(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سید فصیح اللہ شاہ

مفتی سید فصیح اللہ شاہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/18
موضوعات
بین الاقوامی تعلیمی سربراہی کانفرنس: چند فکری گذارشات
حال ہی میں جامعۃ الرشید کے زیر انتظام قائم کردہ الغزالی یونیورسٹی کراچی نے بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے چانسلرز (International Summit of University Chancellors) کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں تقریباً 34 ممالک سے مختلف مسلم جامعات کے سربراہان ماہرین تعلیم اور شیوخ نے شرکت کی۔ مسلم دنیا کے 34 ممالک کے تعلیمی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا تاکہ باہمی تعاون طلبہ و اساتذہ کے تبادلے (Student/Faculty Exchange) اور مشترکہ تحقیق کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

ایک دینی تحریکی و فکری پس منظر رکھنے والے ادارے کی طرف سے جدید اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اس طرح کی پیشرفت اور عالمی سطح پر مکالمے کی شروعات انتہائی قابل تحسین مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

لیکن گہرائی سے سوچا جائے تو درج ذیل تشویشناک امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے :

1: عصری سائنس اور اسلامی علوم کے درمیان ارتباط پیدا کرنے کے لیے جو منہج اکثر اس طرح کے پلیٹ فارمز پر اپنایا جاتا ہے وہ گہرے علمیاتی (Epistemology) مسائل کا شکار ہوتا ہے . جدید سائنسی دریافتوں اور مفروضات کو محض ظاہری مشابہت کی بنیاد پر اسلامی نصوص یعنی قرآن و حدیث پر چسپاں کرکے تجدید کا نام دینا کوئی حقیقی علمی خدمت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس طرز استدلال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سائنس کو معیار مان کر دینی نصوص کو اس کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ جیسے ہی سائنس کا کوئی نیا نظریاتی فریم ورک سامنے آتا ہے پرانی دینی تعبیرات کمزور پڑ جاتی ہیں۔ جدید معلومات کو اسلامی پیکنگ میں پیش کرنا سنجیدہ اور پائیدار علمی و تحقیقی کام نہیں ہے۔

2: ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ مذہبی حلیے روایتی القابات یا دینی القاب و آداب سے کوئی ادارہ یا کانفرنس اسلامی تعلیمی نظام بن جاتی ہے۔ موجودہ دور کی یونیورسٹی کا ڈھانچہ ڈگریوں کی تقسیم انتظامی ساخت بیوروکریسی اور کریڈٹ آورز کا نظام بنیادی طور پر مغربی استعماری (Post-Colonial) نظام تعلیم ہی کی پیداوار ہے۔جب آپ اسی مغربی ساخت کو اختیار کر کے صرف اوپر سے دینی گلیز یا مذہبی فریم لگا دیتے ہیں تو یہ حقیقت میں اسلامی تعلیمی انقلاب نہیں بلکہ مغربی نظام تعلیم کی مذہبی پیکنگ بن جاتا ہے۔ اسلام کا روایتی اور حقیقی نظام تعلیم اپنی ساخت روح استاد و شاگرد کے تعلق اور مقصد علم میں اس استعماری ماڈل سے بالکل مختلف تھا۔

3: کروڑوں روپے کے کثیر اخراجات سے منعقد کی جانے والی پرشکوہ مغربی طرز کی کانفرنسز اور فائیو اسٹار تعلیمی سمٹس ملک کی تلخ معاشی و تعلیمی حقیقت سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں پاکستان کا عام غریب مزدور اور مڈل کلاس طالب علم جو بنیادی تعلیمی سہولیات سستی ڈگریوں اور روزگار کے لیے ترس رہا ہے اس کو اس طرح کے عالمی اجتماعات سے صفر فیصد فائدہ پہنچتا ہے۔

4: اس طرح کی کانفرنسز عام نچلے طبقے کے طلبہ کی تعلیمی خواہشات امیدوں اور کوششوں کا جذباتی استحصال ثابت ہوتی ہیں کروڑوں روپے کے شو کیسنگ (Showcasing) کا اصل فائدہ صرف ادارے کے گنے چنے نمایاں افراد اشرافیہ اور بین الاقوامی شہرت کی شخصیات کو ملتا ہے۔

اگر اتنے کثیر وسائل کو عام طلبہ کے لیے اسکالرشپس معیار تدریس کو بہتر بنانے بنیادی تحقیق اور سستے تعلیمی ماڈلز قائم کرنے پر خرچ کیا جاتا تو اس کا براہ راست فائدہ معاشرے کے نچلے اور درمیانے طبقے کو ہوتا۔

کالم نگار : مفتی سید فصیح اللہ شاہ
| | |
34