔ عزت ایک بار جائے تو واپس نہیں آتی۔
*5۔ صحبت: مخلص لوگوں کے ساتھ رہیں۔*
انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ بری صحبت بری عادت کی ماں ہے۔ اس لیے ایسے مخلص، نیک اور سنجیدہ لوگوں میں بیٹھیں جو آپ کو اچھائی کی طرف بلائیں، نہ کہ برائی کی طرف۔
*6۔ صبر: جلد بازی سے بچیں۔*
اصلاح کا عمل وقت مانگتا ہے۔ آج توبہ کی اور کل ہی فرشتہ بننے کی امید نہ رکھیں۔ کبھی پھسل بھی جائیں تو مایوس نہ ہوں، دوبارہ اٹھیں اور صبر سے چلتے رہیں۔
*7۔ حدود: اپنے اصول برقرار رکھیں۔*
اپنے لیے کچھ اصول مقرر کریں اور ان پر سمجھوتہ نہ کریں۔ مثلاً فلاں جگہ نہیں جاؤں گا، فلاں شخص سے تنہائی میں نہیں ملوں گا، فلاں چیز نہیں دیکھوں گا۔ حدود ہی حفاظت ہے۔
*8۔ سبق: غلطیوں سے سیکھیں۔*
غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، لیکن عقلمند وہ ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھے۔ سوچیں کہ میں کیوں پھسلا؟ کس وقت؟ کس وجہ سے؟ اس وجہ کو ختم کریں تو غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔
*9۔ توقع: امیدیں کم رکھیں۔*
لوگوں سے زیادہ امیدیں رکھنا دکھ کا سبب بنتا ہے۔ جب امید ٹوٹتی ہے تو انسان غم میں بری عادت کی طرف بھاگتا ہے۔ اس لیے تمام امیدیں اللہ تعالیٰ سے ہی رکھیں، لوگوں سے نہیں۔
*10۔ کنٹرول: غصے پر قابو رکھیں۔*
اکثر بری عادتیں غصے، ٹینشن اور مایوسی کے وقت شروع ہوتی ہیں۔ غصہ آئے تو خاموش ہو جائیں، وضو کریں، جگہ بدل لیں۔ غصے میں کیا ہوا فیصلہ ساری زندگی کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔
*11۔ محنت: شارٹ کٹس چھوڑیں۔*
بری عادت کا سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ یہ آسان اور فوری مزہ دیتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں، آسان راستہ ہمیشہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔ محنت والا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر انجام سکون والا ہوتا ہے۔
*12۔ اعتماد: خود پر بھروسہ رکھیں۔*
سب سے آخر میں، خود پر بھروسہ رکھیں۔ یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے میں بدل سکتا ہوں۔ جس نے خود پر بھروسہ کر لیا، دنیا کی کوئی بری عادت اسے شکست نہیں دے سکتی۔
الغرض بری عادتوں سے بچنا ایک جنگ ہے، اور یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں، اصولوں سے جیتی جاتی ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اور اپنے عمل میں لائیں تو ان شاء اللہ ہماری زندگی پرسکون، باعزت اور کامیاب ہو جائے گی۔