مسلم معاشرے میں تعلیم کے فروغ کے لیے ہونے والی ہر سنجیدہ کوشش قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے۔ استعماری اور مابعد استعماری دور میں مسلمانوں نے مختلف جہتوں سے تعلیمی منصوبوں پر کام کیا ہے۔ سائنس و ٹکنالوجی کی تعلیم کے لیے ایسے معیاری ادارے قائم کیے جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات پوری کیں بلکہ مختلف علمی میدانوں میں تحقیق و تدریس کے حوالے سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔برصغیر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور عرب ممالک کے متعدد تعلیمی و تحقیقی ادارے بھی قابلِ ذکر ہیں۔ غرض مسلم دنیا میں ایسے معتبر اداروں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہوں نے مختلف علوم کی تدریس اور تحقیق میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک اور تعلیمی ادارے، الغزالی یونیورسٹی، کراچی کا خاصا چرچا ہے۔ ایک دو روز قبل اس یونیورسٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کی چند ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں بعض ایسی باتیں سامنے آئیں جو میری علمی دلچسپی کا موضوع تھیں۔
خصوصاً اعجازِ علمی کے شعبے کا ذکر سننے کو ملا، جس کے تحت قرآن، حدیث، فقہ اور تاریخ جیسے علوم کو جدید سائنس کے ساتھ مربوط کرکے پیش کرنے کا منصوبہ بتایا گیا۔
اس منصوبے کے بارے میں مزید جاننے کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ اس کی تفصیلات تلاش کرنا شروع کیں۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر علی فواد مخیمر صاحب اور امریکہ کی پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی (Passion International University) کا تعارف بھی سامنے آیا۔ مزید یہ معلوم ہوا کہ اسی یونیورسٹی کی جانب سے مفتی عبدالرحیم صاحب کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی ہے۔
اس کے بعد بندے نے علی فواد مخیمر صاحب کے اعجازِ علمی کے منصوبے اور پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو بعض ایسی باتیں سامنے آئیں جو علمی دنیا کے لیے نہایت سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہیں۔
سب سے پہلے پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی کو دیکھیے:
دستیاب معلومات اور اس کی ویب سائٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ادارہ واقعی امریکہ کے معروف اور تسلیم شدہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طرح ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہے؟
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ امریکہ میں کسی ادارے کی قانونی رجسٹریشن، مذہبی تعلیمی ادارے کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت اور باقاعدہ تعلیمی ایکریڈیٹیشن (Academic Accreditation) تین مختلف چیزیں ہیں۔
پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی کی اپنی ویب سائٹ پر یہ عبارت موجود ہے کہ ادارہ امریکی محکمۂ تعلیم سے سرکاری شناخت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بیان کے بعد یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ ادارے کے موجودہ تعلیمی و قانونی اختیارات کی نوعیت کیا ہے اور اس کی جاری کردہ اسناد کو کن معتبر تعلیمی اداروں اور متعلقہ حکام کی جانب سے تسلیم کیا جاتا ہے؟
اسی ویب سائٹ پر دو مزید باتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔
پہلی بات یونیسکو سے منظوری کا دعویٰ ہے:
ویب سائٹ پر دعویٰ موجود ہے کہ یونیورسٹی کو یونیسکو (UNESCO) سے تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں ایک دستاویز بھی فراہم کی گئی ہے۔ تاہم اس دستاویز کا جائزہ لینے پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نائجر سے متعلق پیش کی گئی ایک شخصی سند کو یونیسکو کی جانب سے یونیورسٹی کی باقاعدہ تعلیمی منظوری کے ثبوت کے طور پر کیسے پیش کیا جاسکتا ہے؟ (یہ دستاویز فرانسیسی زبان میں ہے )
دوسری اور زیادہ حیران کن بات اعزازی ڈاکٹریٹ کی فیس ہے۔پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مختلف ڈگریوں کی فیس درج ہے۔ اسی فہرست میں اعزازی ڈاکٹریٹ (Honorary Doctorate) کے لیے بھی ایک ہزار امریکی ڈالر کی رقم درج ہے۔
یہ بات واقعی تعجب انگیز ہے۔
اعزازی ڈاکٹریٹ عام طور پر کسی شخصیت کی غیر معمولی علمی، سماجی یا انسانی خدمات کے اعتراف میں عطا کی جاتی ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ تعلیمی کورس یا تحقیقی مقالے کی شرط نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی ادارے کی ویب سائٹ پر اعزازی ڈگری کے لیے ایک مقررہ رقم درج ہو تو فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اعزاز کی نوعیت اور اسے عطا کرنے کے علمی معیارات کیا ہیں؟
البتہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ویب سائٹ پر ایک ہزار ڈالر کی فیس درج ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر اعزازی ڈگری حاصل کرنے والے شخص نے یہ رقم ادا کی ہے۔ اور مفتی عبدالرحیم صاحب کو یہ فیس کے بدلے ملی ہے، ہمیں پتہ ہے اس طرح کی اعزازی ڈگری سے مفتی عبدالرحیم صاحب کا فایدہ کم اور پیشن یونیورسٹی کا فایدہ زیادہ ہے.
تاہم کسی بھی تعلیمی ادارے کی سنجیدگی اور علمی اعتبار کے حوالے سے اس نوعیت کی فیس کا موجود ہونا بجائے خود وضاحت طلب ہے۔
اب آتے ہیں اعجازِ علمی کے منصوبے کی طرف:
اس سلسلے میں معلوم ہوا کہ علی فواد مخیمر صاحب کا اردن میں بھی اس نوعیت کا ایک ادارہ اور منصوبہ کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کی بعض عربی ویڈیوز دیکھنے کا موقع ملا۔
ان ویڈیوز سے جو ابتدائی تاثر قائم ہوا، وہ یہ ہے کہ اس منصوبے کا علمی منہج اس طرزِ استدلال سے بہت زیادہ مختلف نظر نہیں آتا جسے ترکی کے معروف مصنف عدنان اکتار، المعروف ہارون یحییٰ، نے اپنے لٹریچر اور ویڈیوز کے ذریعے فروغ دیا تھا۔
یعنی جدید سائنس کی بعض دریافتوں کو قرآن و حدیث کے ساتھ مربوط کرکے اسلام کی صداقت کے دلائل کے طور پر پیش کرنا، اور سائنسی معلومات کی بنیاد پر مذہبی نصوص کے معانی متعین کرنے کی کوشش کرنا۔
اس نوعیت کے کام میں عموماً علمی تحقیق کے بجائے خطیبانہ استدلال کا پہلو نمایاں ہوجاتا ہے۔
جن حضرات کو عربی زبان سے واقفیت ہے، وہ متعلقہ ادارے کی ویڈیوز دیکھ کر خود اس کے علمی منہج کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
یہاں میرا بنیادی اعتراض سائنس اور اسلامی علوم کے درمیان تعلق قائم کرنے پر نہیں ہے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ اس تعلق کی علمیاتی بنیاد کیا ہے؟کیا ہم کسی بھی ڈسپلن آف نالج کے لیے پہلے یہ متعین کریں گے کہ اس کا منہج تحقیق اور اصول استدلال کیا ہے کسی مفروضہ کی تصدیق کے اصول کیا ہیں؟ یا پھر محض سائنسی نظریات اور مذہبی نصوص کے درمیان ظاہری مماثلتیں تلاش کرکے اسے علمی تحقیق کا نام دے دیں گے؟یہ دونوں بالکل مختلف چیز ہے ، کی بنیاد پر فیصلے یہ ایک دعوتی اور عوامی منہج تو ہو سکتا ہے لیکن یہ علمی اور تحقیقی کام نہیں ہو سکتا۔
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں میں Islamization of Knowledge کے عنوان سے ہونے والے بہت سے کاموں میں ایسے سطحی رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں، جہاں بنیادی علمیاتی سوالات کو حل کرنے سے پہلے ہی جدید علوم اور اسلامی نصوص کے درمیان مطابقت پیدا کرنے ہی کو اصل علمی خدمت سمجھ لیا گیا۔ایسی کوششوں کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان میں بعض اوقات جدید سائنس کے نتائج کو غیر محسوس طریقے سے قرآن و سنت کی تعبیر کا معیار بنا دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً جیسے ہی سائنسی نظریات تبدیل ہوتے ہیں، متعلقہ مذہبی تعبیرات بھی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہیں۔
الجمعیۃ الاردونیۃ لاعجاز القرآن و السنہ کے اعجازِ علمی کے منصوبے کے بارے میں دستیاب ابتدائی مواد سے فی الحال اسی نوعیت کا تاثر قائم ہوتا ہے۔
ہماری خواہش تو یہی ہے کہ مسلم دنیا میں ایسے ادارے قائم ہوں جو مختلف علوم اور اسلامی علمی روایت کے درمیان سنجیدہ علمی مکالمے کی بنیاد رکھیں۔ ایسے ادارے جو محض مغربی علوم کو اسلامی رنگ میں پیش کرنے کے بجائے خود ان علوم کی علمیاتی بنیادوں، مناہجِ تحقیق اور فلسفیانہ مفروضات کا تنقیدی جائزہ لے سکیں۔لیکن اس کے لیے محض بڑے اجتماعات، بین الاقوامی شخصیات کی شرکت، اعزازی ڈگریوں کی تقسیم اور بلند بانگ دعوے کافی نہیں ہیں۔مسلم معاشرے کو ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو علم کی دنیا میں واقعی کوئی اضافہ کرسکیں، نہ کہ محض پہلے سے رائج سطحی علمی رجحانات کو نئے ادارہ جاتی عنوانات کے تحت دوبارہ پیش کریں۔