(+92) 319 4080233
کالم نگار

صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے قدغن
اسلامی دنیا کے معروف علما اور مفکرین کی کتابوں سے متعلق ایک مبینہ فہرست نے علمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹی مدینہ سے منسوب ایک دستاویز کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس میں 100 مصنفین کے نام شامل ہیں، جن کی کتابوں کو یونیورسٹی کی لائبریری میں ممنوعہ فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس فہرست میں برصغیر، عرب دنیا اور دیگر مسلم معاشروں کی متعدد معروف علمی و فکری شخصیات شامل بتائی گئی ہیں۔

کن معروف شخصیات کے نام شامل ہیں؟:
مراکش کی ویب سائٹ ’’ہویہ پریس‘‘ کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، سعودی محقق اور انسانی حقوق کے کارکن عبداللہ العودہ نے سوشل میڈیا پر دو صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شیئر کی، جسے اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے شعبۂ لائبریری امور کی تکنیکی اکائی سے منسوب کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، فہرست میں پاکستان کے معروف اسلامی مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مصر کے سید قطب اور حسن البنا، معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی اور برصغیر کے عالم مولانا ابوالحسن علی ندوی کے نام شامل ہیں۔

اس کے علاوہ طارق رمضان، سلمان العودہ، محمد العریفی، مالک بن نبی، محمد الغزالی اور دیگر متعدد مصنفین کے نام بھی رپورٹ میں درج کیے گئے ہیں۔

فہرست میں صرف ایک فکری یا مذہبی رجحان سے وابستہ شخصیات شامل نہیں بتائی گئیں، بلکہ مختلف علمی، فقہی، دعوتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

کیا کتابوں کے حوالے دینا بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے؟:
اس معاملے میں سب سے اہم سوال پابندی کی اصل نوعیت کا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں دستاویز کو مصنفین کی ممنوعہ فہرست قرار دیا گیا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ طلبہ اور محققین کو ان مصنفین کے حوالے دینے یا ان کی کتابوں پر علمی تحقیق کرنے سے بھی مکمل طور پر روک دیا گیا ہے، فی الحال دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

کتابوں کو لائبریری میں رکھنے، انہیں طلبہ کے لیے جاری کرنے، ان کی خریداری یا تقسیم پر پابندی اور علمی تحریروں میں ان کا حوالہ دینے پر پابندی الگ الگ معاملات ہیں۔ ان کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے اصل مراسلے کی مکمل عبارت اور یونیورسٹی کی باضابطہ وضاحت ضروری ہے۔

فہرست میں ناموں کا اعادہ بھی سامنے آیا:
ہویہ پریس کی رپورٹ کے مطابق، مبینہ دستاویز میں بعض نام ایک سے زیادہ مرتبہ درج ہیں۔ مثال کے طور پر سلمان العودہ کا نام دو مختلف نمبروں پر درج بتایا گیا ہے۔ اس تفصیل نے دستاویز کی تیاری اور فہرست مرتب کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔

تاہم، محض فہرست میں کسی نام کی موجودگی سے اس شخص کے تمام علمی کام، تمام کتابوں یا ہر موضوع پر اس کے مؤقف کے بارے میں کوئی عمومی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

علمی آزادی اور لائبریریوں کا کردار:
یہ معاملہ ایک وسیع تر علمی سوال بھی سامنے لاتا ہے: جامعات میں مختلف فکری مکاتبِ فکر کی کتابوں تک رسائی کی حدود کیا ہونی چاہییں؟ علمی تحقیق میں مختلف مصنفین کے نظریات کو پڑھنا، ان کا تنقیدی جائزہ لینا اور شواہد کی بنیاد پر ان سے اختلاف یا اتفاق کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اگر کسی ادارے میں کتابوں کی دستیابی محدود کی جاتی ہے تو اس کے قواعد، وجوہات اور دائرۂ اطلاق کی وضاحت ضروری ہے، تاکہ طلبہ اور محققین کو معلوم ہو سکے کہ پابندی کن کتابوں، کن مقاصد اور کن سرگرمیوں پر لاگو ہوتی ہے۔فی الحال اس خبر کا بنیادی نکتہ ایک مبینہ فہرست کا سامنے آنا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے اصل مراسلے کی تصدیق، پابندی کی واضح نوعیت اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق باضابطہ معلومات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کے دائرۂ کار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔

کالم نگار : صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
| | |
108