(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
اساتذہ تعلیمی اداروں کا اصل اثاثہ
اساتذہ کے بغیر تعلیم ادھوری ہے، اور تعلیم کے بغیر قوم کی ترقی ناممکن ہے۔

آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں خواہ مدرسہ ھو یاسکول سب سے پہلے استاد کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ جب استاد مضبوط ہوگا تو ادارہ مضبوط ہوگا، اور جب ادارہ مضبوط ہوگا تو قوم مضبوط ہوگی اور بچوں کا مستقبل روشن ھوگا،

کسی بھی قوم کی ترقی کا خواب اینٹوں اور سیمنٹ سے نہیں بنتا۔ وہ بنتا ہے ایک استاد کی آواز سے، اس کی نیت سے، اس کی ھمت اور یکسوئی سے،اس کی محنت سے۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اچھا اسکول اچھی عمارت، بڑی دیواروں اور جدید سہولتوں سے بنتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: *کیا عمارتیں اور دیواریں مستقبل تراشتی ہیں؟

نہیں! یہ کام صرف اور صرف استاد کرتا ہے۔

*استاد اصل میں کیا کرتا ہے؟
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ تین بڑے کام کرتا ہے:

1. سوچ پیدا کرتا ہے: بچے کو صحیح اور مثبت سوچنا سکھاتا ہے۔

2. ذہن اور دماغ کھولتا ہے: علم کی روشنی سے بند ذہنوں کو کھولتا ہے۔

3. شخصیت بناتا ہے: کردار، اخلاق اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔قوم کے لئے ایک باوقار شہری، مخلص معلم،وفاداراور خیر خواہ رہبر تیار کرتا ھے،

*ہماری بدقسمتی:
آج ہمارے نظام میں استاد کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ اسے جن مشکلات کا سامنا ہے وہ یہ ہیں:

-کم تنخواہیں،کم مراعات،

-غیر یقینی ماحول

-فیصلہ سازی میں عدم شمولیت- محدود ترقی کے مواقع

یاد رکھیں: ایک غیر مطمئن استاد کبھی مطمئن نسل تیار نہیں کر سکتا۔

*حل کیا ہے؟
اگر ہم واقعی قوم بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں استاد پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی:

1.اس کی مسلسل تدریب وتربیت کا انتظام کیا جائے۔

2.اس کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی جائے۔

3.اسے فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے۔

4.اس کی محنت کو سراہا جائے اور اسے اچھی سہولتیں دی جائیں۔

*خلاصہ:
عمارتیں بے جان ہوتی ہیں، نصاب کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے، ان میں جان استاد ڈالتا ہے۔ اسی لیے استاد کسی بھی تعلیمی ادارے کا سب سے قیمتی اور اصل اثاثہ ہے۔،،استاد کی قدر علم کی قدر ھے،،اللہ تعالیٰ استاد کو شمع کی طرح روشن رکھیں تاکہ نونہالوں کو بھی روشنی سے استفادہ کا موقع مل سکے.

کالم نگار : مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
| | |
118