(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
جن کی صحبت عذاب ہے
دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی آمد سے زیادہ ان کی رخصت باعثِ مسرت ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی موجودگی سے مجلس میں جان ڈال دیتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی آمد سے طبیعت بجھ جاتی ہے۔ کوئی بے موقع آ دھمکتا ہے؛ کوئی بیٹھ جائے تو اٹھنے کا نام نہیں لیتا؛ کوئی بے جا سوالات سے جان کھاتا ہے اور کوئی اپنی خوش گفتاری کے زعم میں دوسروں کا سکون غارت کیے جاتا ہے۔ طرہ یہ کہ ایسے لوگوں کو اپنی ثقالت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ عربی ادب میں اس قبیل کے لوگوں کو “ثُقَلاء” کہا گیا ہے اور انھی ناپسندیدہ کرداروں کی حکایات، مضحکہ خیز حرکتوں اور برجستہ جوابوں پر مشتمل ایک نہایت شگفتہ کتاب *الثُّقَلاء* ہے۔

اس کتاب کے مصنف *ابو بکر محمد بن خلف بن المرزبان المحوّلی البغدادی (وفات: 309ھ)* ہیں جو تیسری صدی ہجری کے ممتاز ادیب، اخباری اور صاحبِ تصانیف اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ بغداد کی علمی و ادبی فضا میں پروان چڑھے؛ انھیں تاریخ، حدیث، شعر اور اخبار و نوادر سے گہرا شغف تھا۔ زیرِ نظر کتاب میں انھوں نے محدثین، فقہا، ادبا، شعرا، خلفا اور عام لوگوں سے منسوب ایسے واقعات جمع کیے ہیں جن میں انسانی طبیعتوں کی ناہمواری، معاشرتی بے سلیقگی اور آدابِ صحبت سے ناواقفیت اپنے تمام دل چسپ پہلوؤں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ امام اعمش، امام شعبی، سفیان ثوری، ہشیم بن بشیر، ابن المقفع، اصمعی اور مامون الرشید سمیت متعدد اہلِ علم و ادب کی حکایات اور حاضر جوابیاں اس مجموعے کا خاص سرمایہ ہیں۔ کہیں کسی ثقیل ملاقاتی سے جان چھڑانے کی دل چسپ تدبیر ہے؛ کہیں کسی بے محل سوال کا ایسا جواب کہ سوال کرنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ جائے اور کہیں طنز کا ایک مختصر فقرہ پوری انسانی شخصیت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

کتاب کا اصلی حسن اس کی بے ساختہ ظرافت، انسانی نفسیات کے لطیف مشاہدے اور معاشرتی رویوں کی دل چسپ تصویر کشی میں ہے۔ یہاں طنز محض ہنسانے کا وسیلہ نہیں، انسانی مزاج اور اجتماعی زندگی کی بعض کم زوریوں کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ مصنف کے ہاں ثقالت کا تعلق علم و جہل، دولت و افلاس یا منصب و مرتبے سے نہیں بل کہ طبیعت کی بے اعتدالی اور دوسروں کے احساسات سے بے خبری سے ہے۔ بعض حکایات میں شوخی کی کاٹ خاصی تیز ہے اور بعض میں ظرافت کے پردے سے معاشرتی آداب کی نہایت سنجیدہ حقیقت جھانکتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر اخبار و نوادر کا مجموعہ ہے، اس لیے اس کی تمام روایات کو یک ساں مستند تاریخی واقعات نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم عربی ادب کی ظریفانہ روایت اور انسانی کردار نگاری کے مطالعے میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے بعض واقعات پڑھ کر آدمی دوسروں کی بے سلیقگی پر ہنستا ہے اور بعض پر ہنستے ہنستے اپنے گریبان میں جھانکنے لگتا ہے۔ آخر ثقیل آدمی کی سب سے بڑی آزمایش یہی تو ہے کہ اسے اپنی ثقالت کا احساس نہیں ہوتا!

*کتاب کی دو عمدہ تحقیقی طباعتیں دست یاب ہیں:* پہلی، *ذم الثقلاء* کے نام سے ڈاکٹر محمد حسین الاعرجی کی تحقیق و تقدیم کے ساتھ *منشورات الجمل* سے 1999ء میں شایع ہوئی جو 136 صفحات پر مشتمل ہے۔

دوسری، *الثقلاء* کے عنوان سے ڈاکٹر محمد عبداللّٰہ قاسم کی تحقیق، تعلیق اور تقدیم کے ساتھ *دار البشائر، دمشق* سے 1440ھ/2019ء میں منظر عام پر آئی۔ اس میں ابن المرزبان کی ایک اور مستقل اور نہایت دل چسپ تصنیف *فضل الكلاب على كثير ممن لبس الثياب* بھی شامل ہے؛ یہ مشترکہ اشاعت 288 صفحات پر مشتمل ہے۔

دونوں محققین نے کتاب کے متن، مصنف کے احوال اور اس کے ادبی و تاریخی پس منظر پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔ اہلِ ذوق کے لیے یہ کتاب عربی ادب کی ایک ایسی ضیافت ہے جس میں ظرافت بھی ہے، بصیرت بھی اور انسانی طبیعتوں کے ایسے مرقعے بھی جو صدیاں گذرنے کے باوجود پرانے نہیں ہوئے۔

کالم نگار : ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
| | |
95