اسلامی تہذیب ایک ایسی علمی روایت کی وارث ہے جس کی بنیاد نص، فقہ، کلام اور ایک وسیع فکری سرمایہ پر قائم ہے؛ لیکن جب انھی روایت کا سابقہ جدید ریاست، جمہوریت، آئین، جدید تعلیم، سائنس و صنعت، انسانی حقوق اور بدلتے ہوئے معاشرتی تصورات سے ہوتا ہے تو علما کے لیے تعبیر و تطبیق کا ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے، بالخصوص پاکستان کی معاصر اسلامی تحریکیں اس مسئلے کے مطالعے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان تحریکوں کے افکار اور سیاسی و سماجی رویوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کہیں قدیم علمی روایت کو نئے حالات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش ہے، کہیں جدید تصورات کے ساتھ موافقت پیدا کی گئی ہے اور خود کو جدید دھارے میں رکھنے کی سعی اسلامی چادر میں پاؤں پھنسا کر کی گئی ہے۔
یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ معاصر پاکستانی اسلامی تحریکیں قرآن و سنت اور ماضی کی علمی روایت کو اس جدید سیاسی، معاشرتی اور فکری مسائل سے کس طرح متعلق کرتی ہیں؟
اگر دو یا تین مختلف فکری مزاج رکھنے والی جماعتوں کا انتخاب کرکے نصوص، ان کے عملی رویوں اور ان کی پالسیوں کا باقاعدہ تقابلی مطالعہ کیا جائے تو اس سے نہ صرف پاکستانی اسلامی تحریکوں کی فکری ساخت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہے۔ میرے خیال میں یہ موضوع اہلِ علم کی سنجیدہ توجہ اور باقاعدہ تحقیق کا مستحق ہے۔