ایک بات سمجھ نہیں آتی، آخر ہم نے افغانستان اور ایران کے لیے الگ الگ ترازو کیوں رکھے ہوئے ہیں؟
افغان بھارت کے قریب جائے تو فوراً شور اٹھتا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے؟ افغانستان کس کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے؟ پاکستان کے خلاف کیا سازش بن رہیں وغیرہ وغیرہ !
لیکن جوں ایران بھارت کے قریب آئے تو یہی صحافی اچانک سے سائلنٹ موڈ، بلکہ الٹا صفائیاں دینے لگ جاتے حالانکہ کلبھوشن نیٹ ورک سے لیکر سولہ جنوری دوہزار چوبیس ایران کے پاکستان پر حملے ہوں یا کہ پھر بی ایل ایف وغیرہ کی سہولت کاری، چاہ بہار نیٹ ورک ہو یا کہ پھر قم میں بیٹھے پاکستان کو مطلوب دہشتگرد، ہم سب بھول جاتے .
عراقچی صاحب دہلی میں بھارت کی تعریفیں کریں، اس کی BRICS قیادت کو سراہیں، پزشکیان مودی کے ساتھ چابہار، تجارت اور تعاون بڑھانے کی بات کریں، پہلگام کا ذکر BRICS اعلامیے میں آجائے، اور ہمارے ٹوئیپس اور انفلونسرزالٹا انکی صفائیاں دے رہے ہیں، دلیلیں پیش کررہے ہیں.
یہ جو برکس میں پہلگام پہلگام کی رٹ لگارہے تھے نا، ان سب سے پہلے پاکستان ہی وہ ملک ہے کہ جس نے پہلگام واقعہ کی مذمت کی اور آج تک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہا لیکن مجال ہیکہ اس اینگل کو بھی وہاں کسی نے بیان نہیں کیا .
پزشکیان ایک بی جے پی کے مذہبی رہنما کے سامنے جھکے تو فوراً وضاحتیں:“اجی کاغذ گر گیا تھا، وہ کاغذ اٹھانے جھکے تھے۔‘‘
ارے بھائی یہ تو بتاؤ کہ اس متعصب ہندو پنڈت کے پاس پزشکیان لینے کیا گئے تھے؟
اور دوسری طرف یہی ایران نواز طبقہ حوثیوں کے حق میں شور مچا رہا ہے، سعودی عرب کے خلاف کھل کر بول رہا ہے، حالانکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات اور معاہدہ بھی موجود ہے۔
بات ایران سے دشمنی کی نہیں، ایران کو اپنے مفادات دیکھنے کا پورا حق ہے.
بات ہمارے دوہرے معیار کی ہے:
افغانستان بھارت کے قریب آئے تو خطرہ،ایران بھارت کے قریب آئے تو سفارت کاری؟
افغان کرے تو پاکستان کے خلاف سازش،ایران کرے تو ’’مجبوری‘‘، ’’حکمت‘‘ اور ’’برادرانہ تعلقات‘‘؟
دنیا میں ہر ملک اپنا مفاد دیکھ رہا ہے,ایران بھی، بھارت بھی، سعودی عرب بھی,ہم کب اپنا مفاد دیکھیں گے؟
خدارا اس سائلنٹ موڈ سے باہر آئیے!
حقیقی دنیا میں واپس آئیے،اپنا پرایا پہچانیے، اور دوسروں کے مفادات کا دفاع کرتے کرتے اپنا مفاد مت بھولیے.