(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
فنِ خطابت: اہمیت، حسنِ بیان اور اس کے آداب
کائنات کے کارخانے میں جب ربِ کریم نے انسان کو تخلیق فرمایا تو اسے اپنی تمام مخلوقات میں امتیاز اور شرفِ اولویت سے نوازا۔ انسان کی اس عظمت و رفعت کی سب سے بڑی بنیاد یہ ہے کہ اسے اس کائنات میں اﷲ تعالیٰ کا نائب بنا کر بھیجا گیا۔ ﷲ تعالیٰ کی دین کی سربلندی اور اس کے کلمے کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے، تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بندگانِ خدا کو ﷲ تعالیٰ کے دین کے ساتھ جوڑنا اور اسلام کی نشرو اشاعت میں اساسی کردار ادا کرنا صرف علماء کرام کی نھی بلکہ ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے.

تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی وساطت سے جو دعوت و ارشاد کا سلسلہ شروع ہوا، اس کا بنیادی مقصد مردہ قلوب کو حیاتِ جاوداں بخشنا، غیر آباد اور غافل دلوں کو محبت و الفت، عظمت و خشیتِ الٰہی سے سرشار کرنا تھا۔ یہی دعوتِ دین اسلام کی اصل بنیاد ہے، جسے ہر دور میں زندہ رکھنے اور تروتازہ رکھنے کے لیے موثر ابلاغ کی ضرورت رہی ہے.

معہد الایمان کا روشن باب: تقریری مقابلے کا پس منظر:
دعوتِ حق کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور نوجوان نسل میں جوہرِ خطابت کو بیدار کرنے کے لیے علمی و تربیتی اداروں کا کردار ہمیشہ سےریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مقصدِ جلیل کی ترویج کے لیے "معہد الایمان" میں ایک عظیم الشان تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و ادبی کاوش کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ طلبہ کے اندر خطابت کا جوہر نکھر کر سامنے آئے، وہ اس فانی دنیا میں بہترین انداز سے دینِ مبین کی دعوت عام کر سکیں، اور امتِ مسلمہ کے عقائد، اعمال اور اخلاق کی درست سمت میں اصلاح کی فضا قائم کر سکیں.

تقریر کا حسن اور اس کے تقاضے:
خطابت صرف الفاظ کا تپتا ہوا سمندر یا بلند آہنگ نعرہ بازی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دلوں کو مسخر کرنے اور افکار کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا ایک فن ہے۔ ایک بہترین مقرر بننے اور اپنے پیغام کو موثر انداز میں دلوں تک اتارنے کے لیے چند بنیادی اصولوں اور آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنا ناگزیر ہے:

معلومات اور مواد کا استحکام:
کسی بھی اچھی تقریر کی جان اس کا پختہ مواد ہوتا ہے۔ خطاب کے آغاز میں قرآنِ پاک کی آیات، احادیثِ مبارکہ اور خوبصورت اشعار کو موضوع کے مطابق پرویا جائے تاکہ بات میں وزن پیدا ہو.

شگفتہ آغاز:
گفتگو کا آغاز ہمیشہ پرکشش اور دلنشین انداز میں ہونا چاہیے تاکہ سامعین کی توجہ شروع ہی سے مرکوز ہو جائے.نیز مواد کی مضبوطی اور حسن اختتام،نمبرات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

موقع محل کی مناسبت اور اشارات:
دورانِ گفتگو ہاتھ کے اشارے اور حرکات موضوع کے عین مطابق ہونی چاہئیں۔ سامعین کی ذہنی سطح اور ذوق کا خیال رکھنا بھی ایک کامیاب مقرر کی علامت ہے۔

نگاہوں کا توازن:
خطاب کے دوران نظر کو کسی ایک سمت یا خاص شخص پر مرکوز نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ہال یا مجمع میں موجود تمام سامعین پر برابر نگاہ ڈالی جائے تاکہ ہر فرد یہ محسوس کرے کہ مقرر براہِ راست اسی سے مخاطب ہے۔ یاد رکھیں کہ بعض طلبہ آنکھیں بند کرتے ہیں جو ایک غیر شائستہ انداز ھے،،نیز جذبات میں آکر مائک سے منہ موڑنا نمبرات میں نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

لب و لہجہ اور وقار:
مقرر کا لہجہ سامعین کے لیے دلکش اور پُر اثر ہونا چاہیے،عربی بیان عربی لہجہ میں اور اردو بیان اُردو لہجہ میں ھو۔ دورانِ خطاب چہرے پر بشاشت اور مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہوں، البتہ سنجیدہ مقامات پر سنجیدگی کو برقرار رکھا جائے۔

زبانی روانی اور وقت کی پابندی:
تقریر کو رٹا رٹایا طوطے کی طرح پڑھنے کے بجائے برجستہ اور طبعی انداز میں پیش کیا جائے۔ عربی عبارات کو اردو قالب میں ڈھالتے وقت تلفظ کی صحت کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وقت کی پابندی اس فن کا سب سے اہم زیور ہے.

اعتدال اور متوازن رویہ:
دورانِ خطاب حرکات و سکنات میں درمیانہ روی اور اعتدال ہونا چاہیے۔ لباس اور حلیے میں بھی شائستگی جھلکنی چاہیے، اور اشیاء یا مسودے پر حد سے زیادہ انحصار یا گھبراہٹ سے گریز کرنا چاہیے تاکہ مقرر کا وقار برقرار رہے.بیان سے پہلے گرم پانی ،مسواک اور نمک کا استعمال مفید رہے گا۔

حرف آخر:
فنِ خطابت دراصل قلم اور زبان کا ایسا حسین امتزاج ہے جو سوئی ہوئی قوموں میں بیداری کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ معہد الایمان کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایسے علمی مقابلے درحقیقت اسی چنگاری کو ہوا دینے کا ذریعہ ہیں جو آگے چل کر ایک روشن چراغ بن کر اندھیروں کو مٹاتی ہے۔ جب حسنِ بیان، اخلاصِ نیت اور آدابِ خطابت کا یہ جوہر باہم مل جاتے ہیں، تو الفاظ صرف آواز نہیں رہتے بلکہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جانے والا ایک مستقل پیغام بن جاتے ہیں۔،بلکہ بعض دفعہ تو جادوئ اثر رکھتے ہیں اس لیے تو فرمایا،،ان من البیان لسحرا،،،اللہ تعالیٰ تمام نونہالوں کو بہتر انداز میں اظہار ما فی الضمیر کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین !

کالم نگار : مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
| | |
97