اسلامی تہذیب اور اخلاقیات میں استاد کو والدین کے بعد سب سے بلند مقام حاصل ہے۔ والدین انسان کو ظاہری وجود دینے کا باعث ہیں اور دنیا میں لانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ استاد انسان کی روح، فکر اور اخلاق کی تربیت کرتا ہے اور اسے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین نے استاد کا مرتبہ والد سے بھی بڑھ کر قرار دیا ہے، کیونکہ والد عارضی زندگی کا سبب ہے جبکہ استاد ابدی اور روحانی کامیابی کا وسیلہ ہے۔
1. قرآنِ کریم کی روشنی میں معلم اور استاد کا مقام:
قرآنِ کریم میں علم اور معلم کو انتہائی رفعت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد تعلیمِ کتاب و حکمت قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:*"جیسا کہ ہم نے تم میں تمہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیات پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔" (سورۃ البقرۃ: 151)*
ایک اور مقام پر علم والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:*"کہہ دیجئے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (سورۃ الزمر: 9)*
2. احادیثِ مبارکہ میں استاد کی عظمت:
رسول اللہ ﷺ نے خود کو معلم کی حیثیت سے متعارف کروایا۔*آپ ﷺ نے فرمایا: "بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔" (سنن ابن ماجہ)*
*ایک اور حدیث میں فرمایا: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔" (صحیح بخاری)*
*اور استاد کے احترام کے بارے میں فرمایا: "اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں جو ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے۔" (مسند احمد)*
3. بزرگانِ دین کا ادبِ اساتذہ و معلمین :
اسلامی تاریخ اساتذہ کے ادب کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔*حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا اس نے مجھے غلام بنا لیا۔ چاہے وہ مجھے بیچ دے، چاہے آزاد کر دے۔"**امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اپنے استاد حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ فرماتے تھے: "جب سے میرے استاد کا انتقال ہوا ہے میں نے کبھی ایسی نماز نہیں پڑھی جس میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے لیے مغفرت کی دعا نہ کی ہو۔"*
خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے بیٹوں کے استاد امام اصمعی رحمہ اللہ کے وضو کے لیے پانی کا برتن خود اپنے ہاتھوں سے پیش کیا۔ یہ دیکھ کر امام اصمعی نے فرمایا تھا کہ میں نے آپ کے بچوں کو ادب سکھانا تھا مگر آپ نے تو اس سے بھی بڑا ادب سکھا دیا۔
4. استاد اور معلم کی قدر کرنے کے فوائد:
1. علم میں برکت: باادب شاگرد کے علم میں اللہ تعالیٰ نافع برکت عطا فرماتا ہے۔
2. کامیابی کی ضمانت: استاد کی دعا طالب علم کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
3. اخلاقی تربیت: باادب طالب علم معاشرے کا بہترین انسان بنتا ہے۔
4. روحانی سکون: استاد کی خوشنودی سے دل کو سکون اور زندگی کو استقامت ملتی ہے۔
5. استاد اور معلم کی بے قدری کے نقصانات:
آج معاشرتی زوال کی بڑی وجہ اساتذہ کے احترام میں کمی ہے۔
1. بے ادب شخص ڈگریاں تو لے لیتا ہے لیکن علم کی حقیقی روح سے محروم رہتا ہے۔
2. بے ادبی سے علم کی برکت ختم ہو جاتی ہے اور تعلیم محض کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔
3. جس نے اپنے استاد کی توہین کی وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوا۔
4. اساتذہ کی ناقدری سے پوری نسل اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتی ہے۔
خلاصہ کلام:
استاد صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی تعمیر کرنے والی شخصیت کا نام ہے۔ وہ شمع کی مانند خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ اس لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی قدر کریں، ان کے سامنے عاجزی اختیار کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور زندگی کے ہر موڑ پر ان کا احترام کریں۔ یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔اللہ تعالیٰ ھمیں معلمین سے استفادہ اور ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین!