(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
عبداللّٰہ بٹ: ایک فراموش شدہ صحافی ادیب کی بازیافت
اردو صحافت اور ادب کی تاریخ میں بعض نام اپنے عہد میں پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر نظر آتے ہیں مگر وقت کی دھول رفتہ رفتہ انھیں نئی نسل کی نگاہوں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ *عبداللّٰہ بٹ (1914ء۔1968ء)* بھی ایسے ہی صاحبِ قلم تھے۔ لاہور کے علمی و ادبی ماحول میں ان کی شخصیت بڑی معروف تھی؛ صحافت ان کا میدان تھا مگر تاریخ، سیاست، ادب، شخصیت نگاری اور ترجمے سے بھی ان کا گہرا تعلق تھا۔ تحریکِ آزادی کے بڑے کرداروں سے انھیں خاص شغف اور قومی زندگی کی ان شخصیات کو وہ خصوصاً اپنی تحریروں کا موضوع بناتے تھے جن میں جرأت، حریت اور فکری استقلال کا کوئی نمایاں وصف دکھائی دیتا تھا۔

حال ہی میں *مجموعہ عبداللّٰہ بٹ* کے نام سے ان کا علمی و ادبی سرمایہ چار ضخیم جلدوں میں یک جا شایع ہوا ہے۔ *محمد زکریا رفیق اور کاشف الرحمن سیف نے اس کی جمع و ترتیب* کا کام کیا ہے اور کتاب سرائے، اردو بازار، لاہور نے اسے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت سے صرف یہ نہیں ہوا کہ اس میں ایک پرانے مصنف کی کتابیں دوبارہ چھاپ دی گئی ہیں، اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ بکھری ہوئی کتابوں، پرانے رسائل، اخبارات اور یادگاری تحریروں سے ایک ایسے قلم کار کا نقش دوبارہ ابھارا گیا ہے جو اپنے عہد میں خاصا نمایاں تھا لیکن بعد کی نسلوں کے حافظے سے قریب قریب نکل چکا تھا۔

عبداللّٰہ بٹ کی تحریری زندگی خاصی متنوع تھی۔ ان کی معروف تصنیف *یادگارِ زمانہ ہیں یہ لوگ* اپنے عہد کی اہم شخصیات اور سیاسی و فکری فضا کا پتا دیتی ہے۔ *مولانا ابوالکلام آزاد سے ان کی وابستگی* ایک مستقل علمی نسبت کی صورت اختیار کر گئی تھی؛ چناں چہ مولانا آزاد کی شخصیت، افکار اور تحریروں سے متعلق ان کا مرتب کردہ سرمایہ خاصا وقیع ہے۔ *ٹیپو سلطان، شاہ اسماعیل شہید اور جمال الدین افغانی بھی ان کے مطالعے کے اہم موضوعات* رہے۔ دوسری طرف “صاحب اور مذہب”، “بابو اور مزدور” اور “راجہ اور کسان” جیسے تراجم سے اندازہ ہوتا ہے وہ ہندوستان کی مذہبی، معاشرتی اور معاشی تبدیلیوں پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے۔ ان کی نگارشات میں سوانح، تاریخ، سیاست، ادب، ظرافت اور سماجی مطالعہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

*چار جلدوں پر مشتمل اس مجموعے کے مشمولات* خاصے متنوع ہیں۔

پہلی جلد کا آغاز *پیارے عبداللّٰہ بٹ* سے ہوتا ہے جو خود عبداللّٰہ بٹ کی تصنیف نہیں بل کہ ان کی شخصیت اور یاد میں لکھی گئی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ ان کی وفات کے بعد *یہ مضامین ان کی صاحب زادی پروفیسر شاہدہ بٹ* نے جمع کیے تھے اور 1998ء میں پہلی بار اسی عنوان سے شایع ہوئے۔ اس میں انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، وارث میر، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، جمیل الزمان اور دوسرے اہلِ قلم کی یادداشتیں اور تاثرات شامل ہیں، جن سے عبداللّٰہ بٹ کی شخصیت، ادبی و صحافتی زندگی اور اپنے معاصرین سے ان کے تعلقات کا نہایت زندہ نقش سامنے آتا ہے۔ موجودہ مرتبین نے اس مجموعے کو مزید اضافوں اور اصلاحات کے ساتھ نئی ترتیب دی ہے۔

اس کے بعد چاروں جلدوں میں عبداللّٰہ بٹ کی اپنی تصانیف، مرتبہ کتابیں، تراجم، ادبی و صحافتی مضامین اور مختلف اخبارات و جرائد میں بکھری ہوئی تحریریں یک جا کر دی گئی ہیں؛ یوں یہ اشاعت ان کے قلمی سرمایے کے ساتھ ان کی شخصیت اور عہد کا بھی خاصا جامع تعارف بن گئی ہے۔

*پہلی جلد* میں عبداللّٰہ بٹ کی کتابیں “ٹیپو سلطان”، “شاہ اسماعیل شہید” اور “جمال الدین افغانی” شامل ہیں۔

*دوسری جلد* مکمل طور پر ابوالکلامیات کے ایک اہم گوشے کو سامنے لاتی ہے: “ابوالکلام آزاد”، “مضامین آزاد” اور “مقالات آزاد”۔

*تیسری جلد* میں “یادگارِ زمانہ ہیں یہ لوگ”، “ہندی کے مسلمان شعراء”، “حضرت کاشمیری کے منتخب اشعار”، “بزمِ لطائف”، “منے شہباز” اور “کرنٹ”، “اقدام” اور “حرف و حکایت” سے منتخب تحریریں جمع کی گئی ہیں۔

*چوتھی جلد* میں “ابوالکلام آزاد” کے مزید مضامین، “نہر سویز” اور “صاحب اور مذہب”، “بابو اور مزدور”، “راجہ اور کسان” جیسے تراجم کو جگہ دی گئی ہے۔

اس طرح *چار جلدوں میں اٹھارہ کتابیں اور مجموعے* ایک جگہ آ گئے ہیں۔

*عبداللّٰہ بٹ کی اصل پہچان بہ ہر حال صحافت* تھی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے صحافتی سرگرمیوں میں شریک ہوئے؛ بعد میں مختلف اخبارات سے وابستہ رہے، “اقدام” میں لکھا اور پھر اپنا علمی، ادبی اور ثقافتی ماہنامہ *حرف و حکایت* جاری کیا۔ ان کی صحافت محض روزمرہ واقعات کی روداد نہیں تھی؛ اس میں اپنے عہد کی شخصیات کا مشاہدہ، سیاست کا شعور، تاریخ کی آگہی اور ادب کی چاشنی بھی شامل تھی۔ اسی لیے ان کی پرانی صحافتی تحریریں آج صرف اخبار نویسی کے نمونے سے بڑھ کر بیسویں صدی کے وسط کی ذہنی اور سماجی فضا کو سمجھنے کا ذریعہ ہیں۔

خواجہ محمد زکریا نے اپنے دیباچے میں بجا طور پر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ عبداللّٰہ بٹ اپنے زمانے میں ادبی و صحافتی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت تھے مگر نسبتاً کم عمر زندگی اور وقت کے فاصلے نے ان کا نام نئی نسل کے لیے اجنبی بنا دیا۔ اس بنا پر *مجموعہ عبداللّٰہ بٹ* ایک مصنف کی کتابوں کی بازیافت ہی نہیں، اردو صحافت، ابوالکلامیات، تحریکِ آزادی اور لاہور کی ادبی زندگی کے ایک بھولے ہوئے گوشے کی بازیافت بھی ہے۔ مرتبین نے ایک منتشر سرمایے کو جمع کر کے نہ صرف عبداللّٰہ بٹ کے ساتھ انصاف کیا ہے بل کہ ہماری ادبی و صحافتی تاریخ کا ایک قابلِ ذکر حوالہ بھی محفوظ کر دیا ہے۔

چار مجلدات پر مشتمل *یہ قیمتی مجموعہ مجھے محترم ڈاکٹر حافظ محمد سجاد صاحب، صدر شعبۂ فکرِ اسلامی نے عنایت* فرمایا ہے۔ اس علمی تحفے پر میں ان کا تہِ دل سے ممنون ہوں۔ یوں کہیے کہ انھوں نے ایک کتاب نہیں دی بل کہ ایک طویل مدت کے لیے مطالعے اور فکری غذا کا سامان فراہم کر دیا ہے۔ اب ان جلدوں سے آہستہ آہستہ ملاقات رہے گی اور جہاں کوئی قابلِ ذکر تحریر، شخصیت یا علمی نکتہ سامنے آیا، اسے اہلِ ذوق کے ساتھ بھی بانٹنے کی کوشش ہو گی۔یہ چار جلدی مجموعہ کتاب سرائے، اردو بازار، لاہور سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
| | |
71