پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات بھی آتے ہیں جو ایوان کی تلخی کو مسکراہٹ میں بدل دیتے ہیں، مگر ان ہنسی مذاق بھرے جملوں کے پیچھے سیاست کی گہری بساط بھی بچھی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والا مکالمہ بھی بظاہر خوشگوار تھا، لیکن اس کے سیاسی معنی دور رس تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتے رہتے ہیں اور تنہائی میں ہونے والی گفتگو کو قبر تک ساتھ لے جائیں گے۔ جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے نہایت برجستگی سے کہا کہ وزیراعظم نے اگر تنہائی میں کوئی ایسی بات کی ہے تو وہ ایوان کے سامنے کھل کر بیان کریں، میں انہیں اجازت دیتا ہوں۔ یہ جملہ صرف حاضر جوابی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی وار تھا جس نے پورے ایوان کو قہقہوں پر مجبور کر دیا۔
سیاست میں لفظوں کا انتخاب محض الفاظ نہیں ہوتا بلکہ ہر جملہ ایک پیغام، ایک اشارہ اور بعض اوقات ایک دھمکی بھی ہوتا ہے، خواہ وہ دھمکی محبت کے لبادے میں ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ شہباز شریف کی گفتگو میں محبت تھی، احترام تھا، مگر ساتھ ہی ایک سیاسی رمز بھی پوشیدہ تھی،اور صاف لگ رہا تھا کہ وہ اظہار محبت کی آڑ میں مولانا کے حوالے سے باریک واردات ڈالنے کی کوشش کر ریے ہیں،مگر مولانا نے اپنی بذلہ سنجی، متانت اور اعتماد سے یہ واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی سیاسی چال اور باریک واردات کو مسکراہٹ کے ساتھ ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا شمار پاکستان کے ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو ایوان کے ماحول کو اپنی حاضر جوابی سے بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ اختلاف بھی شائستگی سے کرتے ہیں اور جواب بھی ایسی نفاست سے دیتے ہیں کہ مخالف کو احساس تک نہیں ہوتا کہ سیاسی ضرب کہاں لگی ہے۔
شاعر نے شاید ایسے ہی موقع کے لیے کہا تھا:
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
یہ شعر اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ سیاست میں خاموشی کو کمزوری سمجھنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تحمل، بردباری اور بروقت جواب ہی سب سے مضبوط سیاسی ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر ہمیشہ یہ تبصرہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ سیاسی تعلقات میں محبت اور مصلحت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم سیاسی مرحلہ آتا ہے تو تعلقات کی گرم جوشی بڑھ جاتی ہے، ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے اور تعریف و توصیف کے پل باندھے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ مفادات بدلتے ہی لہجے بھی بدل جاتے ہیں۔
اسی لیے سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب یہ قول یہاں صادق آتا ہے کہ "جس پر احسان کرو، پھر اس کے شر سے بھی بچو۔"
یہ جملہ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کا نچوڑ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں سیاسی دوستیاں مستقل نہیں ہوتیں، صرف مفادات مستقل رہتے ہیں۔ن لیگ بالخصوص شریف خاندان پر مولانا فضل الرحمٰن کے احسانات سے پوری قوم واقف ہے،احسانات کے بدلے میں "شر" سے کیسے بچا جائے؟مولانا فضل الرحمٰن کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے اقتدار اور اپوزیشن دونوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے آمریت بھی دیکھی، جمہوریت بھی، اقتدار کے ایوان بھی دیکھے اور سڑکوں کی سیاست بھی۔ یہی تجربہ انہیں سیاسی شطرنج کا ایک منجھا ہوا کھلاڑی بناتا ہے۔
آج اگر مسلم لیگ (ن) ان کے لیے محبت بھرے جذبات کا اظہار کر رہی ہے تو اس کے پیچھے سیاسی ضرورت بھی موجود ہے۔ اتحادی سیاست میں ہر ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے اور ہر تعلق کو سنبھال کر رکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔ لیکن مولانا بھی بخوبی جانتے ہیں کہ سیاست میں مستقل محبتوں سے زیادہ مستقل مفادات ہوا کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اخلاقی قوت، سیاسی بصیرت اور عوامی اعتماد کے ساتھ میدان سیاست میں کھڑا رہنے کی ضرورت ہے۔ وقتی تعریفوں، جذباتی نعروں یا وقتی قربتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی نظریاتی شناخت اور عوامی ساکھ کو مزید مضبوط بنانا ہی ان کی اصل طاقت ہے۔
پاکستان کے باشعور عوام بھی اب صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتے ،بلکہ کردار، استقامت اور اصولوں کو دیکھتے ہیں، جو جماعت اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گی، وہی آنے سیاسی منظرنامے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے گی۔
سیاست میں عزت مانگی نہیں جاتی، بلکہ کردار سے حاصل کی جاتی ہے۔ احترام تقریروں سے نہیں بلکہ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام آج سیاست دانوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے ماضی اور کردار کو دیکھتے ہیں۔
اقبال کا شعر آج بھی سیاست کے ہر کردار کے لیے مشعل راہ ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
پاکستان کو بھی ایسے ہی دیدہ ور سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں، اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں اور محبت کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے قومی یکجہتی کا ذریعہ بنائیں۔
قومی اسمبلی کے اس دلچسپ مکالمے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ سیاست صرف تقریروں کا نام نہیں، بلکہ ذہانت، تحمل، بروقت جواب اور سیاسی بصیرت کا بھی امتحان ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی حاضر جوابی سے محفل لوٹ لی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے احترام کا اظہار کرکے سیاسی تعلقات کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اس پوری گفتگو نے یہ بھی یاد دلا دیا کہ پاکستانی سیاست میں ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک پیغام اور ہر محبت کے پیچھے ایک مصلحت ضرور موجود ہوتی ہے۔
وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ یہ محبت سیاسی استحکام کا پیش خیمہ بنتی ہے یا پھر محض حالات کی مجبوری ثابت ہوتی ہے۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاست میں قدم بوسی سے زیادہ اہم کردار کی مضبوطی، اصولوں کی پاسداری اور عوام کے اعتماد کی حفاظت ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی سیاست دان کو تاریخ میں باوقار مقام عطا کرتا ہے، باقی اقتدار، اتحاد اور سیاسی موسم تو آتے جاتے رہتے ہیں۔
جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہے، لیکن اختلاف اگر برداشت، شائستگی اور سیاسی بلوغت کے دائرے میں رہے تو وہ قومی استحکام کا باعث بنتا ہے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والی یہ دلچسپ گفتگو بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ سیاست صرف تلخ بیانات، الزامات اور محاذ آرائی کا نام نہیں، بلکہ برجستگی، ظرف اور برداشت بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم اس خوشگوار ماحول کے باوجود سیاست دانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قوم ان کے جملوں سے زیادہ ان کے فیصلوں اور عملی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے۔
آج پاکستان کو جن معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل محض خوش اخلاقی یا وقتی سیاسی قربتوں میں نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، اصولی سیاست اور عوامی مسائل کے عملی حل میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے احترام کو محض الفاظ تک محدود نہ رکھیں ،بلکہ قومی معاملات میں بھی باہمی اعتماد اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ یہی طرزِ عمل جمہوری نظام کو مضبوط اور عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی حاضر جوابی سے یہ ثابت کیا کہ سیاست میں ذہانت اور تحمل ایک مضبوط ہتھیار ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے احترام کے اظہار سے سیاسی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ احترام عملی سیاست میں بھی برقرار رہتا ہے یا آنے والے دنوں میں سیاسی ضرورتوں کے ساتھ لہجے بھی بدل جاتے ہیں۔ کیونکہ پاکستانی سیاست کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ یہاں مستقل چیز اگر کوئی ہے تو وہ عوام کی توقعات ہیں، جو ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت سے یکساں وابستہ رہتی ہیں۔
سیاست دانوں کو یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر کردار دائمی۔ الفاظ وقتی داد تو سمیٹ سکتے ہیں، لیکن تاریخ ہمیشہ عمل، دیانت اور اصول پسندی کو یاد رکھتی ہے۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ذاتی تعلقات اور سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایسی سیاست کو فروغ دیا جائے جو قومی مفاد، جمہوری روایات اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو سیاست دانوں کو عزت بھی دیتا ہے اور قوموں کو استحکام بھی۔